Showing posts with label ، دین، حافظ محمد شارق. Show all posts
Showing posts with label ، دین، حافظ محمد شارق. Show all posts

Monday, 10 November 2014

وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔

ڈائری کا ایک صفحہ: حافظ محمد شارق)
ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے ؛ وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔ یعنی بنیے پر پیسے کی موت آتی ہے وہ پرانے کھاتے کھولتا ہے، کہیں کسی کو ادھار دے رکھا ہو، کسی نے قرض لیا ہو، کہیں امانت رکھائی ہو، غرض کہ پرانے مردے بھی اکھاڑ کر جہاں کہیں سے وصولی ممکن ہو وہ پائی پائی وصول کرتا ہے۔
یہ کہاوت سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ روزِ محشر بھی ہم سب کی حالت کچھ اسی بنیے کی طرح ہوگی، ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اور سب سے وصولی میں چکر میں ہوں گے، آپ  نےکسی کی غیبت کی ہو، کسی کی دل آزاری کی، کسی کے گھر کے گیٹ پر بائیک پارک کردی، کسی کو ملاوٹ کرکے کچھ بیچا، کسی کو  قطار میں دھکا دیا ہو، کسی کی  آپ کے حق کی زمین ہڑپ کردی ، کسی کو آپ کو گالی دی ہو، ہر ایک آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے کھول کھول پر نیکیاں وصول کرے گا۔ سب پائی پائی کا حساب لیں گے اور ایک ماشے کی نیکی بھی معاف نہیں کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر ظلم کے مقابلے نیکیوں اور گناہوں کا تبادلہ ہوگا۔
اس صورت حال کو سوچ کر ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اعمال کے بینک بلنس میں اتنی نیکیاں بھی جمع کر رکھی ہیں کہ ہم اس وصولی کے بعد ہماری نجات ہوسکے؟؟؟ کیا ہم نے حقوق العباد کا اس قدر خیال بھی رکھا ہے کہ روزِ محشر ہم پر اس ظلم کے عوض اس کے گناہ نہ لاد دیے جائیں؟
اگر ہم نجات کے متمنی ہیں تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ہو گا۔


کیا آپ مسلمان ہیں؟

اس بات کی فکر کیجیے کہ آپ کے قول و فعل سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اگر آپ کی وجہ سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا کسی کا دِل دُکھا ہے، تو یہ آپ کے لیے پریشان کن صورت حال ہونی چاہیے، آپ کی نیند اُڑ جانی چاہیے جب تک کہ وہ شخص آپ کو معاف نہ کرے۔
 اگر آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو اپنے اس دعوے پر غور کریں کہ آپ مسلمان اور صاحب ایمان ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔" (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان(

علماء کا احترام کیجیے!!

علماء کا احترام کیجیے!!
=============
دلیل کی بنیاد پر کسی عالم دین کی غلطیوں پر تنقید کرنا یقیناً میرا حق ہے مگر ان کی تضحیک کرنے کا حق مجھے میرے پروردگار نے نہیں دیا۔ میں روشن خیالی کے اس نئے مفہوم سے بیزار ہوں جو علمائے دین کی تضحیک کو جائز قرار دے۔

میں نے علم ، دین کے انھی خادموں کی مجلس میں پڑھا ہے، میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں نے علم ان کی جوتیاں اٹھا کر سیکھا ہے، اگر آج دین اسلام پر میرا ایمان مستحکم ہے تو یہ انھی علما کی محنت کا ثمر ہے۔ دین کو سمجھانے کے لیے انھوں نے جو کچھ لکھا ہے ؛ میں اس سے ذرا بھی دامن تو بچاؤں تو میں خود کو برہنہ حسوس کرتا ہوں۔یہ درست ہے کہ میں ان کی سو کوتاہیاں گنواتا ہوں، کئی اختلافات رکھتا ہوں، ان سے ہزار ضد کرتا ہوں، مگر بھائی ! ضد تو بچے ہی کرتے ہیں، میں ان سے کبھی بڑا نہیں ہوسکتا۔۔۔
حافظ محمد شارقؔ

محبت کیا ہے؟


محبت کو سمجھنے کے لیے قرآن پاک سمجھنا پڑتا اور اس پر عمل کرنا پڑتا تب آتا ہے لفظ محبت سمجھ میں ۔ پھر پتا چلتا کہ محبت کیا تھی اور ہم کہاں پہ غلط ہیں ہم محبت کو کیا سمجھتے ہیں اور محبت اصل میں ہے کیا؟۔ محبت وہ ہے جو اللہ ہم سے کرتا ہے۔ کہ ہم گناہ کرتے جاتے اور وہ ہمارے گناہ چھپاتا جاتا اسے ہم سے اتنی محبت ہے کہ ہمارے گناہ دوسروں کے سامنے نہیں کرتا کہ کہیں ہم رسوا نہ ہوں اور ہمیں تکلیف نہ ہوئی
محبت یہ ہے جو اللہ ہم سے کرتا ہے کہ اگر ہم ذرا سا اس کی طرف جھکیں تو وہ اپنی مخلوق کے دل میں ہماری عزت ڈال دیتا ہے۔محبت یہ ہے کہ وہ ہر ہر قدم پر ہمارا خیال رکھتا تب بھی جب ہم اسے بھول جاتے اس کو یاد نہیں کرتے وہ تب بھی ہمیں چاہتا ہے جب ہم بے وفا دوست بن جاتے ہیں وہ ہمیں تب بھی محبت کے حصار میں رکھتا ہے جب ہم اسکی بجائے کسی اور سے بے پناہ محبت کا دعوا کر تے۔

وہ ہمیں ہر دکھ کے بعد خوشی دیتا اور خوشی کہ بعد دکھ دیتا کہ اگر ہم دکھ میں مایوسی کا شکار ہو کر کفر کر چکے تو خوشی میں اسے یاد کر لیں اور اگر ہم خوشی میں اسے بھول گئے تو دکھ میں اسکی محبت کا احساس کر کے اسے پکار لیں۔

محبت تو یہ ہی ہے کہ وہ پوری زندگی ہم سے کرتا ہی جاتا ، ہم اسے یاد نہیں کرتے ،پوری زندگی اسکی بات نہیں مانتے نہ شکر کرتے ہیں مگر وہ ہمیں عطا کرتا جاتا ہے۔ہم خوشیوں میں سکھ میں بھول جاتے مگر وہ اپنی محبت اس طرح نباتا کہ جب بھی ہم کبھی مصیبت میں ہوں تو بھی وہ ہمیں دھتکارتا نہیں وہ بس ایک پکار پر ہماری مصیبتوں کو ختم کرنے کے وصیلے بنا دیتا۔

مگر ہم انسان ایسے ہیں کہ اگر بات اللہ سے محبت کی ہو کہ کیا ہم اللہ سے محبت کرتے تو لاکھوں عذر بناتے ہیں کہ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا۔ اللہ تعالیٰ جتنی محبت ہم تو نہیں کر سکتے نہ ہم تو اس محبت کا قرض نہیں اتار سکتے کہ اسکی محبت کے آگے ہماری محبت کچھ بھی نہیں۔ اور کوشش ہی نہیں کرتے اس کی محبت کا جواب دینے کی۔

ایک حد تک یہ سہی ہے ہم اللہ سے اتنی محبت نہیں کر سکتے جتنی اللہ جی ہم سے کرتے مگر ہم اتنی محبت تو کر سکتے جتنی ہمارے بس میں ہے۔ ہم اس محبت کا قرض نہیں اتار سکتے مگر ہم اتنی زیادہ محبت ملنے پر محبت کرنے والے کا شکر تو ادا کر سکتے ہیں نہ۔ ذرا سوچیئے کیا واقع ہم اس قابل نہیں کہ محبت کو سمجھ کر اسکا شکر ادا کر سکیں اور اپنی استظاعت کے مطابق اس محبت کا قرض اتار سکیں۔ کیا ہم ایسی محبت کر سکتے ہیں یا ہمارے نصیب میں عذر ہی ہیں بس؟

عدیلہ کوکب

Saturday, 2 August 2014

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح


حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

            حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے متعلق مورخین کے ادھورے بیان کی وجہ سے بہت سے لوگوں میں کئی قسم کی غلط فہمی پھیل چکی ہے جس کی وجہ سے اکثر اعتراض بھی کیاجاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس نکاح کے بارے میں صحیح تفصیل سے لوگ آگاہ ہوں۔
            حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کے والد اور ان کے شوہر دونوں اسلام کے دشمن تھے۔ یہودی قبائل جب مدینہ جنگ کرنے کی تیاری کررہے تھے تو اس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ خبر کی تصدیق کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے بھیجا ، معلوم کرنے پر خبر کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی مسلمانوں کے خلاف حملے کی تیاریاں ہورہی ہے۔ جواب میں مسلمانوں نے بھی تیاریاں کیں اور شعبان کی ابتداء میں ہی مسلمان فوج نے رستے میں ہی ان یہودیوں کو گرفتار کرلیا جو حملے کی تیاری کررہے تھے۔ ان یہود میں عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ( جنگ کے وقت اسلام میں صرف اُن عورتوں کو گرفتار کرنے کی اجازت ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں عملی حصہ لے رہے ہوں) یہود کی طرف سے مزاحمت کے نتیجے میں ایک مسلمان اور 11 یہودی مارے گئے۔ انہی میں ایک حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے شوہر بھی تھے۔ بہرحال حضرت جویریہ رضی اللہ عنہاگرفتار ہوئیں۔انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انھیں فدیہ (جرمانہ) کے بدلے آزاد کردیا جائے۔لیکن یہاں پھر ایک مسئلہ تھا کہ ان کے پاس رقم نہیں تھی۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں سردار ہوں، میری شان سے بالاتر ہے کہ میری بیٹی کنیز بنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خود جویریہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ والد نے جاکر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انھوں نے خود کہا کہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔چنانچہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہاکی خواہش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رقم خود ادا کردی اور انھیں آزادکردیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
اس نکاح سے یہ فائدہ ہوا کہ جتنے بھی لوگ غلام بنائے گئے تھے انھیں سب مسلمانوں نے اس بات سے آزاد کردیا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی وہ غلام نہیں ہونا چاہیے۔ 

Wednesday, 25 December 2013

غصہ حرام کیوں ہے؟


غصہ حرام کیوں ہے؟

کیا آپ مجھے یہ سمجھا سکتے ہیں کہ غصہ کیا ہوتا ہے اور یہ اسلام میں حرام کیوں ہے؟ کیونکہ صحیح بات پر ڈٹے رہنا بھی غصہ ہوتا ہے۔ پلیز میری رہنمائی کریں۔
(سائل نامعلوم)
جواب:
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ، کیسے مزاج ہیں؟ آپ کا سوال واقعی بہت اچھا ہے اور اسے سمجھنا آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔چونکہ میں کچھ دنوں سے بخار میں مبتلاء ہوں اس لیے فی الحال تفصیل سے جواب دینے سے قاصر ہوں، البتہ اس وقت یہاں کچھ بنیادی باتیں بتادینا مناسب سمجھوں گا۔

غصّہ آنا انسانى طبيعت كا فطری حصّہ ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہمارے سامنے ہماری خواہش اور توقعات کے کچھ خلاف ہوجائے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات بیماری کی بھی وجہ سے مزاج یوں ہوجاتا ہے کہ انسان کو ہر وقت یا ذرا ذرا  سی بات پر غصہ آنے لگے۔ غصہ حرام ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس دوران ہمارے دماغ میں کیمیکلز کی ایسی تبدیلیاں ہوتی جن سے اعصاب ہمارے كنٹرول سے نكل جاتے ہيں ، ہم غصے میں دوسروں پر بہت سی زیادتیاں کر جاتے ہیں، نیز جدید تحقیقات کے مطابق بھی بہت زیادہ غصے سے ہمارے نظام اعصاب اور دل پر بھی نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

البتہ چونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے،اس لیے  ایسا نہیں ہے کہ غصّہ ہر جگہ اور ہر حال ميں برا، ناپسنديدہ اور نقصان دہ ہے بلكہ اگر اس جذبے کا استعمال مثبت طور پر کیا جائے تو کافی مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔ مثلاً مجھے اکثر غصہ ہمارے ہاں معاشرتی رویے اور اخلاقی اقدار کی پامالی کو دیکھ کر آتا ہے۔ اس وقت میں یہ کرتا ہوں کہ کاغذ قلم اٹھا کر اس مسئلے کا حل سوچ کر اس پر لکھنا شروع کردیتا ہوں اس طرح غصے کی سمت(Direction) تبدیل ہوجاتی ہے اور جذبات کے ساتھ کوئی اچھا پیغام بھی پہنچ جاتا ہے۔البتہ بہت زیادہ غصہ آنا (چاہے وہ صحیح معاملات پر ہی کیوں نہ ہو) صحیح نہیں ہے۔انسان کو معتدل مزاج رہنا چاہیے۔غصہ قابو رکھنے کے بارے میںحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

پہلوان وہ نہیں جو مقابل کو گرادے۔ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کو وقت خود کو قابو میں رکھے۔
(بخاری۔ آداب کا بیان)

 اگر بہت زیادہ غصہ آتا ہے ضروری ہے کہ ہم کسی ڈاکٹر اور ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔ اس علاج کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ ہم پاگل ہیں؛ بلکہ جس طرح نزلہ ، بخار اور زکام کا علاج کیا جاتا ہے اس کا علاج بھی کرنا چاہیے۔امید ہے اس قدر جواب اطمینان بخش ہوگا۔ اگر کوئی پہلو رہ گیا ہو تو آپ بلا تکلف دوبارہ پوچھ سکتے ہیں۔

Tuesday, 5 November 2013

کیا آپ کی روزی حلال ہے؟



حافظ محمد شارق

حضرت آدم علیہ السلام نے کاشت کاری کی، حضرت موسی علیہ السلام کئی سالوں تک حضرت شعیب علیہ السلام کے چرواہے رہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کا کام کیا کرتے تھے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجارت کرتے تھے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کرلیجیے ، آپ دیکھیں گے کہ جس طرح اللہ کے یہ بندے اپنی آخرت کے لیے محنت  کرتے ہیں اسی طرح حلال کمائی کے لیے بھی محنت کیا کرتے تھے۔ یاد رکھیں کہ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا، آپ محنت کے بغیر کسی صورت کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔اگر آپ بحیثیت مسلمان اپنے دعوے کے علاوہ اخروی زندگی کے متعلق واقعی سنجیدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ قیامت میں ہونے والے کٹھن سوالوں کا جواب دے سکیں تو پھر اس بات کا ضرور خیال کریں کہ آپ کہاں سے اور کیسے کما رہے ہیں؟ محنت سے کما کر اپنا اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنا ایک آپ  کے لیے دینی فرائض اور عبادت میں شامل ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا  ارشاد پاک ہے:
اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے اور وہ صرف پاکیزہ مال ہی کوقبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اسی بات کاحکم دیا ہے جس کا اس نے رسولوں کوحکم دیا ہے، چنانچہ اس نے فرمایا، "اے پیغمبروں! پاکیزہ روزی کھاؤ اور نیک عمل کرو ۔"اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا " اے اہل ایمان! جو پاک اور حلال چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں وہ کھاؤ۔پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبی مسافت طے کرکے مقدس مقام پرآتا ہے ، عبار سے اٹا ہوا ہے، گرد آلوف ہےاور اپنے دونوں ہاتھ آسمانکیطرف پھیلا کر کہتا ہے" اے میرے رب! (اور دعائیں مانگتا ہے)" حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے ، اس کا لباس حرام ہے اور حرام  پر پہ وپ پلا ہے ، ایسے شخص کی دعا کیوں کر قبول ہوسکتی ہے؟(ترمذی، کتاب التفسیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندی حرام مال کمائے پھر اس میں سے اللہ کی راہ  میں صدقہ کرے تو یہ صدقہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر اپنی ذات اور گھر والوں پر خرچ کرے گا تو برکت سے خالی ہوگا، اگر وہ اس کو چھوڑ کر مرا تو وہ اس کے جہنم کے سفر میں زادِ راہ بنے گا ۔ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعے سے نہں مٹاتا بلکہ برے عمل کو اچھے عمل سے مٹاتا ہے،خبیث ناپاک چیز کو خبیث ناپاک چیز نہیں مٹاتی۔ (مسند احمد)
ان احادیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ کمائی اگر حرام اور ناجائز طریقے سے ہو تو پھر دعا قبول ہونے کا کوئی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ حدیث کے دوسرےحصے پرغور کریں۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی صدقات و عبادات قبول کرتے ہیں جو حلال کمائی سے ہو۔حرام مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بے سود ہے۔اس بات کا فیصلہ خود کیجیے کہ کیا حرام مال سے کھائی ہوئی غذا جو آپ کے بدن کا جز بن جاتی ہے، یا اس سے آپ قوت و توانائی حاصل کرتے ہیں، حرام مال سے حاصل شدہ اسی بدن اور اس کی قوت و توانائی سے کی گئی عبادت کیا اللہ کو قبول ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''ہروہ گوشت جو حرام سے نشوونما پاتا،اس کے لائق تو آگ ہی ہے۔(حوالہ درکار۔بحوالہ آداب زندگی)
قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ اپنے شکم حرام مال سے بھرتےہیں، وہ دراصل اپنے شکم میں جہنم کی آگ بھر رہے ہوتے ہیں جو آخرت میں انتہائی وحشت ناک انداز میں ان کے سامنے ہوگی۔
بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے۔ (سورۃ النساء۔ آیت 10)
آپ الحمدللہ چوری ، ڈاکہ زنی ، ظاہری فراڈ وغیرہ جیسے جرائم میں ملوث نہیں ہیں، لیکن کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی کمائی سو فیصد حلال ہے؟ ہم ملازمت میں ایمان داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ، ہم ملازمت میں وقت کی پابندی نہیں کرتے، ہم اپنے فرائض منصب صحیح طور پر ادا نہیں کرتے، ہم اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہم دن بھر دھوپ میں پسینہ بہانے کے باوجود لوگوں کو جھوٹ اور فریب دے دے کر اپنی دکان کا مال بیچتے ہیں۔پھر بھی ہم میں سے کتنے ہی دین دار افراد ایسے ہیں جو اسی زعم باطل میں مبتلاء رہتے  ہیں کہ ہماری کمائی حلال ہے،ہم مطمئن ہیں کہ ہمارے شکم میں جو غذا جارہی ہے وہ حلال ہے، حالانکہ سراسر حرام ہے۔
اگر آپ اللہ کے حکم اور  سیرت النبی کے مطابق کسب حلال کا ارادہ رکھتے ہیں ، اگر آپ کو روز محشر اللہ کے سامنے احساس جواب دہی کا خوف ہے تو پھر ضروری ہے کہ آپ اس بات کی پرواہ بھی کریں کہ کسی بھی طرح آپ کا حلال ذریعۂ معاش آپ کے لیے "حرام" کا ذریعہ نہ بن جائے۔ مندرجہ ذیل نکات پر غور کریں اور اپنا احتساب کریں۔
·      سرکاری محکمے بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں   میں یہ مرض عام ہے کہ ملازمین گھر بیٹھے رہتے ہیں اور صرف تنخواہ والے دن پیسے وصول کرنے آجاتےہیں۔ ایسی کمائی سراسرحرام ہے۔
·      ملازمت کے لیے جو اوقات کار مقررہیں، ان اوقات میں بلا اجازت کوئی اور کام کرنا ، حتیٰ کہ تلاوت قرآن بھی جائز نہیں۔
·      ملازمت میں جس روز (علاوہ تعطیلات) خود سے چھٹی  کی جائے اس دن کی تنخواہ لینا صحیح نہیں، الّا یہ کہ چھٹی کی درخواست ، اجازت یا معافی قبول کرلی گئی ہو۔
·      اگر بحیثیت ملازم آپ سےکوئی ناجائز کام،ظلم اور نا انصافی کروایا جارہا ہے تو اس میں مجبوراً شریک ہونا بھی آپ کے لیے جائز نہیں، ورنہ اس گناہ میں آپ بھی برابر کے شریک ہوں گے۔
·      اپنے منصب کا استعمال ذاتی مفاد کے لیے کرنا صحیح نہیں۔
·       اللہ تعالیٰ نے معاش کے لیے دن کا وقت اور آرام کے لیے رات بنائی ہے، لہٰذا اپنا کاروبار صبح سویرے کھولیے۔

Monday, 2 September 2013

اسلام کیا ہے؟




حافظ محمد شارقؔ

یونٹ 1 : اسلام
اسلام کا لفظ مادہ سلم سے نکلا ہے۔ اس کے لغوی معنی بچنے، محفوظ رہنے، (To save)مصالحت اور امن و سلامتی (Peace)پانے اور فراہم کرنے کے ہیں۔ حدیث نبوی میں اس کے لغوی معنی کے لحاظ سے ارشاد ہے:

المسلم من سلم المسلمون من السانہ ویدہ
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔[1]

اسی مادہ کے بابِ افعال سے لفظ ’ اسلم‘ بنا ہے۔اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید میں بھی یہ الفاظ مختلف صورتوں میں استعمال ہوا ہے،جس کے معنی و مفہوم اطاعت(To submit) اور (To surrender)فرمانبرادی کے ہیں ۔ چنانچہ کی قرآن مجید کی سب سے طویل سورت(باب ) البقرة میں ہے:

ہاں! جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لےے اسکا اجراس کے رب کے پاس ہے ۔[2]

اسی سورة میں چند آ یات بعد فرمانبرداری کے مفہوم کے ساتھ ارشاد ہے:

جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ تو فرمانبردار ہوجا تو اس نے کہا میں فرمانبردار ہوگیا ۔[3]

اس کے علاوہ ایک اور مقام پر ہے:

دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے، کہہ دو نہیں! تم ایمان نہیں لائے ہو۔ ہاں یہ کہوکہ ہم نے اطاعت قبول کرلی ہے، اور ابھی تک ایمان تو تمہارے قلوب میں داخل نہیں ہوا۔[4]

ان آیات مبارکہ کے علاوہ لفظ اسلام کا یہ مادہ قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر استعمال ہوا ہے، تاہم ہر جگہ اس کے معنی و مفہوم خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کے ہی ہیں۔ ان تمام لغوی معنوں اور تشریحات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم اسلام کی ایک جامع تعریف کرنا چاہیں تو یہ کی جاسکتی ہے کہ اسلام سے مراد وہ سلامتی ہے جو خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کے ذریعے حاصل ہو۔

اسلام کے علاوہ مذاہب عالم میں اس وقت جو اہم نام ہمارے سامنے ہیں وہ یہودیت، عیسائیت، ہندومت اور بدھ مت ہیں۔ مورخین اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ یہ سبھی نام خود انسانوں کے وضع کردہ ہیں ۔ لفظ ہندو مت اور یہودیت جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں،بدھ مت اور عیسائیت اپنے رہبر گوتم بدھ اور عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہیں۔ لیکن جب ہم لفظ اسلام کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام نہ ہی جغرافیائی پس منظر پیش کرتا ہے اور نہ کسی شخصیت سے منسوب ہے۔ یہ لفظ کسی انسان یا گروہ کے بجائے خود خدا تعالیٰ نے رکھا ہے، اور یہ نام ہمیں تمام اسلامی منابعات میں عام ملتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں انتہائی واضح انداز میں اس "دین" کا نام اسلام رکھا گیا ہے۔

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ[5]
بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے

وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ[6]
اور  جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج کے دین میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام (بطور ) دین پسند کرلیا۔

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 

(اس یونٹ کے اگلے حصے "برائے مطالعہ" ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

http://truewayofislam.blogspot.com/2013/09/1.html)




[1]صحیح بخاری۔ کتاب الایمان
[2] القرآن مجید ۔ سورة البقرة ۔ آیت 112
[3] القرآن مجید۔ سورة البقرة۔ آیت 131
[4] القرآن مجید۔ سورة الحجرات آیت 41
[5]القرآن مجید ۔ سورۃ ال عمران آیت 19
[6] القرآن مجید۔ سورۃ ال عمران آیت 185

Wednesday, 24 July 2013

پورنوگرافی: مغرب کا ناسور۔

حافظ محمدشارقؔ

آج صبح بی بی سی میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پورنو گرافی(Pornography)بلاک کرنے کااردۂ خیر کیا ہے اور وہ اس حوالے سے ہونے والے معاشرتی نقصانات کے متعلق کافی پریشان ہیں۔انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پورنوگرافی ہمارے بچوں کو برباد کررہی ہے، ہر تیسرا بچہ اپنی عمر کے دسویں برس کو پہنچتے ہی ان ویب سائیٹ کو دیکھنے لگتا ہے۔نیز انھوں نے زنا بالجبر یعنی ریپ کی منظر کشی کرنے والی فلم کو خصوصاً بند کرانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

 ذاتی طور پر میرے لیے یہ خبر کوئی حیرت ناک نہیں ہے، کیونکہ بحیثیت مسلمان میرا ایمان ہے جو بات ہمارے اللہ نے قرآن مجید میں اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی وہ بلا شک و شبہ حق ہے، اگرچہ اس کا احساس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والوں کو بعد میں ہو۔

جہاں تک مغرب میں پورنوگرافی کے فروغ کا تعلق ہے تو اٹھارہویں صدی میں جب وہاں الحاد کا فروغ ہوا تو ساتھ ہی فحاشی کا سیلاب برپا ہوا اور مذہب بیزاری کی وجہ سے اخلاقیات کا جنازہ اٹھا۔جنسی آزادی و اباحیت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔کچھ  ہی عرصے میں باقاعدہ طور پر پورنو گرافی پر مبنی فلم انڈسٹری قائم کردی گئی جس میں فحاشی کوعروج پر پہنچایا گیا۔ اور پھر مغرب کے معاشی نظام  بھی اس اخلاقی گراوٹ میں برابر کا شریکِ کار رہا ، بلکہ میرے نزدیک فحاشی کو سپورٹ کرنے میں سب سے اہم کردار ہی اس نظام نے ادا کیا کیونکہ اسی نظام کا اصرار تھا کہ منافع کے حصول کے لیے حلال و حرام کی کوئی تفریق نہیں اور نہ ہی کوئی اخلاقی و مذہبی پابندی ہونی چاہیے ۔ ہر انسان کو تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کے لیے قطعی آزاد چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے جو طریقہ مناسب سمجھے اختیار کرلے، نتیجتاً زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے زیادہ سے زیادہ برائی پیش کی گئی۔ بیسویں صدی میں انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بدولت پورنوگرافی کی وباء بہت زیادہ پھیلی ، جس کا مشاہدہ آج ہم مشرقی ممالک میں بھی بخوبی کررہے ہیں۔لیکن اس کارجحان مغرب میں روحانیت کے فقدان کے سبب زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہاں پورنوگرافی(Pornography) انڈسٹری کو آزادیٔ رائے اور شخصی آزادی کے اصولوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ان کے نزدیک فحاشی بھی ایک انڈسٹری ہےاور اس میں کام کرنے والوں کی  حیثیت عصمت فروش یا طوائف کی نہیں بلکہ یہ محض ایک فلمی پیشے کی حیثیت رکھتا ہے۔

پورنوگرافی یعنی فحاشی کے بارے میں دین ِ اسلام نے اپنا موقف چودہ سو سال قبل ہی واضح کردیا تھا۔ اسلام نے  معاشرے کو زنا اور جنسی انتشار سے بچانے کے لیے فحاشی کے فروغ پر پابندی لگائی ہے اور معاشرے کو پاکیزہ اور مثبت اقدار پر قائم کرنے کی ہدایت دی۔قرآن مجید میں یہ تعلیمات بہت سے مقامات پر ہیں۔مثلاً

شیطٰن یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء ۔ (البقرۃ268 :)
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔

ولا تقربوا الزني انه كان فاحشة وساء سبيلا (بنی اسرائیل: 32)
اور زنا كے قريب بھى نہ جانا كہ يہ فحاشی  ہے اور بہت برا راستہ ہے۔

فحش برے اور بے حیائی کے کام کو کہتے ہیں بالخصوص یہ لفظ جنسی راہ روی کے لیے خاص استعمال ہوتا ہے۔ آیت میں واضح  طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر وہ كام كہ جوانسان كو زنا كے قريب بھی لے جاتا ہے اس سے بچنا لازم اور واجب ہے۔ قابل غور نکتہ ہے کہ الله تعالى نے ''لا تزنوا'' (ىعنی زنا نہ كرو)نہیں فرمایا؛؛ بلکہ  زنا کے قریب بھی جانے سےمنع فرمایا۔یعنی اس نكتہ كى طرف توجہ دلا ئی کہ ہر وہ عمل جو زنا پر ختم ہوچونكہ وہ بدكارى كى طرف لے جانے والا عمل ہے وہ حرام ہے۔یعنی زنا سے متلق خیالات اور اس کی جانب لے جانے والے اقدامات بھی اس زمرے میں شامل ہیں ۔لہٰذا ان ذرائع کا استعمال بھی حرام ہے جو زنا سے قریب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔یہ بات یہ یقیناً کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پورنو گرافی زنا کا ایک سب سے اہم سبب ہے۔

اول الذکر آیت اس حقیقت کو بالکل صاف انداز میں بیان کرتی ہے کہ شیطان انسان کو فکرِ معاش کے بہانے سے بے حیائی کی تلقین کرتا ہے اور اسے دولت کے خاطر ہر قسم کے برائی کے فروغ کی تلقین کرتا ہے۔جس دور میں مغرب میں جب فحاشی عام ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ہر ایک کو جنسی آزادی اور کاروبار کا حق ہونا چاہیے خواہ  کوعریانیت کا ہی کیوں نہ ہو۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فحاشی کو معاشرے میں بگاڑ کا سبب قرار دیا تھا اور اس حوالے سے معاشی پہلو کو خاص ذکر کیا  تھا ۔لیکن  وادیانِ مغرب اس کے باوجود آیت کا مکمل طور پر مصداق بنی اور نتیجہ  وہی ہوا جو اللہ نے قرآن "ساء سبیلا"کے الفاظ سے بتایا تھا، یعنی زناکے قریب جانا وہ راستہ ہے  جو کہ یقیناً فرد و معاشرےکو برے انجام تک لے جاتی ہے۔قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے  یہ اعداد و شمار دیکھیں۔ایک سروے کے مطابق مغرب میں چھ سال کی عمر میں بچے پورن سائٹ دیکھنے لگ جاتے ہیں، انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جانے والا30فیصد مواد فحاشی پر مبنی ہوتا ہے،[1] تقریباً ہر چالیس منٹ میں ایک فحش فلم بنائی جاتی ہے اور ہر وقت کم از کم  30ہزار افراد یہ مواد دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ "ریپ کرائسز " نامی ایک معبتر ادارے کے اعداد و شمار دیکھیں جس کے مطابق ہر سال تقریباً پچاسی ہزار خواتین برطانیہ اور ویلز میں جنسی زیادتی نشانہ بنتی ہیں، ہر سال تقریباً چار لاکھ خواتین پر جنسی زیادتی کی غرض سے حملہ کیا جاتا ہےاورہرپانچویں عورت سولہ برس کی عمر تک کسی نہ کسی ذریعے جنسی تشدد سے گزر چکی ہوتی ہے۔[2] کیا اس سے بھی بھیانک صورتحال کسی معاشرے میں ہوسکتی ہے؟
یہ حالت صرف مغرب کی نہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح پر ہمارے مشرقی اقدار کے دعویدار معاشروں میں بھی یہ وباء اب عام ہوتی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ اور کیبل کی بدولت فحاشی آج ہر گلی محلے تک پہنچ چکی ہے، اور اس پر مزید یہ کہ ہم نے اپنے کمزور ایمان، غیراسلامی نظریات اور بعض حالات کی بنا پر شادی کی بنیادی ضرورت کو نوجوانوں کے لیے ناقابلِ رسائی بنادیا ہے،جبکہ زنا آسان سے آسان تر ہوتا جارہا ہے۔  جس کی وجہ سے نوجوان نسل آج اپنے جنسی جذبات کی تسکین کے لیے دنیا کی نظر سے چھپ کر، انٹرنیٹ کی تاریک گلیوں میں آوارہ پھرتے ہوئے اپنے قلب و نگاہ کو ناپاک کررہی ہے۔اگر ہم نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے شادی کو آسان نہ کیا تو پھر وہ خدا نہ کرے وہ دن دور نہیں جب ہمارے ہاں بھی یہ اباحیت اسی قدر عام ہوگی ۔مغرب نے خدا فراموشی کے سبب جس چیز کو جائز ٹھہرایا تھا آج ہم اپنے نوجوانوں کو اخلاقی کجروی کیاسی راہ پہ ڈال دیا ہے ۔
اللہ کے قانون کے مطابق ابلیسیت کا نظام اپنا فضلہ خارج کررہا ہے   تووہی اہل مغرب جو فحاشی کوآزادی سمجھتے تھے ، اب اسے ایک ناسور ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں اور وہ اخلاقی قدروں کے تحفظ کے لیے فکر مند ہوگئے ہیں، یہ تو صرف ڈیوڈ کیمرون کا اعتراف ہے، ورنہ وہاں کی کئی غیر جانب دار این جی اوزاس حقیقت کا اعتراف برسوں پہلے کرچکی ہیں، آج مغربی مفکرین سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنےاس معاشرتی مسئلے  مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ پورن سائٹس کو بلاک کرنا اگرچہ ایک مستحسن اقدام ہے لیکن فحاشی کے دیگر کاروبار کرنے والوں کو اس برائی کے پھیلانے سے آپ  کہاں تک روکیں گے؟دولت کے حصول کا یہ نشہ اس قدر وحشت ناک ہے کہ انسان نے معاشرے میں پائے جانے والی تمام اخلاقی زنجیروں کو بھی نکال کے پھینک رہا ہے۔ملحدین مذہب کے مقابلے جو اخلاقیات کا تصور پیش کرتے ہیں اس خبر سے اس کی قلعی کھل گئی ہے کہ بے مذہب انسان اخلاقی اقدار کا کس قدر لحاظ رکھتا ہے۔ مذہب کی بیان کردہ اخلاقیات کے بغیر آخر وہ کون سا جذبۂ محرکہ ہوگا جو انھیں بے حیائی کے فروغ سے روک سکے؟
میرے خیال میں جب تک فرد میں برائی کو برائی سمجھنے اور اسے روکنے کا احساس پیدا نہ ہوگا، جب تک اس کے دل میں خدا کے حضور احساس جوابدہی نہ ہوگا اس وقت تک انسداد فحاشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ احساس جوابدہی اور کسی محرک کے بغیر  ساری انسانیت بھی اپنی مژگان  کاوش اٹھا لے تب بھی  ان سب کا نتیجہ وہی حسرت زدہ صدائیں اور احساسات ہوں گے  جس کا اظہار آج  مسٹر کیمرون نے کیا ہے۔
حافظ محمدشارقؔ
hmshariq@gmail.com
hmshariq@islamic-studies.info