Showing posts with label Muhammad Ali Jinnah. Show all posts
Showing posts with label Muhammad Ali Jinnah. Show all posts

Wednesday, 18 November 2015

ویل ڈن مسٹر ۔۔۔

از عدیلہ کوکب (گجرات، پاکستان)

پاکستان جو اللہ کے نام پر اس کی خاطر بنایا گیا جب ہم اس کے بانی کو دیکھتے ہیں تو   "انگریزی سوٹ میں، گردن اونچی کیے، سیدھا بیٹھا ، منہ میں سگار لیے " ایک عام دنیادار ، مغربی لباس و لہجہ کا ایک شخص نظر آتا ہے۔ یہ مغربی لب و لہجہ کا حامل شخص اپنے اصولوں  ، اخلاقی تقاضوں، ذہانت اور امانت داری میں سب سے آگے کھڑا نظر آتا ہے۔ کہ بے اختیار دل اس کی خوبیوں کو سراہتے ہوئے کہتا ہے "ویل ڈن مسٹر۔۔۔"۔
اصولوں میں اس قدر سخت کہ موکل  کی پیش کردہ رقم یہ کہہ کر لوٹا دی کہ "فیس اپنے وقت کے حساب سے لیتا ہوں ، ایک گھنٹہ لگے یا تیس دن، کام مکمل ہونے پر آپ کے پاس میرا بل پہنچ جائے گا۔ موکل کے اندازوں کے برعکس اس کا کام چند گھنٹوں میں مکمل ہو گیا  ۔ جس پر موکل نے زیادہ رقم دینے پر اصرار بھی کیا مگر جناح  نے صرف  وقت کے حساب سے اپنی فیس وصول کی۔
اگر بات ہو امانت داری کی تو  ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بارجناح اپنے موکل کی طرف سے کیس لڑنے آگرہ آئے وہاں کے مسلمانوں کو علم ہوا تو انہوں نے جناح کو زور دیا کہ وہ آئے ہوئے ہیں تو جلسہ کرلیں اور مسلمانانِ آگرہ سے خطاب کریں مگر  جناح نے نہایت شائستگی سے جواب دیا  : "میں یہاں ایک کیس کے سلسلے میں آیا ہوں۔ میرے موکل نے مجھے اس کی فیس دی ہے۔ اگر آپ جلسہ کروانا چاہتے ہیں تو میرے واپس جانے کے بعد کسی دن جلسہ رکھ لیں اور مجھے بلا لیں میں اپنے خرچہ پر آؤں گا ۔
اگر بات کرتے ہیں خوف الہی کی   تو دیکھتے ہیں کہ جناح  اکیلے میں اللہ کے آگے سجدہ ریز ہیں اور خدا کے خوف سے بے پناہ  ، زارو قطار روئے جا رہے ہیں۔ اللہ کے آگے جوابدہ ہونے کا اس قدر خیال کے ہر وقت ذہن میں خدا کو رکھتے اور کہتے "جب میں اللہ کے ہاں جاؤں تو وہ کہے  ، اے محمد علی! تم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے، مسلمان کی طرح جیئے اور مسلمان کی طرح مرے"۔
اللہ سے خوف کے ساتھ ساتھ جناح کو اللہ سے محبت بھی تھی اور عقیدت بھی۔ ایک بار کسی نے پوچھا کہ :
مسٹر جناح آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟
جناح نے فورا جواب دیا: "اس لیے کہ میں چاہتا ہوں جب میں اللہ کے حضور جاؤں تو اللہ مجھے فخر سے کہے  ویل ڈن مسٹر جناح"۔
ذہانت و دور اندیشی کی بات آتی ہے تو دیکھتے ہیں  کہ  جناح کو جھکانے کے لیے آپ کا عدسہ جان بوجھ کر گرا دیا جاتا ہے تا کہ جناح اسے اٹھانے کی خاطر ہی صحیح ایک بار ہندوؤں کے سامنے جھکیں مگر جناح اپنی جیب سے دوسرا عدسہ نکال کر تقریر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور مجمع اس ذہانت و دوراندیشی پر داد دئیے بنا نہیں رہ پاتا۔
گر بات کرتے ہیں حاضر دماغی کی تو جناح کو ایک ہندو نے لاجواب کرنے کے لیے بھرے مجمعے میں روک کر پوچھا کہ " مسٹر جناح آپ کہتے ہیں کہ میرا عزم و ارادہ  اور محنت و طاقت مسلمانوں کی قائم کرنے والی ریاست کے لیے ہے مگر آپ نے اس ریاست کے لیے کوئی قربانی نہیں دی، ہمارے لیڈر گاندھی کو دیکھیے ہندوؤں کی خاطر کتنی بار جیل گئے جب کہ آپ ایک بار بھی جیل نہیں گئے۔ تو جناح بہت سکون سے جواب دیتے ہیں "جیل میں مجرم جاتےہیں  میں مجرم نہیں ہوں"۔
الغرض جناح کی ساری زندگی اعلیٰ اخلاقی ضابطوں  کا عکس ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں آپ سچے اور کھرے انسان کے طور پر نظر آتے ہیں۔ آپ میں ہر وہ خوبی موجود تھی جو مومنوں کے لیڈر میں ہونی چاہیں۔شاید اسی لیے جناح کا انتخاب قائداعظم کے طور پر کیا گیا۔جوں جوں ہم جناح کی عادات و اطوار کو دیکھتے ہیں تو بحیثیت مسلمان ہمارے دلوں سے نکلتا ہے ویل ڈن مسٹر جناح بے شک تم ہر میدان میں اپنی خصوصیات کی وجہ سے نمایاں ہو۔
کیا ہم میں ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں  کہ ہم یہ امید رکھیں کہ اللہ اور اس کی مخلوق ہم سے کہے
"ویل ڈن مسٹر۔۔۔۔۔"

Saturday, 5 May 2012

میرا قائد ۔ ۔ ۔ ۔ محمد علی جناح



تحریر:۔ محمداحمد ترازی
”جس روز قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا ، میں اُس روز کراچی میں تھا، افتتاحی تقریب کے بعد اُن کی واپسی سے کچھ پہلے میں وائی، ایم، اے بلڈنگ کے پیچھے جاکر ایوان صدر کے بڑے گیٹ
کے سامنے کھڑا ہوگیا، اُس جگہ بھیڑ نہیں تھی، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میرے قریب ایک شخص بھی نہیں تھا، تھوڑی دیر کے بعد دور سے قائد اعظم کی کھلی گاڑی آتی دکھائی دی،آہستہ آہستہ یہ گاڑی عین میرے سامنے آگئی، میں نے اپنے قائد کو جی بھر کے دیکھا، سفید شیروانی اور اپنی مخصوص ٹوپی پہنے وہ بالکل سیدھے بیٹھے تھے، اُن کے ساتھ اُن کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔
گاڑی ابھی صدر دروازے کی طرف مڑنے ہی والی تھی کہ قائد اعظم نے آہستہ سے اپنی گردن بائیں طرف گھمائی اور اُن کی نظریں سیدھی میرے چہرے پر پڑیں، بے ساختگی میں میرا داہنا ہاتھ ماتھے کی طرف اٹھا….اور ….پھر ….اور ….پھر….وہ وہیں جم کر رہ گیا….یااللہ ….! میرے ہاتھ کے ساتھ ہی میرے قائد کا ہاتھ بھی ماتھے کی طرف اٹھا، میرے قائد نے میرے سلام کا جواب دیا….میرے قائد نے ایک واحد ہاتھ کا سلام قبول کیا….میرے قائد نے ایک گمنام شخص کا سلام قبول کیا….میرا قائد اسلامی روایات کا پابند ہے ….میرا قائد مکمل مسلمان ہے۔ “
قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے سید اشفاق نقوی کے یہ جذبات مسلمانان برصغیر کی دلی کیفیت کے آئینہ دار ہیں، ریئس احمد جعفری لکھتے ہیں کہ ”قائد اعظم کے ساتھ سب سے بڑی بے انصافی یہ ہوتی چلی آرہی ہے کہ اُن پر لکھنے والوں میں سے کسی نے بھی آپ کو مومنانہ صفات، مذہبی جذبات، دینی تاثرات، اسلامی رجحانات کے آئینہ میں پیش نہیں کیا، جیسے دین و مذہب سے آپ کا کوئی واسطہ ہی نہ ہو، حالانکہ آپ کا ہر ارشاد، ہر بیان، ہر تقریر اسلام کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہوتی تھی، گو آپ منافقین کی طرح اسلام، اسلام کی رٹ نہیں لگاتے تھے، بلکہ اٹھتے بیٹھتے اسلام ہی کو اپنے مخصوص رنگ اور عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرتے تھے، اگر آپ کی ہر تقریراور ارشاد کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے تو وہ اسلام کی کسوٹی پر پورا اترے گا۔“
آج قائد اعظم محمد جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر ہم ان کی زندگی کے وہ چند واقعات آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں جو قائدکی زندگی کے دینی، مذہبی اور اسلامی پہلو وں کو بھر پور طریقے سے اجاگر کرتے ہیں، اگرچہ قائد اعظم بظاہر معنوی اعتبار سے مذہبی رہنما نہیں تھے لیکن یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی منزل سے روشناس کرنے والے قائد کا خدا، رسول اور اپنے دین و مذہب پر کتنا کامل یقین تھا اور وہ کتنے پختہ اصولوں کے مالک تھے، شاید اسی وجہ سے جناب مجید نظامی نے کہا کہ ”اُن کی شخصیت کا خمیر سنہرے اصولوں کی روشن مٹی سے اٹھا تھا اور ان کی پوری زندگی ایک زندہ کرامت تھی۔“
خواجہ اشرف احمد بیان کرتے ہیں کہ ”3مارچ1941ءکو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی،جب قائد تشریف لائے تو مرزا عبدالحمید تقریر کررہے تھے، مسجد کچھا کچ بھری ہوئی تھی، قائد موٹرکار سے برآمد ہوئے تو انہوں نے اچکن، چوڑی دار پاجامہ اور بٹلر شوز پہن رکھے تھے، اُن کی آمد پر لوگوں میں ہلچل پیدا ہوئی، لیکن وہ فوراً سنبھل گئے کہ قائد اعظم نظم و ضبط کے انسان تھے، وہ مسجد کے بغلی دروازے میں داخل ہوئے، اگلی صف تک راستہ بن گیا، لیکن قائد نے یہ کہتے ہوئے اگلی صف میں جانے سے انکار کردیا ”میں آخر میں آیا ہوں اسلئے یہیں بیٹھوں گا“ سیاست میں آگے جانے والا خانہ خدا میں سب سے پیچھے بیٹھا، نماز سے فارغ ہونے کے پر قائد نے جو کام فوراً کیا وہ یہ کہ اپنے جوتے اٹھالیے، ہرکسی کی خواہش تھی کہ وہ قائد کے جوتے اٹھانے کی سعادت حاصل کرے، لیکن ہرکسی کی حسرت ہی رہی، لوگ بعد میں اُن کے ہاتھ سے جوتے چھیننے کی کوشش ہی کرتے رہے، لیکن قائد کی گرفت آہنی تھی، وہ ہجوم میں اپنی ریشمی جرابوں سمیت کوئی تیس قدم بغیر جوتوں کے چلے اور اصرار اور کوشش کے باوجود کسی شخص کو اپنا جوتا نہیں پکڑایا۔
مولانا حسرت موہانی بیان کرتے ہیںکہ”ایک روز میں جناح صاحب کی کوٹھی پر صبح ہی صبح نہایت ضروری کام سے پہنچا اور ملازم کو اطلاع کرنے کو کہا، ملازم نے کہا اس وقت ہم کو اندر جانے کی اجازت نہیںہے،آپ تشریف رکھیں، تھوڑی دیر میں جناح صاحب خود تشریف لے آئیں گے، چونکہ مجھے ضروری کام تھا، اس لیے مجھے ملازم پر غصہ آیا اور میں خود کمرے میں چلاگیا، ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں پھر تیسرے کمرے میں پہنچا تو برابر والے کمرے سے مجھے کسی کے بلک بلک کررونے اور کچھ کہنے کی آواز آئی، یہ جناح صاحب کی آواز تھی، میں گھبراگیا اور آہستہ سے پردہ اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قائد اعظم سجدے میں پڑے ہیں اور بہت ہی بیقراری کے ساتھ دعا مانگ رہے ہیں، میں دبے پاوں وہیں سے واپس آگیااور اب تو بھائی جب جاتا ہوں اور ملازم کہتا ہے کہ صاحب اندر ہیں تو یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سجدے میں پڑے دعا کررہے ہیں، میرے تصور میں ہر وقت وہی تصویر اور وہی آواز رہتی ہے ۔“
جناب مختار زمن کہتے ہیںکہ ”میرے والد آگرہ میںجج تھے، انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ قائد اعظم کسی کیس کے سلسلے میں آگرہ تشریف لائے، اس موقع پر مسلم لیگ نے جلسہ کرنا چاہا، لیکن قائداعظم نے اس میں شرکت سے انکار کردیا اور کہا، میں اپنے موکل کی طرف سے پیش ہونے آیا ہوں، جس کی وہ فیس ادا کرچکا ہے، میں خیانت کیسے کروں،آپ جلسہ کرنا چاہتے ہیں تو بعد میں بلا لیں، میں اپنے خرچ پر آوںگا۔“ نواب صدیق علی خان کہتے ہیں کہ ”جارج ششم شاہ انگلستان کے زمانے میں ہندوستان کیلئے مزید اصلاحات کے سلسلے میں قائد اعظم لندن تشریف لے گئے، مذاکرات جاری تھے کہ قصر بکنگھم سے ظہرانے کی دعوت موصول ہوئی، اُس زمانے میں قصر بکنگھم کی دعوت ایک اعزاز ہی نہیں بلکہ یادگار موقع ہوتا تھا لیکن قائداعظم نے یہ کہہ کر اس دعوت میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی کہ ”آجکل رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے اور اس میں مسلمان روزے رکھتے ہیں۔“
تحریک پاکستان کے آخری مرحلے میں قائداعظم نے مسلم عوام سے چاندی کی گولیوںکی اپیل کی، اس پر عام مسلمان مردوں ہی نے نہیں عورتوں نے بھی لبیک کہا اور اپنا زیور تک لیگ فنڈ میں دینا شروع کردیا، لیکن قائد اعظم نے اس چندے کو قبول نہیں کیا، ایک روز بیگم شائستہ اکرام اللہ نے قائد اعظم سے پوچھا، سر یہ مسلمان خانہ دار عورتیں اتنے شوق سے اپنے ہاتھوں کے کنگن اور بالیاں اتار اتار کر مسلم لیگ کودیتی ہیں اور آپ انہیں قبول نہیں کرتے، واپس کردیتے ہیں، عجیب سا لگتا ہے، کیا یہ ایک قابل قدر جذبے کی توہین نہیں ہے، قائد اعظم نے کہا نہیں یہ بات نہیں، کوئی اورلیڈر ہوتو شاید اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھے، لیکن میں سیاست میں جذباتیت کو پسند نہیں کرتا، ان خواتین کو چاہیے کہ وہ زیورات کا عطیہ کرنے سے پہلے اپنے اپنے شوہروں سے پوچھیں، اُن سے اجازت لیں اور پھر دیں۔“
دہلی مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کا جلسہ امپیریل ہوٹل میں ہورہا تھا، خاکساروں نے گڑبڑ کی، سارا ہنگامہ قائد اعظم کے خلاف تھا، لیکن سارے ہنگامے میں جو شخص سب سے پرسکون رہا، وہ خود قائداعظم تھے، جب میٹنگ انتشار کا شکار ہوکر ختم ہوگئی تو وہ بڑے اطمینان سے تنہا باہر جانے لگے، یہ دیکھ کر پیرآف مانکی شریف نے آپ سے کہا ،آپ اس طرح باہر نہ جایئے،کہیںآپ کو کچھ نہ ہوجائے، ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں، قائد اعظم نے کہا نہیں، اس کی ضرورت نہیںاور آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا ،کیا وہ (خدا)وہاں نہیں؟۔ اسی طرح 1946ءمیں جب قائد اعظم شملہ تشریف لے گئے تو بعض لیگی کارکنوں نے محسوس کیا کہ قائداعظم کیلئے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے، ایک کارکن نے آپ سے کہا جناب ہمیں معلوم ہے کہ دشمن آپ کی جان کے درپے ہیں، اس لیے اجازت دیجئے کہ ضروری حفاظتی اقدامات کئے جائیں، جس پر قائداعظم نے فرمایا مجھے اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے، خدا ہی سب سے بڑا محافظ اور چارہ ساز ہے، آپ فکر مند نہ ہوں۔
اپریل 1945ءمیں قائد اعظم خان آف قلات کی دعوت پر بلوچستان تشریف لے گئے اس موقع پر خان آف قلات نے ان سے بچوں کے ایک ا سکول کے معائنہ کی درخواست کی، قائد اعظم ننے منے بچوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور اُن سے گھل مل گئے، قائداعظم نے ایک بچے سے خان آف قلات کی جانب اشارہ کرکے پوچھا یہ کون ہیں، بچے نے جواب دیا یہ ہمارے بادشاہ ہیں، قائد اعظم نے بچے سے پوچھا، میں کون ہوں، بچہ بولا، آپ ہمارے بادشاہ کے مہمان ہیں، قائد نے پھر بچے سے پوچھا، تم کون ہو، بچہ بولا، میں بلوچ ہوں، قائد اعظم نے خان آف قلات سے کہا ، اب آپ ان کو پہلا سبق یہ پڑھایئے کہ میں مسلمان ہوں اور بچوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا ،بچو….! تم پہلے مسلمان ہو، پھر بلوچ یا کچھ اور ہو۔
پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے ایک موقع پر جب قائداعظم کوئٹہ میں قیام پزیر تھے، ان کی کچھ ایسی تصویریں دکھائیں جو انہوں نے کھنچی تھیں، قائد اعظم نے اُن سے اپنی مزید تصویریں کھیچنے کی فرمائش کی، یحییٰ بختیار نے عذر پیش کیا، لیکن قائداعظم نے اُن کا عذر مسترد کردیا، دوسرے دن جناب یحییٰ بختیار اپنا کیمرہ اور فلیش لے کر قائداعظم کی رہائش گاہ پہنچے، اُس وقت قائداعظم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر مشتمل ایک کتاب جس کا ٹائیٹل”الحدیث“ تھا مطالعہ فرمارہے تھے، یحییٰ بختیار چاہتے تھے کہ کہ وہ قائداعظم کی تصویر ایسے زاویہ سے لیں کہ کتاب کا ٹائیٹل بھی فوکس میں آسکے، لیکن قائداعظم نے تصویر کھنچوانے سے پہلے کتاب علیحدہ رکھدی اور یحییٰ بختیار سے فرمایا ”میں ایک مقدس کتاب کو اس قسم کی پبلسٹی کا موضوع بنانا پسند نہیں کرتا۔“
قائداعظم کے معالج ٹی بی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ ”ایک بار دوا کے اثرات دیکھنے کیلئے ہم ان کے پاس بیٹھے تھے، میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے اُن کو بات چیت سے منع کررکھا تھا، اس لیے الفاظ لبوں پر آکر رک جاتے تھے، اسی ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کیلئے ہم نے خود انہیں بولنے کی دعوت دی، تو وہ بولے، ”تم جانتے ہو،جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے، یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیںکرسکتا تھا، میرا ایمان ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا، اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں، تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے، پاکستان میں سب کچھ ہے، اس کی پہاڑیوں، ریگستانوں اور میدانوں میں نباتات بھی ہیں اور معدنیات بھی، انہیں تسخیر کرنا پاکستانی قوم کا فرض ہے، قومیں نیک نیتی، دیانت داری، اچھے اعمال اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں اور اخلاقی برائیوں، منافقت، زر پرستی اور خود پسندی سے تباہ ہوجاتی ہیں۔“
نوٹ:۔اس مضمون کی تیاری میں جناب متین خالد کی کتاب ”اسلام کا سفیر “سے مدد لی گئی ہے
انتخاب: حافظ محمد شارق

Wednesday, 2 May 2012

رتی {مریم} جناح کی حاضر جوابی

  
نئی دہلی میں ایک لنچ کے موقعے پر قائد اعظم محمد علی جناح اپنی بیگم رتی جناح کے ساتھ مدعو تھے۔اس موقع پر لارڈ ریڈنگ مسز جناح سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے کہ

“مسز جناح میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ مجھے جرمنی جانے کی کتنی تمنا ہے ، لیکن افسوس کہ میں جا نہیں سکتا ۔”

مسز جناح نے پوچھا “آخر آپ وہاں کیوں نہیں جا سکتے؟”


لارڈ ریڈنگ نے جواب دیا “اصل بات یہ ہے کہ جرمن ہم برطانوی لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔”

رتی جناح فوراً بولیں”پھر آپ ہندوستان کیسے چلے آئے؟”

حافظ محمد شارق

Tuesday, 17 April 2012

قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اﷲ علیہ کی ذہانت



بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اﷲ علیہ ریل کے سفر کے دوران اپنے لیے دو برتھ ریزرو کرایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے ان سے اسکی وجہ دریافت کی تو جواب میں انہوں نے اپنا ایک دلچسپ واقعہ سنایا ۔ کہتے ہیں !
’’میں شروع میں ایک ہی برتھ ریزرو کرایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بمبئی سے لکھنؤ جا رہا تھا۔ کسی چھوٹے سٹیشن پر ٹرین رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسرے برتھ پر بیٹھ گئی۔ چونکہ میں نے ایک ہی برتھ روزرو کرائی تھی اس لیے خاموش رہا۔‘‘
ٹرین نے رفتار پکڑی تو اچانک لڑکی بولی ’’ تمہارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو ورنہ ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہہ دونگی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے ۔‘‘
میں نے کاغذوں سے سر ہی نہ اٹھایا ۔ اس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔ آخر تنگ آکر اس نے مجھے جھنجوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا کہ ’’ میں بہرہ ہوں‘ مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے لکھ کر دو۔‘‘
اس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کردیا میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے بمع اس کی تحریر کے ریلوے حکام کے حوالے کردیا جو اس کے جرم کا ثبوت تھی۔ اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھ ریزرو کراتا ہوں۔ ‘‘
یہ واقعہ نہ صرف قائد کی ذہانت بلکہ مشکل ترین حالات میں خود پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

حافظ محمد شارق

Sunday, 8 April 2012

Rare photos of Qaid e Azam Muhammad Ali Jinnah r.a and Migration of 1947CE


Qaid e Azam Muhammad Ali Jinnah r.a
Founder of Pakistan










































































































































































حافظ محمد شارق
محمد علی جناح
New Collection



































ہجرت جنگ آزادی 1947