Showing posts with label Quranic Studies. Show all posts
Showing posts with label Quranic Studies. Show all posts

Friday, 17 April 2015

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس سیشن ۲ کا خلاصہ


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورہ بقرہ کی آیات تین تا پانچ کا خلاصہ حاضر ہے ۔ الحمد اللہ آپ سب بھائیو اور بہنو نے تقریبا تمام ہی پہلووں سے ان آیات مبارکہ کوسمجھ کر بیان کیا اور خوب بیان کیا۔ نیز اس پر اٹھنے والے سوالات کو بھی ہرہر پہلو سے
بیان کرنے کی کوشش کی۔ میں نے آپ سب کی بحثوں کو تین مرتبہ پڑھا۔ پہلی مرتبہ ای میلز میں ، دوسری مرتبہ اور تیسر مرتبہ خلاصہ سے قبل ۔ بہت ہی عمدہ طریقے سے آپ سب اپنے اپنے فہم کو بیان کیا ہے۔کچھ بھائیو اور بہنو کا تبصرہ تو بہت ہی پسند آیا لیکن میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ چونکہ آپ سب نے تفصیل سے تمام پہلووں کو ڈسکس کرلیا ہے اس لئے میری کوشش ہوگی کہ اختصار کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بیان کردوں۔
اصول تفسیر
گذشتہ سیشن میں ہم نے چار اصول پڑھے تھے۔ انہیں میں چاہتا ہوں کہ دہرادوں ۔ وہ تھے
۱۔سیاق و سباق کا لحاظ
۲۔خطاب کرنے والے کا تعین
۳۔ مخاطب کا تعین
۴۔ کامن سینس کا استعمال
ان کا اطلاق میں نے دیکھا کہ کچھ ساتھیوں نے کیا ہے اور اسی بنا پر ان کے بیان میں ایک زور پیدا ہوگیا ہے۔ جن ساتھیوں نے ان کا لحاظ نہیں کیا ان سے درخواست ہے کہ ان کا ضرور خیال کریں، ان سے بڑے مسئلے حل ہوجاتے ہیں ورنہ عموما انسان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہ جاتا ہے لیکن حقیقت کو مشکل ہی سے بیان کرپاتا ہے۔
۵۔اب میں ایک اور اصول تفسیر بیان کردوں جو زیر بحث آیات میں استعمال ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر سب سے پہلے قرآن ہی سے کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر ہم غیب کی بات کریں تو قرآن نے غیب کا لفظ کن کن مفاہیم میں استعمال کیا ہے ، یہ جاننا بڑا ضروری ہے۔ کچھ ساتھیوں نے اس اصول کا اطلاق کیا ہے۔
آیات کا پس منظر
الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ Ǽ۝ۙ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ Ć۝ۭاُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Ĉ۝
یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ، نماز قائم کرتے اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ پر اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ وہی لوگ اپنے رب کے راستہ پر ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں۔
وضاحت
جیسا کہ پہلے ہم نے پڑھا تھا کہ یہ سورۃ اصلا یہود کو مخاطب کررہی ہے ۔اب اگر ہم ان اصولوں کا اطلاق کریں جو اوپر بیان ہوئے تو یہود کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اس کتاب کے من جانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی بنیادی شرط ہے کے برائی سے بچنے کی خواہش پیدا کرو۔
اگر ہم تفسیر کے اصول کو اپلائی کریں تو یہ علم ہوتا ہے کہ یہود کو بتایا جارہا ہے تم اگر فلاح یافتہ ہونا چاہتے ہو تو وہ صفات پید اکرو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ہیں۔ اب صحابہ میں تو بے شمار صفات تھیں ۔ تو قرآن کا کما ل دیکھیں کہ چن چن کر وہ تمام صفات بیان کردیں جن کے نہ ہونے کی بنا پر یہود ایمان لانے سے قاصر تھے۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ تو ہمیں علم کے کہ یہود کا من حیث القوم اصل مسئلہ محسوسات کی دنیا ہی میں جینا اور مادیت پرستی کی بنا پر غیب کو ماننے سے عملا گریز کرنا تھا۔ ابتدا ہی میں انہوں نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمیں بھی کوئی بت بنادیں یا پھر کہا تھا کہ خدا کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی مادیت و محسوسات پرستی مدینہ کے یہود میں بھی سرایت کرچکی تھی۔
دوسرے مرحلے میں بتایا کہ یہ و ہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ نماز خدا و بندہ کا تعلق اور زکوٰۃ بندے اور بندے کا تعلق ہے ۔ یہود ان دونوں میں بہت کمزور ہوچکے تھے۔ آگے وہی ذکر ہے کہ یہ لوگ متعصب نہیں بلکہ یہ اپنے اوپر نازل کردہ وحی اور اس سے قبل کی وحی کو مانتے ہیں اور متعصب نہیں۔ پھر آخر میں بتادیا کہ یہ لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور تمہاری طرح نہیں کہ آخرت کا ذکر تک تم نے اپنی کتب سے نکال دیا۔
اس پس منظر کو دیکھیں اور اس کے بعد جوابا ت دیکھتے ہیں۔ اب جوابات بہت متعین اور آسان ہوجائیں گے۔
۱۔ ایمان لانے سے کیا مراد ہے؟ کیا محض زبان کا اقرار یعنی کلمہ پڑھ لینا ایمان ہے؟ یا دل کی تصدیق بھی ضروری ہے؟یا اسے عمل سے ثابت کرنا بھی لازمی ہے؟
ایمان سے مراد یہاں ماننا ہی ہے۔ اور یہ ماننا اصلا دل سے ہے جبکہ زبان سے کہنا اس ماننے کے اظہار کا طریقہ ہے اور عمل اس ماننے کا ثبوت۔
۲۔ غیب سے کیا مراد ہے؟ اور اس میں کون کون سی باتیں شامل ہیں۔
غیب سے مراد محسوسات سے ماورا وہ دینی امور ہیں جو حواس خمسہ کی گرفت میں نہیں آتے۔اس پر ڈاکٹر اسد تا انگلش ترجمہ بہترین طور پر مدعا بیان کرتا ہے:
Those believe in what is beyond their perception.
یعنی انہیں دیکھا، سونگھا، چکھا، چھوا یا سنا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور جنت کو حواس خمسہ سے نہیں جانا جاسکتا۔ یہی معاملہ فرشتوں کا بھی ہے۔ لیکن یہ عقل سے ماورا ہے نہ عقل کے خلاف۔ ہاں محسوسات سے ماورا ہے۔
ایک بحث یہ چلی کہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں یا غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ میں نے مولانا امین احسن اصلاحی کے مدعا کو سمجھنے اور دلائل ماننے کی بڑی کوشش کی لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہ آسکی۔مولانا ترجمہ تو یہ کرتے ہیں کہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں لیکن اس کا مفہوم وہی اخذ کررہے ہیں جو غیب پر ایمان لانے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یا تو یہ ہوتا کہ مولانا تفسیر کبیر میں بیان کردہ نقطہ نظر کے تحت یہ کہتے کہ غیب میں رہتے ہوئے یعنی چھپ کر اپنی تنہائیوں میں بھی ایمان لاتے ہیں تو یہ بات ان کے ترجمے کے مطابق ہوتی گوکہ یہ مفہوم بھی کوئی زوردار نہیں معلوم ہوتا۔
اب سوال یہ ہے غیب میں کون کون سے امور آتے ہیں۔ عمومی جواب یہی ہے کہ اس مراد اجمالا وہ تمام امور شامل ہیں جن میں ذات بار ی تعالیٰ، فرشتے، آخرت کے امور وغیرہ شامل ہین۔البتہ اگر ہم دوبارہ اوپر بیان کردہ پس منظر میں رجوع کریں تو صاف علم ہوتا ہے کہ یہود سے کہا جارہا ہے دیکھو صحابہ یہ غیب یعنی محسوسات سے ماوراباتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ تو یہود چونکہ خدا کو محسوسات کی دنیا میں دیکھنا چاہتے تھے اس لئے یہاں بالخصوص ذات باری تعالی ہی مراد ہے۔ اور جب ہم یہ مان لیں تو اگلی آیت سے اس کا تعلق خود بخود بن جاتا ہے کہ یہ ذات باری تعالیٰ کو محسوسات سے ماوار ہونے کے باوجود مان لیتے اور پھر نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
۳۔ اگر غیب کو مان لیا جائے گا تو کیا یہ عقل کے خلاف نہیں ہوگا؟
غیب کا مطلب محسوسات سے ماورا ہونا ہے تو یہ خلاف عقل نہیں۔ غیب کے امور ایک صادق ہستی یعنی پیغمبر کی گواہی سے ہم تک پہنچ رہے ہیں ۔ اگرآئین اسٹائن کی گواہی سے ہم بلیک ہول کے وجود کو بن دیکھے مان سکتے ہیں تو پیغمبر کی گواہی اس سے کہیں معتبر ہے۔ دوسرا یہ کہ غیب کے جو بھی امور ہیں وہ سب عقل خود سے دریافت تو نہیں کرسکتی لیکن جب اسے بات سمجھائی جاتی ہے تو عقل مان لیتی ہے اور فطرت قبول کرلیتی ہے۔ چنانچہ فطرت تصدیق کرتی کہ خدا ہے، عقل تقاضا کرتی کہ واقعی ایک دن ایسا ہو جب سب سے ان کے کئے کا حساب لیا جائے، عقل یہ مطالبہ کرتی کہ اچھوں کو جزا اور بروں کو سزا دی جائے۔ عقل مان لیتی کہ فرشتوں کا ہونا خدا اور پیغمبر کے درمیان وسیلے کے لئے لازم ہے وغیرہ۔
ایک مغالطہ یہ ہے کہ عقل سے ماورا کا لفظ بھی ہم استعمال کرتے ہیں ۔ دراصل یہ عقل سے ماورا نہیں ہوتا بلکہ محسوسات سے ماوارا ہوتا ہے ۔
۴۔ کیا ایمان کا تعلق عقل سے ہونا چاہئے؟ اگر ہاں تو غیب پر ایمان کی موجودگی میں کیا یہ عقل کے خلاف نہیں ہوگا؟ اور اگر نہیں تو پھر ہم کیوں عیسائیوں کے نظریہ تثلیث پر عقلی اعتراضات اٹھاتے اور کیوں ہندووں کی بت پرستی کو خلاف عقل قرار دیتے ہیں؟
جی ایمان عقل کے خلاف نہیں ہونا چاہئے اور اگر ہے تو پھر یا تو وہ نسلی ایمان ہے یا پھر نقلی ایمان۔ لیکن یہ عقل کامن سینس ہے۔ اسی بنا پر تثلیث خلاف عقل ہے۔
۵۔ تیسری آیت میں ہے کہ یہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، جبکہ چوتھی آیت میں ہے کہ یہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا آخرت غیبی امر نہیں؟ یعنی یہاں کیوں آخرت کو الگ سے بیان کیا گیا؟
یہاں دوبارہ دیکھیں کہ یہود کو تعریض کی جارہی ہے کہ یہ لوگ تو آخرت پر پکا یقین رکھتے ہیں ۔ یعنی یہود کا اصل مسئلہ آخرت کو نہ ماننا یا آخرت کے تصور میں غلط فہمیاں تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ چند دن ہی آگ چھوئے گی یا یہ کہ ہم چہیتے ہیں وغیرہ۔ ان سے کہا گیا کہ اصل آخرت کو ماننے والے لوگ یہی ہیں۔ تمہارا دعوی باطل ہے۔ یعنی یہاں آخرت کا الگ سے ذکر اس کی یہود کے تناظر میں اہمیت کی بنا پر کیا جارہا ہے۔

Wednesday, 17 July 2013

علوم القرآن پروگرام



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے۔ اس مقدس مہینے میں ہم پر اللہ تعالی کا سب سے بڑا احسان یہ ہوا کہ ہماری ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا۔ اس ماہ مقدس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم اس کے شب و روز کو اللہ تعالی کی کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے وقف کر دیں۔ اسلامک اسٹڈیز پروگرام کے تحت ’’علوم القرآن پروگرام‘‘ اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بعض بھائیوں کے مشورے سے اس رمضان میں ہم اس پروگرام کو ری ڈیزائن کر رہے ہیں اور اس میں مزید ماڈیولز کا اضافہ کر رہے ہیں۔ پروگرام کا مجموعی ڈیزائن اب اس طرح سے ہو گا۔

علوم القرآن پروگرام کا ڈیزائن

اس پروگرام کو ماڈیولز کی دو سیریز میں تقسیم کیا گیا ہے:

· ایک سیریز قرآن مجید سے متعلق علوم پر مبنی ہے۔ اس کے تین ماڈیولز ہیں۔

· دوسری سیریز قرآن مجید کے متن اور تفاسیر کے مطالعے پر مشتمل ہے۔ اس سیریز میں چھ ماڈیولز ہیں۔

پہلی سیریز کا مقصد یہ ہے کہ طلبا میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا کیا جائے اور انہیں نہایت ہی دلچسپ انداز میں قرآن مجید کے مضامین سے آگاہ کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید سے متعلق جو علمی نوعیت کے مباحث ہیں، ان کا مطالعہ کر لیا جائے۔ اس سیریز کے ماڈیولز یہ ہیں:

· QS01: اس ماڈیول میں ہم قرآن مجید میں بیان کردہ قصص کا مطالعہ کریں گے۔ چونکہ عام لوگ قصے کہانیوں میں دلچسپی لیتے ہیں، اس لیے ان قصوں کے ذریعے قرآن مجید کے مطالعے کا شوق پیدا کرنا اس ماڈیول کا مقصد ہے۔ یہ ماڈیول ہماری ٹیم کے ایک رکن پروفیسر محمد عقیل صاحب نے تیار کیا ہے۔ اس میں قرآنی قصص کو ان عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے:

پہلا حصہ: انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے قصے

دوسرا حصہ: اقوام کے قصے

تیسرا حصہ: نیک ہستیوں کے قصے

چوتھا حصہ: برے کرداروں کے قصے

پانچواں حصہ: قرآن کے انکشافات

· QS02: اس ماڈیول میں ہم قرآن مجید کے مضامین کا اجمالی جائزہ لیں گے۔ اس ماڈیول میں قرآن مجید کی ترتیب و تنظیم، قرآن فہمی کے اصول، قرآن میں بیان کردہ عقائد، اخلاقیات اور شریعت زیر بحث آئیں گے۔

· QS03: یہ ماڈیول قرآن مجید کے ایک منتخب نصاب پر مشتمل ہے۔ اس ماڈیول کا مقصد طلبا کو قرآن مجید کے مضامین سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے اندر پورے قرآن کو پڑھنے کا ذوق پیدا کرنا ہے۔ اس ماڈیول میں ہم قرآن مجید کے کچھ مخصوص اقتباسات لے کر ان پر عملی کام کریں گے۔ اس لیول کے اختتام پر ہم قرآن مجید کے پیغام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا مطالعہ کرنے کے لئے درکار بنیادی معلومات بھی حاصل کر چکے ہوں گے۔ اسی ماڈیول پر ہم یہ کوشش کریں گے کہ اپنا تزکیہ نفس کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو قرآن کے بیان کردہ آئیڈیل کے مطابق ڈھال سکیں۔

· QS04: یہ بہت ایڈوانسڈ سطح کا ماڈیول ہو گا جس میں نظم قرآن، قرآن کی تاریخ، اصول تفسیر، فن تفسیر کی تاریخ، علوم القرآن سے متعلق معرکۃ الآرا اختلافی مباحث اور قرآن پر کیے جانے والے اعتراضات کا مفصل مطالعہ شامل ہو گا۔

دوسری سیریز کا مقصد قرآن مجید کے مکمل متن اور تفاسیر کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس میں یہ ماڈیولز ہیں:

· QT01: یہ ماڈیول سورۃ الفاتحہ سے لے کر سورۃ المائدہ کے متن اور تفاسیر کے مطالعے پر مشتمل ہے۔

· QT02: اس میں ہم سورۃ الانعام سے لے کر سورۃ التوبہ کے متن او رتفاسیر کا مطالعہ کریں گے۔

· QT03: اس ماڈیو ل میں ہم سورۃ یونس سے لے کرسورۃ النور کے متن اور تفاسیر کا مطالعہ کریں گے۔

· QT04: یہ ماڈیول سورۃ الفرقان سے لے کر سورۃ الحجرات کے متن اور تفاسیر کے مطالعے پر مشتمل ہے۔

· QT05: اس ماڈیول میں سورۃ ق سے لے کر سورۃ الناس کے متن اور تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے گا۔

ماڈیولز QS01, QS02, QS03 تمام قارئین کے لیے دستیاب کر دیے گئے ہیں اور یہ سب اس لنک پر موجود ہیں:

http://www.islamic-studies.info/?page_id=281

بقیہ ماڈیولز کے لیے رجسٹریشن درکار ہے جو آپ اس لنک سے کر سکتے ہیں:

http://www.islamic-studies.info/?page_id=1209

آپ سے گزارش ہے کہ ان لنکس سے ان ماڈیولز کو ڈاؤن لوڈ کر کے ان کا مطالعہ شروع کر دیجیے۔ جو بھائی اور بہنیں ایڈوانسڈ سطح پر مطالعہ کرنا چاہیں، وہ رجسٹریشن کروا لیں۔ جو سوالات آپ کے ذہن میں پیدا ہوں، وہ بلا تکلف روزانہ ہمیں بھیجیے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کو کم سے کم وقت میں ان کا جواب فراہم کر دیا جائے۔
اللہ تعالی ہم سب کو قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔