Showing posts with label Hafiz Muhammad Shariq. Show all posts
Showing posts with label Hafiz Muhammad Shariq. Show all posts

Monday, 21 March 2016

www.mazahib.org




ABOUT US

The Center for Interfaith Research (CIR) is a forum dedicated to festering peace between people of different religion through research and education on world Religion. As well CIR is a noncommercial research center designed to serve the needs of students and scholars related to interfaith thoughts. A large database of articles and books on religions like Islam, Christianity, Hinduism, Judaism, Buddhism and Atheism.

Our Mission

The Center for Interfaith Research was established to promote values of peaceful interfaith coexistence and harmony among faith traditions with the aim of using research, dialogue, and practical initiatives.

Vision

  • We envision a plate where the people from all faiths contribute to promotion of Interfaith Peace Harmony.
  • Providing opportunities for dialogues, education and research.
  • Providing moral leadership on mutually agreed-upon issues.

Values

  • Responsible religious freedom
  • Mutual respect and acceptance
  • Interfaith Literacy
  • Communication and Dialogue
  • Interfaith Research

Wednesday, 18 November 2015

ویل ڈن مسٹر ۔۔۔

از عدیلہ کوکب (گجرات، پاکستان)

پاکستان جو اللہ کے نام پر اس کی خاطر بنایا گیا جب ہم اس کے بانی کو دیکھتے ہیں تو   "انگریزی سوٹ میں، گردن اونچی کیے، سیدھا بیٹھا ، منہ میں سگار لیے " ایک عام دنیادار ، مغربی لباس و لہجہ کا ایک شخص نظر آتا ہے۔ یہ مغربی لب و لہجہ کا حامل شخص اپنے اصولوں  ، اخلاقی تقاضوں، ذہانت اور امانت داری میں سب سے آگے کھڑا نظر آتا ہے۔ کہ بے اختیار دل اس کی خوبیوں کو سراہتے ہوئے کہتا ہے "ویل ڈن مسٹر۔۔۔"۔
اصولوں میں اس قدر سخت کہ موکل  کی پیش کردہ رقم یہ کہہ کر لوٹا دی کہ "فیس اپنے وقت کے حساب سے لیتا ہوں ، ایک گھنٹہ لگے یا تیس دن، کام مکمل ہونے پر آپ کے پاس میرا بل پہنچ جائے گا۔ موکل کے اندازوں کے برعکس اس کا کام چند گھنٹوں میں مکمل ہو گیا  ۔ جس پر موکل نے زیادہ رقم دینے پر اصرار بھی کیا مگر جناح  نے صرف  وقت کے حساب سے اپنی فیس وصول کی۔
اگر بات ہو امانت داری کی تو  ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بارجناح اپنے موکل کی طرف سے کیس لڑنے آگرہ آئے وہاں کے مسلمانوں کو علم ہوا تو انہوں نے جناح کو زور دیا کہ وہ آئے ہوئے ہیں تو جلسہ کرلیں اور مسلمانانِ آگرہ سے خطاب کریں مگر  جناح نے نہایت شائستگی سے جواب دیا  : "میں یہاں ایک کیس کے سلسلے میں آیا ہوں۔ میرے موکل نے مجھے اس کی فیس دی ہے۔ اگر آپ جلسہ کروانا چاہتے ہیں تو میرے واپس جانے کے بعد کسی دن جلسہ رکھ لیں اور مجھے بلا لیں میں اپنے خرچہ پر آؤں گا ۔
اگر بات کرتے ہیں خوف الہی کی   تو دیکھتے ہیں کہ جناح  اکیلے میں اللہ کے آگے سجدہ ریز ہیں اور خدا کے خوف سے بے پناہ  ، زارو قطار روئے جا رہے ہیں۔ اللہ کے آگے جوابدہ ہونے کا اس قدر خیال کے ہر وقت ذہن میں خدا کو رکھتے اور کہتے "جب میں اللہ کے ہاں جاؤں تو وہ کہے  ، اے محمد علی! تم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے، مسلمان کی طرح جیئے اور مسلمان کی طرح مرے"۔
اللہ سے خوف کے ساتھ ساتھ جناح کو اللہ سے محبت بھی تھی اور عقیدت بھی۔ ایک بار کسی نے پوچھا کہ :
مسٹر جناح آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟
جناح نے فورا جواب دیا: "اس لیے کہ میں چاہتا ہوں جب میں اللہ کے حضور جاؤں تو اللہ مجھے فخر سے کہے  ویل ڈن مسٹر جناح"۔
ذہانت و دور اندیشی کی بات آتی ہے تو دیکھتے ہیں  کہ  جناح کو جھکانے کے لیے آپ کا عدسہ جان بوجھ کر گرا دیا جاتا ہے تا کہ جناح اسے اٹھانے کی خاطر ہی صحیح ایک بار ہندوؤں کے سامنے جھکیں مگر جناح اپنی جیب سے دوسرا عدسہ نکال کر تقریر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور مجمع اس ذہانت و دوراندیشی پر داد دئیے بنا نہیں رہ پاتا۔
گر بات کرتے ہیں حاضر دماغی کی تو جناح کو ایک ہندو نے لاجواب کرنے کے لیے بھرے مجمعے میں روک کر پوچھا کہ " مسٹر جناح آپ کہتے ہیں کہ میرا عزم و ارادہ  اور محنت و طاقت مسلمانوں کی قائم کرنے والی ریاست کے لیے ہے مگر آپ نے اس ریاست کے لیے کوئی قربانی نہیں دی، ہمارے لیڈر گاندھی کو دیکھیے ہندوؤں کی خاطر کتنی بار جیل گئے جب کہ آپ ایک بار بھی جیل نہیں گئے۔ تو جناح بہت سکون سے جواب دیتے ہیں "جیل میں مجرم جاتےہیں  میں مجرم نہیں ہوں"۔
الغرض جناح کی ساری زندگی اعلیٰ اخلاقی ضابطوں  کا عکس ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں آپ سچے اور کھرے انسان کے طور پر نظر آتے ہیں۔ آپ میں ہر وہ خوبی موجود تھی جو مومنوں کے لیڈر میں ہونی چاہیں۔شاید اسی لیے جناح کا انتخاب قائداعظم کے طور پر کیا گیا۔جوں جوں ہم جناح کی عادات و اطوار کو دیکھتے ہیں تو بحیثیت مسلمان ہمارے دلوں سے نکلتا ہے ویل ڈن مسٹر جناح بے شک تم ہر میدان میں اپنی خصوصیات کی وجہ سے نمایاں ہو۔
کیا ہم میں ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں  کہ ہم یہ امید رکھیں کہ اللہ اور اس کی مخلوق ہم سے کہے
"ویل ڈن مسٹر۔۔۔۔۔"

Saturday, 7 November 2015

ہندومت اور اسلام

کتاب

ہندومت اور اسلام (مشترکہ اقدار اور پیروکاروں کے باہمی تعامل کی تاریخ)

مصنف: حافظ محمد شارق

پاکستان بھر میں کہیں بھی گھر بیٹھے حاصل کیجئے ، (400 روپے میں)

دارالمصحف پبلشرز۔ 37 فرسٹ فلور 

گوہر سنٹر وحدت روڑ لاہور۔03351620824۔۔۔ 04235912676




فہرست
تعارف.. 11
مذاہب عالم پروگرام کے مقاصد. 12
کچھ اس کتاب کے بارے میں. 12
گذارشات.. 14
حصہ اوّل : ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعامل کی تاریخ   15
باب 1:ہِند میں اسلام کا ابتدائی تعارف.. 17
عہد نبویﷺ.. 17
خلافتِ راشدہ اور ہنود. 18
محمد بن قاسم   کا دور. 20
علافیوں کی بغاوت اور راجہ داہر کی حمایت... 20
ہندی مسلمانوں پر حملہ. 21
راجہ داہر کی طرف سے قزاقوں کی مدد. 21
سندھ کی فتح.. 22
محمد بن قاسم اور ہنود. 23
اشاعت اسلام. 25
خلافت عباسیہ  میں ہنود. 26
زیر بحث دور میں ہندوستان میں مسلمان. 27
سندھ کی خلافتِ اسلامیہ سے علیحدگی.. 28
باب 2:محمود غزنوی ، محمد غوری اور ہنود  29
محمود غزنو ی.. 29
محمود اور ہندوستان.. 30
گجرات اور سومناتھ پر حملہ(1024CE). 32
محمود غزنوی اور ہنود. 33
ہندوستان؛ محمود کے بعد. 35
غوری یلغار. 36
ہندوستا ن پر غوری کو دوسرا حملہ. 37
محمود اور غوری  کے حملوں کا اثر. 38
زیر بحث دور میں ہندوستان میں مسلمان. 39
ہندو امرائے سلطنت اور غیر ہنود. 41
باب 3:مسلم عہد تا دورِ حاضر. 43
سلاطین دہلی. 43
مغلیہ  دور. 45
بابر اور ہمایوں کا عہد. 46
اکبری دور میں ہندوؤں سے اچھا سلوک.... 47
جہانگیر اور شاہ جہاں کے عہد میں ہنود. 48
اورنگ زیب عالمگیر اور ہنود. 49
ہندوؤں سے جنگ.... 50
ہندوؤں پر جزیہ لگانا 51
ہندوؤں کو ملازمتوں سے نکالنا 52
مندروں کو مسمار کرنا 52
ہندوؤں کےجلوسوں پر پابندی... 54
عالمگیر کے دیگر اصلاحی اقدامات... 54
مسلم عہد حکومت کامجموعی جائزہ. 55
انگریزی دور میں ہندواور مسلمان. 58
تقسیم ہند. 59
موجودہ صورت حال. 60
ہندوستان میں مسلمان.. 60
پاکستان میں ہنود. 62
حصہ دوم:. 64
ہندومت اور اسلام کا تعلق.. 64
باب 4:ہندوؤں کے بارے میں اسلام کا موقف   65
ہندوؤں کے لیے پیغمبر بھیجے گئے؟. 65
کیا ہندو اہل کتاب ہیں؟. 66
ہندو مقدس شخصیات کے بارے میں اسلام کا موقف.. 67
باب 5:ہندومت کے اہم عقائد و رسوم اور اسلام کا موقف   68
اسلام اور ہندو مت کا تصور خدا 68
توحید کے دلائل.. 70
عقیدہ اوتار اور قرآن.. 72
بت پرستی. 73
طبقاتی نظام. 73
تناسخ اور اسلام. 75
باب 6:ہندو مت اور رسالت و نبوت.. 76
قصہّ آدم و حواءعلیہما السلام۔۔۔ 78
تخلیق آد م علیہ السلام. 78
علم الاسماء. 81
آدمؑ کو سجدہ. 82
حواءکی تخلیق.. 82
شجرِ ممنوعہ ،مکرِ ابلیس اور نزول آدم علیہ السلام. 83
آدمؑ کہا ں اترے؟. 85
ستیا ،تیترا اور دواپر یُگ.... 87
حضرت نوح علیہ السلام. 88
ہندو قوم اور حضرت نوح علیہ السلام. 89
طوفانِ نوح اور ہنود. 90
باب 7:انتِم اوتار  اور محمد ﷺ.. 93
حضرت محمد ﷺ اور ہندوؤں مقدس کتابیں. 93
رگ وید میں ذکر مبارک.... 95
اوصاف حمیدہ. 98
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین مقام. 98
اتھروید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک.... 99
سام وید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک.... 102
اپنشد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک.... 103
پرانوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک.... 104
کلکی اوتار اور حضرت محمدﷺ.. 105
پیش گوئیوں کے بارے میں پنڈت حضرات کا موقف.. 109
کلکی کی وہ صفات جو ہنود کے مطابق آپ پر  صادق نہیں آتی.. 109
باب 8:سناتن دھرم اور دین قیّم. 111
توحید. 111
ہندو مذہب میں تبدیلی کیونکر ہوئی؟. 112
حصہ سوم:. 114
ہندو مسلم اتحاد اور ہندوؤں کو اسلام کی دعوت   114
باب 9:ہندومسلم اتحاد:درپیش مسائل اور ان کا حل  115
بابری مسجد. 115
گائے ذبح کرنا 116
میڈیا کا منفی کردار. 116
ہندو مسلم تعلقات اور سیاسی مسائل. 117
تعصبانہ تاریخ.. 117
فسادات.. 119
فسادات کے مسئلے کا حل.. 120
باب 10:ہندو قوم اور دعوتِ دین. 122
ہندوؤں کو دعوت کیوں ضروری ہے؟. 122
خیرالامم. 122
امت وسط.. 122
کتمانِ حق کا ظلم. 123
حقِ ہمسائیگی.. 123
ہندوؤں کی موجودہ نفسیات  اور دعوتی حکمت عملی. 124
تاریخ سے آگہی.. 124
دعوتِ توحید. 124
توہمات اور غیر مناسب تعلیمات سے آگہی.. 124
سیاسی مسائل میں پیچھے ہٹنے کی ضرورت... 125
سنسکرت سیکھنے کی ضرورت... 125
معروف اصطلاحات کا استعمال.. 126
پروپیگنڈہ کا مقابلہ. 126
اسلام کی صحیح تعبیر.. 127
اخلاص و محبت... 127
حوالہ جات وکتابیات.. 128