Showing posts with label Deen ka tasawwur. Show all posts
Showing posts with label Deen ka tasawwur. Show all posts

Saturday, 2 August 2014

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح


حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

            حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے متعلق مورخین کے ادھورے بیان کی وجہ سے بہت سے لوگوں میں کئی قسم کی غلط فہمی پھیل چکی ہے جس کی وجہ سے اکثر اعتراض بھی کیاجاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس نکاح کے بارے میں صحیح تفصیل سے لوگ آگاہ ہوں۔
            حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کے والد اور ان کے شوہر دونوں اسلام کے دشمن تھے۔ یہودی قبائل جب مدینہ جنگ کرنے کی تیاری کررہے تھے تو اس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ خبر کی تصدیق کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے بھیجا ، معلوم کرنے پر خبر کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی مسلمانوں کے خلاف حملے کی تیاریاں ہورہی ہے۔ جواب میں مسلمانوں نے بھی تیاریاں کیں اور شعبان کی ابتداء میں ہی مسلمان فوج نے رستے میں ہی ان یہودیوں کو گرفتار کرلیا جو حملے کی تیاری کررہے تھے۔ ان یہود میں عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ( جنگ کے وقت اسلام میں صرف اُن عورتوں کو گرفتار کرنے کی اجازت ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں عملی حصہ لے رہے ہوں) یہود کی طرف سے مزاحمت کے نتیجے میں ایک مسلمان اور 11 یہودی مارے گئے۔ انہی میں ایک حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے شوہر بھی تھے۔ بہرحال حضرت جویریہ رضی اللہ عنہاگرفتار ہوئیں۔انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انھیں فدیہ (جرمانہ) کے بدلے آزاد کردیا جائے۔لیکن یہاں پھر ایک مسئلہ تھا کہ ان کے پاس رقم نہیں تھی۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں سردار ہوں، میری شان سے بالاتر ہے کہ میری بیٹی کنیز بنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خود جویریہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ والد نے جاکر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انھوں نے خود کہا کہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔چنانچہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہاکی خواہش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رقم خود ادا کردی اور انھیں آزادکردیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
اس نکاح سے یہ فائدہ ہوا کہ جتنے بھی لوگ غلام بنائے گئے تھے انھیں سب مسلمانوں نے اس بات سے آزاد کردیا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی وہ غلام نہیں ہونا چاہیے۔ 

Monday, 24 September 2012

راستے کے حقوق ۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں؟


راستے کے حقوق ۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں؟


اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے میں لوگوں کے درمیان محبت و الفت قائم رکھنے کے لیے کچھ معاشرتی تعلیمات دی ہیں ؛ جن پر عمل پیرا ہوکر ہم آپس میں محبت و اتفاق سے رہ سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک تعلیم یہ ہے مسلمان کسی بھی انسان کو اذیت و تکلیف نہ پہنچائے اور نہ ہی اس کا سبب بنے۔ بکثرت قرآنی آیات اور احادیث نبوی موجود ہیں جو کسی بھی انسان بالخصوص مسلمان کو اذیت و تکلیف پہنچانا سے سختی سے منع کرتی ہیں ۔اگر آپ قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ حسی و معنوی ، قول و فعلی کسی بھی شکل اور کسی بھی رنگ میں کسی کو بھی نقصان پہنچانے پر سخت وعید و تنبیہ آئی ہے۔
ہمارے ہاںیہ ایک عجیب طرزِ عمل بن گیا ہے کہ لوگ سڑکوں پر ٹینٹ (خیمے) لگا کر شادی، مہندی، مایو وغیرہ کرتے ہیں۔ربیع الاوّل آتے ہیں ہر گلی سڑک پہ خیمے نظر آتے ہیں جہاں محفل سجی ہوئی ہوتی ہیں اور بعض مذہبی جماعتیں خود یہ محفل میلاد، قراء ت اور دیگر مذہبی محافل منعقد کرواتی ہیں جس کا اہتمام سڑکوں پر ہوتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ان محفلوں صرف عوام ہی نہیں بلکہ بعض ’’ علماء‘‘ بھی شریک ہوتے ہیں اور گھنٹوں مذہب اسلام پر تقریر کرکے جاتے ہیں قطع نظر اس سے کہ اس طرح سڑکوں پر محفل منعقد کرنے کے بارے میں اسلام کا کیا نقطۂ نظرہے۔
اسلام نے انسانوں کو جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کے متعلق احکام دیے وہیں ہمیں اس بات سے بھی جاہل نہیں رکھا کہ ہمیں بحیثیت ایک مسلمان شہری معاشرے میں کس طرح رہنا چاہیے ۔ اسلام نے انسان کی اپنی ذات کے حقوق بھی بتلائے تو پھر گھر کے حقوق بھی بتائے۔ ان سب کے بعد اسلام گھر سے باہر کے معاملات میں کے متعلق حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرتا بلکہ راستے کے حقوق کے تحفظ کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
’’ راستوں میں بیٹھنے سے باز رہو ، اگر تم بیٹھنے سے باز نہیں رہ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو ۔ صحابہ نے عرض کیا ؛اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! راستے کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
نگاہیں جھکا کر رکھنا ، دوسروں کو اذیت نہ پہنچانا ، لوگوں کے سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم کرنا ، اور برائی سے روکنا ۔ ‘‘
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ خود سوچیں کہ اس بارے میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمارہے ہیں اور ہم لوگ جو عشقِ رسول کا دعویٰ کرتے ہیں ہیں، کیا کررہے ہیں؟کس قدر شرم کا مقام ہے کہ ہم اسی دین کے نام پر سڑکیں بلاک کرکے دین کی تبلیغ کرتے ہیں جو اس حرکت سے ہمیں منع کرتا ہے؟ کیا یہ ہمارے لیے شرم کا مقام نہیں کہ جس نبی نے ہمیں لوگوں کو اذیت پہنچانے سے منع کیا، ہم اسی نبی کی میلاد پر اسی کی نافرمانی کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کردیتے ہیں، لاؤڈ سپیکر میں نصف شب تک نعتیں بجاتے رہتے ہیں۔ 
یاد رکھیں ! اسلام دین رحمت ہے، اس کی تبلیغ و اشاعت کسی کے لیے زحمت بناکر نہ کیجیے یہ عمل کسی بھی صورت میں آپ کے لیے باعث خیر نہیں ہوگا، اس تقریب میں چاہے تلاوت قرآن ہی کیوں نہ ہو رہی ہو اس میں آپ کی شرکت آپ کے لیے روزِ آخرنجات کا سبب نہیں ہوگی، بلکہ اس عمل سے محلے والوں کو ، راہ چلنے والوں کو جو تکلیف پہنچ رہی ہوگی وہ آپ کے لیے آخرت میں وبال بن جائے گا۔ ایسی محافل میں اہتمام کرنے والے اوراس میں شرکت کرنے والے دونوں پر ہی یہ وبال ہوگا۔ 

جس شخص پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لعنت ثابت ہوجائے پھر کیا اس کے لیے محشر میں کوئی شفاعت کی امید ہوسکتی ہے؟کچھ لوگ ۱۲ ربیع الاول کے دن جلوس نکالتے ہیں ؛ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ان جلوس کی سرپرستی کرنے والوں میں بعض ’’علماء‘‘ بھی شامل ہوتے ہیں ۔ ان جلوس کی وجہ سے اولا تو راستے بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو نقل و حرکت میں تکلیف پہنچتی ہے ، ایک مرکزی شاہراہ بند ہونے سے سارے شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ نیز لاؤڈ سپیکر کی آواز اور دیگر آلات وغیرہ سے بھی بزرگ اور بیماروں کو سخت اذیت ہوتی ہے اور ان کے آرام میں زبردست خلل پڑتا ہے حالانکہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا بہت گناہ کا کام ہے ۔ علمائے کرام نے کبھی اس قسم کے تقاریب کی تائید نہیں کی، بلکہ وہ خود اس سے منع کیا کرتے تھے۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:
’’محفلِ میلاد اور ہر قسم کا ذکر مبارک نہایت خلوص سے ہو کوئی حال بناوٹ پر نہ ہو، اور نہ کسی کی نیند خراب ہو اور نہ ہی کسی کی نماز میں خلل واقع ہو۔‘‘
(احکام شریعت: صفحہ ۱۷۴)
اپنے علمائے کرام کے نامکا دم بھرنے والے ہم مسلمان اپنے دل سے تو پوچھیں کہ ہم اس محفل کے وقت ہم کتنے لوگوں کی نیند خراب کررہے ہوتے ہیں ؟ کتنے بوڑھے ہیں جو بے چارے گولیاں کھاکر سوتے ہیں اور آپ کے لاؤڈ سپیکر کی ایک آواز سے ان کی آنکھ کھل جاتی ہے؟ ہماری وجہ سے کتنے طلباء کی پڑھائی میں خلل واقع ہورہا ہوتا ہے؟ کتنے لوگ عبادت میں مصروف ہوتے ہیں جو آپ کی وجہ سے عبادت نہیں کرپاتے۔ خدا کی قسم اسلام تو وہ دین ہے جو غیر مسلموں کے مذہبی حقوق کی بھی حفاظت کرتا ہے، انہیں اپنے مذہبی فرائض انجام دینے کی آزادی دیتا ہے اور ہم اسی دین کے ماننے والے مسلمانوں کی نماز میں خلل واقع کریں اور پھر اس حرکت پر جنت کی امید رکھیں؟
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اذان بھی تو لاؤڈ سپیکر پر ہوا کرتی ہے تو کیا ہم وہ بھی نہ دیں؟ سڑکوں پر روز سیاسی جلوس بھی تو نکالے جاتے ہیں تو کیا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سال میں ایک دن بھی جلوس نہیں نکال سکتے؟ 
ارے خدا کے بندوں! اذان بے وقت نہیں ہوتی، مقررہ وقت پر ہوتی ہے، نصف شب کو کبھی کوئی اذان نہیں ہوتی، سڑکوں پر سیاسی جلوس نکالے جاتے ہیں تو وہ بھی غلط ہے لیکن آپ کی مذہبی محفل سے دین کو نقصان پہنچتا ہے۔ کیا ہمارا دین اس طرح سے ہے کہ سڑکیں بلاک کرکے لوگوں کو اذیت دے کر آپ نبی صلی اللہ علیہ کا ذکر کرو؟ 
ہم لاکھوں روپیخرچ کرکے جناب اویس رضا قادری اور ان جیسے دیگر نعت خواں کو نعت پڑھنے کے لیے مدعو کرتے ہیں ، حیرت تو یہ ہے کہ ہم ان محفلوں میں بارہا انہی علماء کا نام لیتے نہیں تھکتے جوہمیں یہ کہتے ہیں کہ:
’’اجرت پر میلادکرانا جائز نہیں یہ بھی اس محفل کے آداب کے خلاف ہے۔‘‘
(احکام شریعت: صفحہ ۱۴۴)
کیا ہمارا یہ عمل منافقانہ نہیں ہے کہ ہم ایک طرف خود ان علماء کا نام لیوا اور عاشق کہلوائیں اور دوسری طرف انہی کی تعلیمات سے انکار کردیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ محافل خود محلے کے لوگ کرتے تو پھر اس سے ان کی وضامندی ثابت ہوگئی ۔ لیکن ذرا عقل سے کام لے کر سوچیں کیا واقعی سب لوگ آپ کی ان حرکتوں پر راضی ہوتے ہیں؟ کیا آپ کے محلے میں ایسا ایک بھی فرد نہیں جو اس سے پریشان ہو؟ کوئی بالغ فرد تو چھوڑ دیں اگر کوئی نومولود بچہ بھی سو رہا ہو تو اسے تکلیف نہیں ہوگی؟بالفرض تمام محلے والے بھی راضی ہیں تو آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرکے محفل کرنے سے ایسا نہیں ہوتا کہ راہ گزرنے والوں کو آپ کی وجہ سے اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑجاتا ہے؟ انہیں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی ذمہ داری یقیناًآپ پر ہی ہوگی۔ اپنے دل و دماغ کو ہر قسم کے تعصب سے پاک کرکے یہ حدیث پڑھیں اور خود فیصلہ کرلیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 جس نے مسلمانوں کو ان کے راستے میں ایذاء پہنچائی اس پر مسلمانوں کی لعنت ثابت ہوگئی۔ (طبرانی)
ذرا پھر سوچیں کہ کیا ہمارا یہ عمل منافقانہ نہیں کہ ہم عشق رسول کی محفل سجائیں، سیرت رسول کے جلسے کریں ، لیکن اسی محفل اور جلسے میں اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی دھجیاں بکھیر دیں۔ مجھے نعت اور سیرت کی ان محفلوں کے انعقاد سے قطعی کوئی اختلاف نہیں ہے ، بلاشبہ ایسی محفلیں سجانا ایمان کی دلیل ہے ،لیکن کیا ان کا اہتمام سیمینار ہال میں نہیں کیا جاسکتا؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو تکلیف دے کر ہی یہ کام کریں؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان سلامت رہیں 
(بخاری: کتاب الایمان) 
اب آپ خود اپنا یہ عمل محاسبہکیجئے کہ آپ اپنے ہاتھوں سے کس اذیت میں لوگوں کو مبتلا کررہے ہیں؟اپنے زبان سے لاؤڈ سپیکر پر نعت و قراء ت پڑھ پڑھ کر لوگوں کو کیا تکلیف پہنچا رہے ہیں؟خدارا ذرا سوچیے! اسلام ایک باوقار دین ہے ؛ اسلام کیسے کسی کو تکلیف دینے کی تعلیم دے سکتا ہے؟ اس کی یہ ہرگز تعلیم نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو تکلیف پہنچاکر اسلام کے گیت گائیں۔ لوگوں کو تکلیف پہنچا کر قراء ت کرنا بھی آپ کے لیے ثواب نہیں وبال ہوگا۔
ترمذی شریف میں سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اﷲعلیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا ، راستہ میں پڑاؤ ہوا تو لوگوں میں خیمے قریب قریب لگا لیے اور راستہ تنگ کردیا۔ اس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیج کر لوگوں کے درمیان اعلان کرایا کہ جو شخص راستہ میں تنگی پیدا کریگا یا راستہ کو کاٹے گا تو اس کا جہاد جہاد نہیں۔
اس واقعے کو بار بار پڑھیں، میرے خیال میں اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ، اس حدیث سے کس قدر واضح ہے کہ وہ معاملات جنہیں ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں کتنے سنگین ہوتے ہیں۔ جہاد کی فضیلت قرآن و حدیث میں بہت زیادہ وارد ہوئی ہے لیکن حقوق العباد کی بظاہر معمولی سی کوتاہی بھی اس عظیم عبادت کو غیر مقبول بناسکتی ہے۔ 
یہ روایت خاص ان مذہبی لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے جو سڑکوں پر رکاوٹیں ڈال کر محفل نعت و ذکر سجاتے ہیں اور اس گمان میں ہوتے ہیں انہیں بہت سا ثواب مل رہا ہوگا لیکن حقوق العباد میں لاپرواہی کرتے ہوئے لوگوں کو تکلیف دینا ، راستہ بند کرنا انکا سارا عمل برباد کردیتا ہے اور انکے لیے وہ عمل ثواب نہیں وبال بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب دین کی صحیح فہم عطا فرمائے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلائے۔
واخردعوانا ان الحمد اللہ رب العٰلمین

Monday, 30 April 2012

امت مسلمہ کا زوال اور ہمارا تصورِ دین





آج سے تقریباً ساڑے چودہ سو سال قبل جب سارا عالم بالخصوص عرب لامذہبیت، جہالت اور بے رہنمائی کے خطرناک دلدل میں دھنسا جارہا تھا ‘ جو طرزِ حیات گزشتہ نبیوں کے ذریعے ملا تھا، اور انہیں جو شریعت عطا کی گئیں تھیں ‘ لوگ اسے نفسانی خواہشات کے عوض تبدیل کرچکے تھے۔معاشرتی حالت یہ تھی کہ معمولی سی باتوں پر جنگ کرنا، جھوٹ، فریب، دغابازی، چوری ، ڈاکہ زنی، شراب نوشی، عورتوں ‘ بوڑھوں اور کمزوروں پر مظالم ڈھانا اور نومولود بچیوں کو زندہ دفن کردیا انکے عام مشاغل تھے۔ غرضکہ کہ تمام برائیاں انکا شیوہ بن چکی تھیں۔ جاہلیت، اخلاقی جرائم اور عقائد میں بگاڑکی وجہ سے نہ جانے کیا کیا برائیاں ساری دنیا میں رائج تھیں۔ اس وقت دنیا کی قیادت کسی ایک قوم کے ہاتھ نہیں تھی، ایک طرف پرشکوہ سلطنت روم تھی اور دوسری طرف فارس کی مجوسی ریاست ۔ البتہ ان سب میں بنی اسرائیل خاصے اختیار میں تھے ۔ گویا اس وقت دنیا کی امام بظاہر یہی قوم تھی، تاہم یہ قوم کسی بھی طرح اس منصب کے اہل نہیں تھی۔ دنیا کی دیگر اقوام کی طرح بنی اسرائیل بھی بے رہنمائی اور معاشرتی انحطاط کی شدید شکست و ریخت سے دوچار تھے۔
ایسے شکستہ حالات میں اﷲ تعالیٰ نے دنیا پر اپنا رحم و کرم فرمایا اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرماکرانہیں ایک معجزہ نما کتاب قرآن مجید عطا کی جس سے ابتدائی طور پر جزیرۂ عرب اور پھرتمام انسانیت میں کفر و جہالت کے اندھیرے ختم ہونے لگے۔ حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی الہامی تعلیمات کے ذریعے اہل عرب میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس کے نتیجے میں ایک نہیں، بلکہ کئی ایسے باکمال کردار تخلیق ہوئے جنکی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔اہل عرب اسلام کی روشنی سے منور ہوئے اور پھر اس شمع کو لیکر سارے جہاں پر چھا گئے اور اس روشنی کو دنیا کے ہر گوشے میں پھیلا دیا۔ حقیقی عشقِ رسول، خدا اور اسکے نبی کی اطاعت، احساس ذمہ داری، تقویٰ اور دین کے لیے محبت و جاں نثاری کا جذبہ ‘یہ وہ خصوصیات تھیں جو اس امت کا شیوہ رہی۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ترقی کی راہیں کھلتی رہیں اور ہر مسلمان ترقی کا مظہر ہوگیا۔ مسلمانان عالم ترقی کی اُس حد تک پہنچ گئے جسکی بلندی تاریخ بھی مکمل بیان کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ علم کی وہ شمع تھی جس سے راہ پاتے ہوئے انہوں نے ساری دنیا کو منور کیااور صدیوں تک دنیا پر حکومت کرتے رہے ۔ کسی قوم کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں سے ٹکڑائے۔ علم کے میدان میں ، جنگ کے میدان میں، مہارت و ہنر کے میدان میں، غرضکہ زندگی کے ہر شعبے میں کارنامے انجام دیے۔ یہ لوگ دین و دنیا کو بے مثال طریقے سے متوازی طور پر چلا رہے تھے ۔ وہ بیک وقت مسجد کے امام ، خطیب اور جنگ کے سپاہی بھی تھے اورعالم دین، سائنسدان، مجتہد، قاضی اور خلیفہ بھی ۔ 
بلاشبہ یہ خصوصیات صرف ایک قوم یا ریاست نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت کی قیادت کے لیے معیاری تھیں۔ چنانچہ انہی اوصاف کی وجہ سے مسلمان ایک طویل عرصہ تک دنیا کی قیادت کرتے رہے ۔ انہوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی‘ تمدنی و تہذیبی اور تمام سماجی معاملات کے منصفانہ اصول قوانین الٰہیہ کی روشنی میں مرتب کیے ۔ ان بندوں نے انسانی بنجر زمین کوسرسبز و شاداب کرنے لیے اپنی خون و پسینے کے دریا بہا دیے،اور مجموعی طور پر انسانی علم و عمل اور نظریہ و افکار کی اصلاح کی۔انہوں نے قانون الٰہی کے مطابق زندگی بسرکرکے کائنات کی تمام قوتوں مسخر کیا اور انکے ماحصل کو وحئ الٰہی کی روشنی میں عدل و اعتدال کے ساتھ ایسے نظام کی صورت میں قائم کیا جس میں تمام نوعِ انسانی کی کامیابی تھی، اپنے بازؤں میں ہدایت کا علم لیکر ساری دنیا میں لہرایا اور اخلاص کے زیور سے مزین ہو کر وہ کارنامے انجام دیے جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ ۔۔۔ جوں جوں دنیا میں ترقی ہوتی گئی اور دنیا مسلمانوں کے قدموں میں آگئی تو کافروں کے ساتھ مسلمان بھی اسکی بے اصل رنگینیوں میں ہی گم ہوتے گئے۔ اپنی تہذیب و ثقافت بھولتے گئے اور حکم الٰہی پر نفسانی خواہشات کو غالب کرنے کی کوشش کی جانے لگی‘ جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کو ماننے والے مسلمان تو بہت رہ گئے لیکن مومن نہیں۔وہ قوم جسکی عظمت و بلندی کی کوئی پیمائش نہ تھی، آہستہ آہستہ پستی کی جانب بڑھنے لگی۔ ساری دنیا کو تہذیب سکھانے والی قوم خود غیر مہذب ہو کر رہ گئی۔بد اعمالی، ناعقلی، جہالت، ہر برائی ان میں سمٹنے لگی۔ نہ اخلاق اچھے نہ عادات اچھی۔ نہ اتحاد نہ قوت ، ہر جانب اسلامی اتحاد و سلطنت کا زوال ہونے لگا اور رسوائی ہی رسوائی مسلمانوں کے نصیب بن گئی۔
ان سب منفی رحجانات کے باعث بالاآخر دیگر قوموں کی طرح مسلمانوں پر بھی زوال آگیا۔اوراب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مسلمان ہر جگہ رسوا ہیں اور قیادت کرنے والی امت محکوم و مغلوب ہر کر رہ گئی ہے ۔ اﷲ عزوجل کا وعدہ ہے کہ اگر ہم ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں تو اﷲ ہمیں عزت و وقار اور زمین کی خلافت عطا فرمائینگے۔ لیکن مسلمان تو اب بھی ایمان رکھتے ہیں‘ کافی تعداد میں نماز، روزہ ، حج و زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود حال یہ ہے کہ نہ خلافت حاصل ہے نہ دین کومستحکم کرنے کی کوئی صورت۔ نہ عزت و وقار حاصل ہے نہ کامرانی! نہ دین کو تمکن نصیب ہے نہ دشمنوں کو مغلوب کرنے کو کوئی ذریعہ ۔ہر جانب پستی ہی پستی ہے ۔ خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا تو باجود اپنے ایمان پر قائم رہنے کے ہم مسلسل پستی کی جانب کیوں چلے جارہے ہیں؟ ہمیں خلافت و وقار کیوں حاصل نہیں؟ دراصل واقعہ یہ ہے کہ ہم دین و ایمان کے جس پہلو کو اپنے ساتھ چپکائے ہوئے ہیں اسکی اہمیت قانونی ہے حقیقی نہیں۔ کسی حجرے کے کونے میں آگ کا شعلہ موجود ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ وہاں حرارت ہوگی۔ اگر حرارت نہیں ہے تو پھرحقیقت یہ ہے کہ اُس گوشے میں کچھ اور شے تو موجود ہو سکتی ہے لیکن آگ نہیں۔اسی طرح ہمارے دلوں میں آج ایمان ہے تو پھروہ جذبۂ جہاد، وہ اعلیٰ اخلاق، وہ خوفِ آخرت بھی ہونی چاہیے جو کبھی مسلمانوں کی پہچان تھی۔اگر ہمارے دلوں میں ایمان ہے پھر کیوں اسی دلوں میں اغیار کی محبت بھی رچی ہوئی ہے؟ ہم کیوں اسلامی نظام عدل کے بجائے ابلیسی نظام کے دلدادہ ہیں؟کیوں ہمارے بینک میں سود ی اکاؤنٹ کھلے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم سود کھاتے ہوئے‘ جھوت بولتے ہوے‘ ظلم کرتے ہوئے‘ فریب کرتے ہوئے اﷲ سے نہیں ڈرتے؟ اگر واقعی ایمان ہے تو پھر کہاں ہے جذبۂ اطاعت؟ کہاں ہے وہ عشق حقیقی جس نے بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لاکھوں ستم کے باوجود کلمۂ حق سے پھرنے نہیں دیا؟ کہاں ہے وہ حق گوئی‘ عجز و انکساری‘ عدل و انصاف کا جنون کہ جس نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر بن عبد العزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تاریخ اقوام کا مثالی حکمراں بنایا ؟ کہاں ہے وہ غیرت و حمیت جس نے قاسم کو ہندوستان فتح کرنے پر آمادہ کیا؟ یقیناًآج ہمارا ایمان سڑکوں پر، وال چاکنگ میں‘ جلسے جلوسوں میں اور نماز جمعہ میں تو نظر آجائیگا لیکن نظر نہیں آتا تو صرف ہمارے آنگن میں‘ ہماری محفلوں میں‘ ہماری ثقافت میں ‘ ہمارے اخلاق اور روزمرہ کے معاملات میں۔۔۔ کیا اسی ایمان کے عوض کامیابی کا وعدہ ہے ؟ بالکل نہیں۔ 
ذرا تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھیں کہ ہمارے اسلاف کیسے تھے ۔ہم نے یہ جاننے کی قطعی زحمت نہ کی کہ خلفائے راشدین ‘ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘ اور ہمارے اکابرین امت نے دین کو کس جامع انداز میں سمجھا اور اسلام کو مسجد و منبر سے آگے لیجاکر اپنی پوری زندگی پر حاوی کردیا۔ انہوں نے اپنی تہذیب کو فخریہ انداز میں اپنایا‘ اور سارے عالم میں اسکا ڈنکا بجایا۔ اپنے کردار کو پیغمبر خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اس طرح مزین کیا کہ دوسروں کے لیے نمونہ بن گئے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں حسب عہد خلافت بھی ملی ‘ عزت و کامرانی بھی نصیب ہوئی۔آج ہمارے سامنے انفرادی و اجتماعی سطح پر ہر طرح کے مسائل کا انبار لگا ہوا ہے ۔ان مسائل کا تعلق یقیناًہمارے ایمان و اعمال سے ہے ‘ لیکن ہم ان سب کے مادی اسباب تلاش کر رہے ہیں اور صرف شکایت اور احتجاج کا مجسمہ بنے ہوئے ہیں۔ ہم دنیا کے رنگ و رونق میں اس قدر مگن ہیں ہمیں اپنے دین کا صحیح فہم ہی حاصل نہیں ہے۔ دین کو مکمل طرزِ حیات سمجھنے کی ضرورت تھی اور ہم نے صرف طرزِ عبادت سمجھ کر نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ ہی اپنے ذمے لے لیے اور باقی دین کے معاملات بوجہ مصروفیت علماء کرام کے سپرد کردیے‘ اور خود کی زندگی میں اپنے دین کو بہت ہی محدود کردیا ہے ۔
اگر کوئی شخص خانقاہ میں ساری رات عبادت کرے اور صبح اپنی غریبی پر روئے‘ دن بھر روزہ رکھے لیکن لوگوں سے بداخلاقی کرتا پھرے،ہر سال ذالحج میں باقاعدگی سے حج ادا کرے اور سال بھر سود اور رشوت کھاتا پھرے ‘ ہر ماہ زکوٰۃ ادا کرتا رہے لیکن پڑوسیوں یا دیگر حقوق العباد میں کوتاہی کرے‘ تسبیح کے دانے تسلسل سے چلتے رہیں مگر زبان پر غیبت بھی جاری ہو تو یہ سب کسی بھی لحاظ سے ایمان کی موجودگی کی علامت نہیں۔ اس روش کے ذریعے خلافت ، عزت اور کامرانی نہیں مل سکتی‘ البتہ جہنم مل سکتی ہے! کیونکہ یہ تو وہ دین ہی نہیں ہے جسکی دعوت اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔دین میں تو صبر بھی اخلاق بھی ہے، کسب حلال بھی ہے اور حقوق العباد بھی۔ انکے بناء دین کا تصور ادھورا ہی نہیں بلکہ ناقص ہوجاتا ہے۔ دین کو صوم و صلوٰۃ ، حج و زکوٰۃ تک محدود کرنے کا نظریہ بالکل باطل ہے ۔ بلاشبہ یہ ضروریات دین ہیں‘ اور انکا اجر بہت ہی زیادہ ہے لیکن عبادت صرف خدا کے حضور پانچ وقت جھکنے‘ مال خرچ کرنے‘ اور دن کے مخصوص حصے میں بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو ساری زندگی اسکی رضا و خوشنودی کے لیے وقف کردینے کا نام ہے۔ ہم اﷲ کے ملازم نہیں ہیں کہ مخصوص اوقات میں ہی اسکی فرمانبرداری کریں بلکہ ہم تو اسکے عبد (غلام) ہیں ۔ ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کا ہے اور وہی ہمارا خالق اور ہماری جانوں کو مالک ہے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے چند لمحے کی عبادت کرکے خود کو آزاد سمجھ لیا ہے ۔ آج ہماری خستہ حالی کی وجہ ترکِ مذہب نہیں ترکِ دین ہے۔ وہ دین جو انسانی حیات سے وابستہ ہر معاملات میں رہنمائی کرتا ہے۔ ہماری زندگی کا محور یہی دین ہے جسکی بنیاد اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہے۔
اگر صرف روزہ نماز ہی دین ہوتا تو مسلمانوں کی اخلاقی تعلیم کیونکر ہوئی؟ اسے حرام خوری، جھوٹ، غیبت اور بداخلاقی سے کیوں روکا گیا؟ اسے کسب حلال اور حق گوئی کی تلقین کیوں کی گئی؟ آخر کیوں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کی حق تلفی کرنے والے کے ایمان کی نفی کردی؟ اس لیے کہ یہ سب بھی دین اسلام کے ہی جزیات ہیں۔ہم پر دین کے سب زاویے سے ‘چاہے وہ روحانی ہو یا مادّی و جسمانی، سیاسی ہو یا معاشی ، عالمی معاملات ہوں یا عائلی پہلو ‘ ہر ایک سے استفادہ کرنا لازم ہے ۔ اور پھر ہماری موجودہ حالت کا تو یہ شدت سے تقاضا ہے کہ ہم خلفاء راشدینؓ اور اکابرین امت کی زندگیوں کا مطالعہ کریں‘ اور ان کی طرح دین کو مکمل طور پر اخلاق، حق گوئی، کسب حلال، احساس جوابدہی، حقوق العباد، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کے ساتھ اپنی زندگی میں شامل کرلیں۔ کیونکہ دین و عبادت کے جامع تصور کی عدم موجودگی کے باعث ہم چاہتے ہوئے بھی تنزل کی اس تاریک گھاٹی سے نہیں نکل سکتے۔ جب تک ہماری ملت کے ایک ایک فرد میں یہ فکر پیدا نہیں ہوگی ‘ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا ناممکن ہے ۔ یاد رہے کہ بہترین قوم بہترین افراد سے ہی بنتی ہے ، لہٰذا اگر ہم واقعی پستی سے نکلنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہم میں سے ہر ایک پر یہ لازم ہے کہ دین کو صحیح معنوں میں سمجھے اور طبعی عبادات کے علاوہ اخلاقی قدروں پر بھی توجہ دے تاکہ ایسا ماحول میسر آسکے جس میں ہر فرد کو سکون حاصل ہو اور قوم کا ایک ایک فرد باکردار اور مثالی شخصیت بن کر اپنے دین و ملت اور معاشرے کی خدمت کرسکے اور اسے اپنا سابقہ مقامِ اعلیٰ پر دوبارہ پہنچاسکے۔ 

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کی صحیح فہم عطا فرمائے اور ہماری حالت زار پر رحم کرتے ہوئے ہمیں ہدایت دے۔



حافظ محمد شارق