Thursday, 29 August 2013

پینٹ شرٹ/ مغربی لباس۔۔۔ جائز یا ناجائز؟


سوال : پینٹ شرٹ پہننا جائز ہے یا ناجائز ہے۔ بعض علماءکہتے ہیں کہ پینٹ شرٹ پہننا جائز نہیں ہے اس سے غیر مسلموں کی مشابہت ہوتی ہے کیونکہ پینٹ شرٹ غیر مسلموں کا شعار ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو بندہ کسی جماعت اور قوم کی شباہت اپنائے گا وہ اسی میں سے ہے یعنی قیامت میں اسی قوم کے ساتھ اٹھے گا۔ کیا یہ ضروری ہیں کہ ہم اپنے آئیڈیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر معاملات میں اتباع کریں؟ کیوں کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک ادا اور سنت صرف قابل اتباع نہیں بلکہ مرمٹنے کے قابل ہے خواہ اس کا تعلق نشست و برخاست سے ہو یا عبادات سے متعلق۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟تفصیلی جواب دیں۔ (جہان زیب بلوچ۔ کراچی)

جواب:

السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ کیسے مزاج ہیں؟

آپ نے لباس کے متعلق جو سوال پوچھا اس کے متعلق میرے خیال میں شریعت اسلامی  نے  بنیادی اصول و ضوابط بتا دیے ہیں جو قرآن مجید میں سورة الاعراف میں بالکل وضاحت سے بیان ہیں۔

يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لیے لباس بنایا جو تمہارے ستر کو چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں۔( آیت 26)

 اس آیت میں لباس کے متعلق جو بنیادی اصول بتائے گئے ہیں وہ 1۔فریضۂ ستر پوشی،2۔ موجب زینت اور 3۔تقویٰ ہے۔ احادیث مبارکہ میں مزید شرائط و اصول بیان کیے گئے ہیں لیکن وہ بھی دراصل انہی بنیادی اصولوں کی توضیح ہے ۔مذکورہ اصولوں کی تفصیل احادیث کے ساتھ حسب ذیل ہے۔

فریضۂ ستر پوشی

لباس کے متعلق سب سے اہم امرستر پوشی ہے۔ لہٰذا جو بھی لباس اختیار کیا جائے اس میں اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ اس فریضے کو بخوبی ادا کرے۔اس سلسلے میں دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

1.     ایسا لباس جو جسم سے چپکا ہوا ہو اور بہت زیادہ چست ہو ایسے لباس سے احتراظ کرنا چاہیے بالخصوص عورتوں کواس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ حدیث پاک میں ایسے لباس والی عورتوں کو لباس سے عاری اور برہنہ کہا گیا ہے جن کے لیے دوزخ کی وعید ہے (مسلم شریف رقم ۲۱۲۸) ۔
2.     لباس اتنا باریک نہ ہو کہ جس سے جسم کے اعضاءنظر آتے ہوں ۔ مردوں کے لیے ناف سے گھٹنوں تک ستر چھپ جانے کے بعد دوسرے کپڑے باریک ہوں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

زینت

 لباس وہی استعمال کرنا چاہیے جوباوقار ہو اور اپنی جنس کے اعتبار سے خوبصورتی اور زینت کا موجب ہو۔ ایسا لباس اختیار کرنا ہرگز درست نہیں جس میں بے ہودگی ، حماقت اور بد صورتی ظاہر ہو۔ ستر پوشی کے علاوہ ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق لباس میں زینت و جمال کا خاص خیال رکھا جائے۔

تقویٰ  

ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد ہی تزکیہ نفس اور تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ لباس میں بھی اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ لباس سے تقویٰ کا اظہار ہو۔لہٰذا:۔

1.     ایسا لباس ہرگز استعمال نہ کیا جائے جس سے تکبر اور غرور ٹپکتا ہو، یہی وجہ ہے کہ عرب میں ٹخنوں سے نیچے شلوار (یا پائجامہ) رکھنا غرور و تکبر کی علامت تھی جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
2.     لباس اختیار کرنے میں اسراف سے اجتناب کرنا چاہیے۔ غیر ضروری زینت اور لباس پر کثیر رقم خرچ کرنا فضول خرچی ہے۔ بخاری شریف میں حدیث مبارکہ میں ہے کہ جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو البتہ دو چیزیں تمھیں گناہ میں مبتلا نہ کردیں۔ فضول خرچی اور تکبر
3.     مرد عورتوں کا لباس اور عورتیں مردوں کا لباس استعمال نہ کریں۔ یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔ حدیث مبارکہ (بخاری شریف رقم الحدیث ۵۵۴۷) میں اس بارے میں سختی سے ممانعت آئی ہے اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی شباہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔
4.     ایسے لباس سے اجتناب کرنا چاہیے جو کسی قوم کا مذہبی شعار ہو۔حدیث مبارکہ میں اس کی ممانعت ہے۔
 ان اصولوں کی روشنی میں دور حاضر کے مروجہ لباس پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ماضی میں علمائے اسلام کا تعلق عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، شام اور اندلس سے تھا ، سبھی علماء اپنے اپنے مقامی لباس پہنا کرتے تھے اس بارے میں کوئی پابندی نہ تھی۔

اب میں آپ کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔ ہمارے ہاں اس معاملے میں دو نظریات ہیں۔ روایت پسند علماءکا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے اور ویسا ہی لباس پہننا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہنا کرتے تھے۔ تاریخ اور احادیث میں بکثرت روایات موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتہ ، پاجامہ اور تہبند زیب تن کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں روایتی علماءبھی عام طور پر اسی قسم کا لباس مثلاً شلوار قمیص ، وغیرہ پسند کرتے ہیں ، بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ بعض علماءایسے بھی ہیں جو صرف اسی کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں ان کا یہی کہنا ہے جو آپ نے لکھا کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک ادا اور سنت صرف قابل اتباع نہیں بلکہ مرمٹنے کے قابل ہے خواہ اس کا تعلق نشست و برخاست سے ہو یا عبادات سے متعلق۔ بے شک ان کا کہنا بھی درست ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک سنت مرمٹنے کے قابل ہے۔

جبکہ دوسری طرف معتدل علماء کا طبقہ ہے جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مخصوص لباس کی تاکید نہیں فرمائی ہو یا کسی لباس کو بطور دینی حکم کے جاری فرمایا ہو۔ اخلاقی اصولوں (جن کی توضیح اوپر کی گئی ہے) کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی معاشرے سے تعلق رکھنے والا لباس ہمارے لیے جائز ہوگا۔ آپ نے جو حدیث بیان کی وہ ابو داؤد شریف کی ہے لیکن علماء کی اس جماعت کے مطابق اس حدیث کا تعلق عام لباس سے نہیں بلکہ لائف اسٹائل اور مذہبی شعار سے متعلق ہے۔ یعنی لباس سے وابستہ وہ علامات جو کسی خاص مذہب یا فلسفے کی علامت کے طور پر مقرر ہو۔ جیسے نارنگی رنگ میں ایک قسم کا لباس ہندوؤں اور بدھ بھکشوؤں کے ہاں رائج ہے۔ اسی طرح گلے میں صلیب لٹکانا، سر پر چوٹی رکھنا یہ سبھی مذہبی شعائر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی لباس پہنا کرتے تھے جو اس دور میں اہل عرب پہنتے تھے۔عرب کے تقریباً سبھی لباس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیب تن فرمائے ۔ ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق آپ نے جبہ اور فروج (ایک قسم کا کوٹ) بھی پہنا۔مسلم کی روایت کے مطابق آپ نے ایرانی جبہ پہنا ۔ ان سبھی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں کسی لباس کو بطور دینی حکم یا شعار کے جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس سلسلے میں اصول بتاکر ہماری رہنمائی فرمادی ہے۔

اتباع سنت کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت دو قسموں پر مانی گئی ہیں: (1)سنن ہدیٰ ۔(2) سنن الزوائد۔علامہ شامی نے ان کی تشریح یوں کی کہ ہے کہ سنن ہدی سے مراد وہ سنت ہیں جودین کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس کا تارک گمراہ ہے۔ جب کہ سنن الزوائد وہ سنت ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جسے آپ نے خاص حکم نہیں فرمایا ہو تاہم ان کی عادت رہی ہو۔مثلاً لباس، قیام و قعود، رکوع و سجود کو طویل کرنا وغیرہ۔
سنن الزوائد میں وہ امور جن کا تعلق تمدن و معاشرے سے ہوتا ہے ان معاملات پر عمل کرنا دین کا حکم نہیں ہے۔لباس کی مثال ہم دے آئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عرب کا عام لباس ہی پہنا۔ اس کے علاوہ دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سواری کے وہی ذرائع اونٹ ، گھوڑا، خچر وغیرہ استعمال کیے جو اہل عرب کرتے تھے۔ جنگوں میں بھی وہی اسلحہ استعمال کیا جو اس دور میں تمام افواج کرتے تھے۔یہ سب چیزیں تمدنی نوعیت کی ہیں، اس کا دین سے بنیادی اصول و ضوابط کے علاوہ کوئی تعلق نہیں ہے۔لباس بھی اسی شام ہے۔سنن الزوائد میں وہ امور جن کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی طبعی  پسند و ناپسند سے ہو مثلاً کسی کھانے کا زیادہ پسند کرنا ، کسی کھیل میں دلچسپی رکھنا یہ دین کا حکم نہیں ہے اور اس میں ہم اپنے طور  کچھ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔مثلاً بعض علاقوں مں ایک چیز کھانا عجیب اور بعض جگہوں پر مرغوب غذا ہوتی ہے۔  چنانچہ صحیح مسلم : کتاب الصید والذبائح میں یہ ہمیں یہ واقعہ ملتا ہے کہ

 سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک بھنی ہوئی گوہ لائی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تووہاں موجود کچھ خواتین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بتاؤ کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ سنا تو اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔پوچھا گیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا یہ حرام ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: نہیں۔ لیکن جہاں میری قوم رہتی ہےوہاں یہ نہیں ہوتی، اس وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔اس کے بعد دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کھانا شروع کردیا جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  دیکھتے رہے۔

چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی طبعی پسند نا پسند دین کا حکم نہیں رکھتی ورنہ صحابہ کرام ہرگز وہ نہ کھاتے یا آپ انہیں منع فرماتے۔اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خندق کھودنے کا مشورہ مانا، جو کہ ایران میں مجوسیوں کا طریقہ تھا لیکن ان کا مذہبی شعار نہ تھا بلکہ جنگ کےمتعلق حکمت عملی تھی۔کسی لباس کو سنت قرار دے کر اس سے ذرا ہٹ کر لباس اختیار کرنا جائز نہیں ہے تو پھر دوسرے امور جیسے جدید سواریوں ،اسلحوں کے استعمال میں کیوں قباحت نہیں ؟  اس استدلال کی بنیاد بنایا جائے و پھر ہمیں چاہیے کہ پھر ہم جنگ میں تیر کمان اور تلوار کا استعمال کریں، سواری کے لیے گھوڑے، گدھے اور خچر کااستعمال کریں۔ لہٰذا واضح ہے کہ ان چیزوں کا تعلق تمدن سے ہے نہ کہ دین سے،اور یہ سنتیں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بطور تمدن اختیار کیا ہو اسے اختیار کرنا ہم پر لازم نہیں ہے البتہ بطور سنت اسے محبت میں اپنایا جاسکتا ہے۔ میں بھی اسی بات کا قائل ہوں کہ اوپر جو اصول بیان کیے گئے ہیں انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے لباس پہنا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

جہاں تک پینٹ شرٹ کا تعلق ہے تو اس کی حیثیت ایک بین الاقوامی لباس کی ہے ، دنیا بھر میں تمام مسلم و غیر مسلم قومیں اسی پہنتی ہیں، اگر پینٹ شرٹ مذکورہ اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے پہنا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مجھے نہیں معلوم ہمارے علماء میں یہ غلط فہمی کیوں پھیلی ہوئی ہے کہ  کوٹ پتلون کفار کا شعار ہے۔  تاریخ اس بارے میں بالکل واضح ہے کہ یہ لباس اسپین کے مسلمانوں کا تھا جس دور میں مسلمان ہر اعتبارسے غالب اور ترقی یافتہ تھےلہٰذا مسلمانوں کا یہ لباس یورپ والوں نے اختیار کیا اور آج یہ ایک بین الاقوامی لباس ہے۔  اگر آج ہم جدوجہد کرکے دنیا پر غالب آجائیں تو ہمارا قومی لباس بین الاقوامی لباس بن سکتا ہے۔

اگر جواب میں کوئی شبہ رہ گیا ہو تو بلاتکلف دوبارہ پوچھ لیں۔
والسلام

حافظ محمد شارق

Sunday, 25 August 2013

Saving Water is a duty of care

Saving Water is a duty of care

Hafiz Muhammad Shariq

Water is essential to life on earth. It plays an important role in the life of all species on the earth. Not only for life but also needed for personal cleanliness, and general hygiene. It is also indispensable to agriculture and industry. Thus, water is a crucial concern for planet earth and its inhabitants.

Although every existence on Earth depends on the water, But unfortunately we are not aware about the importance of this precious element. Today, the Water scarcity is increasing across the world, especially in developing countries. A report issued by United Nations Development Program 2006 (UNDP) shows that nearly 1 billion people in the developing world don't have access to it. And 2.7 billion experience water scarcity at least one month a year. And more than 3.4 million people die each year from water, sanitation, and hygiene-related causes. The report also warns that, by 2025, two-thirds of the world’s population may be facing water shortages. It is all about the only 0.3% of water which is available on the earth for us. But Despite it all the extremely sad reality is that we are a lot more careless in recent time, and we waste more water than ever before. Many people are oblivious or careless when it comes to saving water.

As a universal Messenger of God, Prophet Muhammad S.A.W gives us instructions about every aspect of life; it is not surprising that he takes the issue of water and its conservation very seriously and Like other necessities of life. Moreover, In Islam, We are reminded that, “We made from water every living thing,” (Al- Anbiyaa:30). Prophet Muhammad S.A.W enjoined several times to conserve water.

 The Holy Prophet (Sallallahu alaihi wa sallam) has ordered the Ummah to save water and not to waste it. It has been narrated that once the Holy Prophet (Sallallahu alaihi wa sallam) passed by his companion Hadhrat Sa'ad (May Allah be well pleased with him) when he was performing wuzu (procedure for washing parts of the body using water). He (Sallallahu alaihi wa sallam) said: What wastage is this? Hadhrat Sa'ad said: Is there wastage in wuzu also? The Holy Prophet (Sallallahu alaihi wa sallam) said: Yes, even if you are at a flowing river.  (Sunan Ibn Majah, Vol 1, Pg No: 34)

On another occasion the Holy Prophet (Sallallahu alaihi wa sallam) said: Do not waste (water), do not use more water than you need it. (Sunan Ibn Majah, Vol 1, Pg No: 34)

In the light of these Hadiths, we all should take our duties to reduce our water consumption more seriously. As we save money for our future, we have to save water for ourselves and for our future. To conserving water, small adjustments can have a big impact. Here are some tips for easy ways to conserve water in the home and garden, and water conservation products:

Tips:

  1. Check for leaks, especially faulty washers, and repair them!
  2. Turn off the tap when you brush your teeth
  3. Add a water hippo (or any other harmless heavy object you can find!) to the water tank of your toilet to reduce the amount of water used to flush it.
  4. Wash your dishes without use of the dishwasher. If you do need to use a dishwasher, make sure it is completely full before you turn it on. Keep showers short and baths to a minimum.
  5. Put faucet aerators on sink faucets.
  6. Never clean your car at the car wash - hand washing saves you money and water.
  7. Take water in glass/cup as needed. Don’t throw out the remaining water. Use it for anything else.
  8. Use a watering can in the garden - hosepipes use up to 540 liters of water an hour (which is a lot when you consider a watering can only holds around 10 liters)
  9. Check you water bills to monitor you family’s water consumptions. Re-look your family consumptions if it’s more than average.
  10. Share these water-saving tips and discuss water efficiency at team meetings, identifying where water usage can be reduced.
Remember! Today we are wasting water as there we have a large amount of water. But we must think on this issue for the sake of our kids, our planet and ourselves or it would be difficult to live.

Every drop of water is precious and start conserving water 

before it is too late.



Wednesday, 7 August 2013

مسلمان اور روزہ

مسلمان اور روزہ

امّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ اُس پر اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان المبارک کے روزوں جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے ۔ قرآن مجید میں رمضان کے متعلق ارشادِربانی ہے:

اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ پچھلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (سورۃ البقرۃ۔ آیت 157)

اس ماہِ مبارک کی اہمیت و عظمت کی وجہ قرآن مجید نے یہ بیان فرمائی ہے۔

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو (سورۃ  البقرۃ)

اول الذکر آیت میں اللہ نے ایمان والوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، یعنی پرہیزگار بنو۔یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں روزے کے لیے "صوم" کا لفظ آیا ہےجس کے  معنی "رکنے " کے ہیں۔ "روزہ" فارسی  لفظ ہے ،چونکہ ہندوستان میں مسلم دور میں فارسی رائج تھی اس لیے یہی اصطلاح عام ہوئی ۔

بد قسمتی سے آج ہم روزے کی افادیت و روحانیت اور اس کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ہمارے نزدیک ایک مخصوص وقت تک بھوکا پیاسا رہنے کا نام روزہ ہے ۔ اس ضمن میں چند اہم نکات کو اجاگر کرتے ہوئے اس نیت سے گفتگو کرتے ہیں کہ ہم صرف روزے کی اہمیت و افادیت کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اس کے ساتھ ہی اس پر عمل کرکے تقویٰ کا حصول بھی اپنے لیے ممکن بنائیں۔روزے میں صرف کھانے پینے سے رک جانا ہی کافی نہیں بلکہ ہر اُس عمل اور امر سے رُک جانا بے حدضروری ہے کہ جس سے بچنے کی تاکید اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث مبارکہ کا تذکرہ کرنا یہاں ضروری ہے ۔

"اگر کوئی شخص جھوت بولنا اور دغابازی نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کے بھوکہ پیاسہ رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔“ (بخاری)

حدیث مبارکہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ صرف بھوکا پیاسا رہنا ہمارے روزے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ جھوٹ ، غیبت، چغلی، فحش گوئی ، بد زبانی اور تمام برائیوں سے رکنا ہی روزے کی اصل روح ہے اور اسی کے ذریعے ہم روزے کی اہمیت و افادیت نہ صرف پاسکتے ہیں کہ بلکہ مذکورہ آیت کے پیش نظر تقویٰ کے حصول کو بھی اپنے لیے آسان بناسکتے ہیں۔

عام مشاہدہ ہے کہ روزے کی حالت میں لوگوں کو  بہت جلدی غصہ آجاتا ہے اور ہر بات پر جھگڑنا شروع کردیتے ہیں، جبکہ اللہ کا دین اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا، بلکہ ایک روایت کے مطابق تو غصہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اہم حصہ عفو و درگزر پر مبنی ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی سیرت مبارکہ  کا مطالعہ کیجیے، ہرایک موقع پر آپ کو طاقت کے باوجود عفو و درگزر کارویہ نظر آئے گا۔وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے دشمنوں کو معاف کردیا کرتے تھے۔لیکن افسوس کہ ہم ایک مسلمان کی غلطی سے لگی ٹھوکر بھی معاف نہیں کرسکتے؟

حضرت جبرائیل علیہ السلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ہلاک ہوجائے وہشخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور روزے بھی رکھے لیکن اپنی مغفرت نہ کروا سکا۔ اس جملے پر پیکرِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آمین کہا۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کے بعد ہمارے لیے بخشش کا بھی کوئی ذریعہ ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
ماہِ رمضان ایک مہمان کی طرح ہمارے درمیان آتا ہے، ہم اپنے گھر آنے والے مہمان کی نہ جانے کتنی عزت و تکریم کرتے ہیں، ہر طرح سے اس کا خیال رکھتے ہیں کہ رخصت ہوتے ہوئے وہ ہم سب خوش ہوتے جائے۔ذرا غور کیجیے کہ کیا ہم اللہ کے اس مہمان کے لیے بھی ایسے ہی اعمال و افعال بجا  لاتے ہیں جب یہ مقدس مہمان ہم سے رخصت ہو تو ہم سے راضی ہوکر رخصت ہو؟ اللہ کے اس پیارے مہمان کے لیے بھی اپنے دل میں یہی جذبۂ عقیدت و احترام بیدار کیجیے۔ یہ جذبہ زبانی دعووں سے نہیں بلکہ زبان عمل سے ہونا چاہیے۔

محمد بلال

bilal_king_4@hotmail.com

(بلاگر کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)  

Wednesday, 24 July 2013

پورنوگرافی: مغرب کا ناسور۔

حافظ محمدشارقؔ

آج صبح بی بی سی میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پورنو گرافی(Pornography)بلاک کرنے کااردۂ خیر کیا ہے اور وہ اس حوالے سے ہونے والے معاشرتی نقصانات کے متعلق کافی پریشان ہیں۔انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پورنوگرافی ہمارے بچوں کو برباد کررہی ہے، ہر تیسرا بچہ اپنی عمر کے دسویں برس کو پہنچتے ہی ان ویب سائیٹ کو دیکھنے لگتا ہے۔نیز انھوں نے زنا بالجبر یعنی ریپ کی منظر کشی کرنے والی فلم کو خصوصاً بند کرانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

 ذاتی طور پر میرے لیے یہ خبر کوئی حیرت ناک نہیں ہے، کیونکہ بحیثیت مسلمان میرا ایمان ہے جو بات ہمارے اللہ نے قرآن مجید میں اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی وہ بلا شک و شبہ حق ہے، اگرچہ اس کا احساس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والوں کو بعد میں ہو۔

جہاں تک مغرب میں پورنوگرافی کے فروغ کا تعلق ہے تو اٹھارہویں صدی میں جب وہاں الحاد کا فروغ ہوا تو ساتھ ہی فحاشی کا سیلاب برپا ہوا اور مذہب بیزاری کی وجہ سے اخلاقیات کا جنازہ اٹھا۔جنسی آزادی و اباحیت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔کچھ  ہی عرصے میں باقاعدہ طور پر پورنو گرافی پر مبنی فلم انڈسٹری قائم کردی گئی جس میں فحاشی کوعروج پر پہنچایا گیا۔ اور پھر مغرب کے معاشی نظام  بھی اس اخلاقی گراوٹ میں برابر کا شریکِ کار رہا ، بلکہ میرے نزدیک فحاشی کو سپورٹ کرنے میں سب سے اہم کردار ہی اس نظام نے ادا کیا کیونکہ اسی نظام کا اصرار تھا کہ منافع کے حصول کے لیے حلال و حرام کی کوئی تفریق نہیں اور نہ ہی کوئی اخلاقی و مذہبی پابندی ہونی چاہیے ۔ ہر انسان کو تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کے لیے قطعی آزاد چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے جو طریقہ مناسب سمجھے اختیار کرلے، نتیجتاً زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے زیادہ سے زیادہ برائی پیش کی گئی۔ بیسویں صدی میں انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بدولت پورنوگرافی کی وباء بہت زیادہ پھیلی ، جس کا مشاہدہ آج ہم مشرقی ممالک میں بھی بخوبی کررہے ہیں۔لیکن اس کارجحان مغرب میں روحانیت کے فقدان کے سبب زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہاں پورنوگرافی(Pornography) انڈسٹری کو آزادیٔ رائے اور شخصی آزادی کے اصولوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ان کے نزدیک فحاشی بھی ایک انڈسٹری ہےاور اس میں کام کرنے والوں کی  حیثیت عصمت فروش یا طوائف کی نہیں بلکہ یہ محض ایک فلمی پیشے کی حیثیت رکھتا ہے۔

پورنوگرافی یعنی فحاشی کے بارے میں دین ِ اسلام نے اپنا موقف چودہ سو سال قبل ہی واضح کردیا تھا۔ اسلام نے  معاشرے کو زنا اور جنسی انتشار سے بچانے کے لیے فحاشی کے فروغ پر پابندی لگائی ہے اور معاشرے کو پاکیزہ اور مثبت اقدار پر قائم کرنے کی ہدایت دی۔قرآن مجید میں یہ تعلیمات بہت سے مقامات پر ہیں۔مثلاً

شیطٰن یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء ۔ (البقرۃ268 :)
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔

ولا تقربوا الزني انه كان فاحشة وساء سبيلا (بنی اسرائیل: 32)
اور زنا كے قريب بھى نہ جانا كہ يہ فحاشی  ہے اور بہت برا راستہ ہے۔

فحش برے اور بے حیائی کے کام کو کہتے ہیں بالخصوص یہ لفظ جنسی راہ روی کے لیے خاص استعمال ہوتا ہے۔ آیت میں واضح  طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر وہ كام كہ جوانسان كو زنا كے قريب بھی لے جاتا ہے اس سے بچنا لازم اور واجب ہے۔ قابل غور نکتہ ہے کہ الله تعالى نے ''لا تزنوا'' (ىعنی زنا نہ كرو)نہیں فرمایا؛؛ بلکہ  زنا کے قریب بھی جانے سےمنع فرمایا۔یعنی اس نكتہ كى طرف توجہ دلا ئی کہ ہر وہ عمل جو زنا پر ختم ہوچونكہ وہ بدكارى كى طرف لے جانے والا عمل ہے وہ حرام ہے۔یعنی زنا سے متلق خیالات اور اس کی جانب لے جانے والے اقدامات بھی اس زمرے میں شامل ہیں ۔لہٰذا ان ذرائع کا استعمال بھی حرام ہے جو زنا سے قریب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔یہ بات یہ یقیناً کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پورنو گرافی زنا کا ایک سب سے اہم سبب ہے۔

اول الذکر آیت اس حقیقت کو بالکل صاف انداز میں بیان کرتی ہے کہ شیطان انسان کو فکرِ معاش کے بہانے سے بے حیائی کی تلقین کرتا ہے اور اسے دولت کے خاطر ہر قسم کے برائی کے فروغ کی تلقین کرتا ہے۔جس دور میں مغرب میں جب فحاشی عام ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ہر ایک کو جنسی آزادی اور کاروبار کا حق ہونا چاہیے خواہ  کوعریانیت کا ہی کیوں نہ ہو۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فحاشی کو معاشرے میں بگاڑ کا سبب قرار دیا تھا اور اس حوالے سے معاشی پہلو کو خاص ذکر کیا  تھا ۔لیکن  وادیانِ مغرب اس کے باوجود آیت کا مکمل طور پر مصداق بنی اور نتیجہ  وہی ہوا جو اللہ نے قرآن "ساء سبیلا"کے الفاظ سے بتایا تھا، یعنی زناکے قریب جانا وہ راستہ ہے  جو کہ یقیناً فرد و معاشرےکو برے انجام تک لے جاتی ہے۔قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے  یہ اعداد و شمار دیکھیں۔ایک سروے کے مطابق مغرب میں چھ سال کی عمر میں بچے پورن سائٹ دیکھنے لگ جاتے ہیں، انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جانے والا30فیصد مواد فحاشی پر مبنی ہوتا ہے،[1] تقریباً ہر چالیس منٹ میں ایک فحش فلم بنائی جاتی ہے اور ہر وقت کم از کم  30ہزار افراد یہ مواد دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ "ریپ کرائسز " نامی ایک معبتر ادارے کے اعداد و شمار دیکھیں جس کے مطابق ہر سال تقریباً پچاسی ہزار خواتین برطانیہ اور ویلز میں جنسی زیادتی نشانہ بنتی ہیں، ہر سال تقریباً چار لاکھ خواتین پر جنسی زیادتی کی غرض سے حملہ کیا جاتا ہےاورہرپانچویں عورت سولہ برس کی عمر تک کسی نہ کسی ذریعے جنسی تشدد سے گزر چکی ہوتی ہے۔[2] کیا اس سے بھی بھیانک صورتحال کسی معاشرے میں ہوسکتی ہے؟
یہ حالت صرف مغرب کی نہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح پر ہمارے مشرقی اقدار کے دعویدار معاشروں میں بھی یہ وباء اب عام ہوتی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ اور کیبل کی بدولت فحاشی آج ہر گلی محلے تک پہنچ چکی ہے، اور اس پر مزید یہ کہ ہم نے اپنے کمزور ایمان، غیراسلامی نظریات اور بعض حالات کی بنا پر شادی کی بنیادی ضرورت کو نوجوانوں کے لیے ناقابلِ رسائی بنادیا ہے،جبکہ زنا آسان سے آسان تر ہوتا جارہا ہے۔  جس کی وجہ سے نوجوان نسل آج اپنے جنسی جذبات کی تسکین کے لیے دنیا کی نظر سے چھپ کر، انٹرنیٹ کی تاریک گلیوں میں آوارہ پھرتے ہوئے اپنے قلب و نگاہ کو ناپاک کررہی ہے۔اگر ہم نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے شادی کو آسان نہ کیا تو پھر وہ خدا نہ کرے وہ دن دور نہیں جب ہمارے ہاں بھی یہ اباحیت اسی قدر عام ہوگی ۔مغرب نے خدا فراموشی کے سبب جس چیز کو جائز ٹھہرایا تھا آج ہم اپنے نوجوانوں کو اخلاقی کجروی کیاسی راہ پہ ڈال دیا ہے ۔
اللہ کے قانون کے مطابق ابلیسیت کا نظام اپنا فضلہ خارج کررہا ہے   تووہی اہل مغرب جو فحاشی کوآزادی سمجھتے تھے ، اب اسے ایک ناسور ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں اور وہ اخلاقی قدروں کے تحفظ کے لیے فکر مند ہوگئے ہیں، یہ تو صرف ڈیوڈ کیمرون کا اعتراف ہے، ورنہ وہاں کی کئی غیر جانب دار این جی اوزاس حقیقت کا اعتراف برسوں پہلے کرچکی ہیں، آج مغربی مفکرین سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنےاس معاشرتی مسئلے  مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ پورن سائٹس کو بلاک کرنا اگرچہ ایک مستحسن اقدام ہے لیکن فحاشی کے دیگر کاروبار کرنے والوں کو اس برائی کے پھیلانے سے آپ  کہاں تک روکیں گے؟دولت کے حصول کا یہ نشہ اس قدر وحشت ناک ہے کہ انسان نے معاشرے میں پائے جانے والی تمام اخلاقی زنجیروں کو بھی نکال کے پھینک رہا ہے۔ملحدین مذہب کے مقابلے جو اخلاقیات کا تصور پیش کرتے ہیں اس خبر سے اس کی قلعی کھل گئی ہے کہ بے مذہب انسان اخلاقی اقدار کا کس قدر لحاظ رکھتا ہے۔ مذہب کی بیان کردہ اخلاقیات کے بغیر آخر وہ کون سا جذبۂ محرکہ ہوگا جو انھیں بے حیائی کے فروغ سے روک سکے؟
میرے خیال میں جب تک فرد میں برائی کو برائی سمجھنے اور اسے روکنے کا احساس پیدا نہ ہوگا، جب تک اس کے دل میں خدا کے حضور احساس جوابدہی نہ ہوگا اس وقت تک انسداد فحاشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ احساس جوابدہی اور کسی محرک کے بغیر  ساری انسانیت بھی اپنی مژگان  کاوش اٹھا لے تب بھی  ان سب کا نتیجہ وہی حسرت زدہ صدائیں اور احساسات ہوں گے  جس کا اظہار آج  مسٹر کیمرون نے کیا ہے۔
حافظ محمدشارقؔ
hmshariq@gmail.com
hmshariq@islamic-studies.info

Sunday, 21 July 2013

علماء بیزاری ۔


علماء بیزاری
محمد بلالؔ

عصر حاضر میں ملت اسلامیہ جن فتنوں میں مبتلا ہے ان میں سے ایک عظیم فتنہ علماء بیزاری بھی ہے۔امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے علمائے کرام کوانبیاءکا وارث قرار دیا ہے کیونکہ ان کے  فرائض منصبی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و  کردار اور تعلیمات کی تبلیغ اور امت مسلمہ کی رہنمائی شامل ہے، جسے علماء کرام الحمد لله اپنے اپنے دائرہ میں بجا لا رہے ہیں۔
 لیکن افسوس کہ آج ان ورثاء کے خلاف اور وہ علم جس کی بنیاد پر وہ وارث ہیں، دشمنانِ اسلام اور مغرب زدہ طبقے کی ایک ایسی انوکھی سازش رچائی ہوئی ہے جس کا موجودہ  پُر فتن دور میں رہنے والےسادہ لوح مسلمان بہت آسانی سے شکار ہوچکے ہیں۔امت کا عروج و زوال اس بات پر موقوف ہے کہ ان کا تعلق دین سے کس قدر ہے، اور بدیہی طور پر عوام الناس کا تعلق دین سےعلمائے کرام کی وساطت ہی ہوتا ہے۔
علمائے کرام جو دین کی اصل روح بیان فرماتے ہیں، جنھیں سُن کر، جن کی صحبت میں رہ کر مومنین اپنے ایمان میں ترقی کرجاتے ہیں لیکن یہ تعلق دشمنان اسلام کو ہضم نہیں ہوتا، وہ چاہتے ہیں کہ امت میں  علمائے حق سے بیزاری کی عام فضاء پھیلادی جائے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک نیا فتنہ متعارف کروایا ہےوہ ہے میڈیا کے علماء۔
 میڈیا کے یہ اسلامی سکالرز اس لیے پیش کیے گئے ہیں کہ مسلمان اپنی دینی قیادت مستند و معتبر علمائے کرام کے بجائے ان اسلامی اسکالرز کو تسلیم کرلیں۔ اسلامک سکالرز کے نام پر ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جن کے الفاظ نہایت شریں اور زبان بے حد خوبصورت ہے، مگر اصل کچھ اور۔ یہ  وہ حضرات ہیں کہ جنھوں  نے اپنے چہرے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم کر رکھے ہیں۔ ان نام نہاد  اسلامی  اسکالرز کو کہیں اشتہار میں دیکھ کر میری روح پکارتی ہے کیا  ان "اسلامی سکالرز" کا دل نہیں لرز اٹھتا جب وہ اپنے پیارے نبی کی سنت کو نالی میں بہادیتے ہیں۔ جن مہمان علمائے کرام / اسکالرز کو یہ میزبان اسکالرز اپنے پروگرام میں بلاتے  ہیں ان کی ڈارھیاں تو سنت کے مطابق ہوتی ہیں تو یہ کون سا سکالرزکا طبقہ ہے جن کے لیے واجب پر عمل کرنا ضروری نہیں؟
زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ نام نہاد متعصب سکالرز اسلامی روح کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کے مطالعہ کا ماخذ حقیقی اسلامی فکر نہیں بلکہ مغرب کی وہ وادیاں ہیں  جہاں دین اسلام کے خلاف مختلف شکوک و شہبات کی تخم ریزی کی جاتی ہے۔ان کے  مطالعے میں وہ وسعت و گہرائی نہیں جو ایک عالم دین میں ہوتی ہے۔یہ لوگ چند کتابیں رٹ کر وہ دین پیش کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے غیر مسلموں سے سیکھا ہے۔ایسے لوگوں کی حقیقت میں حبِ جاہ کے مرض میں مبتلاء ہیں جنھوں نے  صرف شہرت طلبی اور پیسوں کے خاطردوسروں کو سھدارنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ایساعلم یقیناً روزِ محشر رسوائی کا سبب ہوگا جس کی بنیاد حبِ رسول نہیں بلکہ حب جاہ ہو۔
علم بے عشق است از طاغوتیاں
علم با عشق است از لاہوتیاں
ایک "اسلامی اسکالر" صاحب کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ خود کو اللہ کا ولی قرار دیتے ہیں اور دورانِ گفتگو زبان کے ساتھ ان کے ہاتھ میں تسبیح بھی چلتی جاتی ہے، اور ان اسکالر صاحب کی شانِ علمیت تو دیکھیں کہ وہ ایک کوئز شو میں بتاتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم و بیش چھ ہزار برس قبل آئے۔ میرے نزدیک ایسے شخص کو  نہ ہی دین کا علم ہے نہ ہی تاریخ کا۔ایسے "عالم" کے علم کے بارے میں اقبال نے خوب تبصرہ کیا ہے۔
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دو کفِ جَو
یہ حالات دیکھ کرمجھے اپنے نبی پاک فدا ہ ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو غالباً انھی حالات کی پیشن گوئی میں فرمائے گئے۔
 اﷲ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے بلکہ علماء کو موت د ے کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔(بخاری۔ کتاب العلم)
 علمائے کرام سے دوری کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں میں اب علمِ دین سیکھنے کا وہ جذبہ نہیں رہا جو کبھی ہمارے اسلاف میں بے انتہاء موجودتھا۔ آج ہم ایک طرف اپنی اولاد کو دنیا کے بہترین علوم و فنون سکھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں پر اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ مستقبل ان معمار وں کو، جو امت مسلمہ کے ترجمان ہوں گے، انھیں نمازو قرآن بھی آتا ہے یا نہیں؟
مرض کی نشاندہی کے بعد اب اس کے علاج کی طرف آتے ہیں کہ آخر کس طرح ہم اس ناپاک سازش کو ناکام بناسکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں جوئے شیر کی سی محنت کی ضرورت نہیں بلکہ بس چند ایک باتوں پر عمل کرلیا جائے تو یہ نوزائدہ فتنہ خود ہی  جوان ہونے سے قبل دم توڑ دے گا۔
اس ضمن میں سب سے پہلے ہمیں قرآن مجید کے اس حکم  کو اپنے ذہن و قلب میں جمالینا چاہیے کہ "اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سےسوال۔" آیت مبارکہ میں اہل علم سے مراد وہی ورثائے انبیاء ہیں جنھوں نے ہمارے دین کو زندہ رکھا ہے۔اگرچہ علمائے حق کی تعدادبمطابق  حدیث کے دن بدن گھٹتی چلی جارہی ہے لیکن الحمد اللہ اب بھی ہمارےارد گرد اچھے حق پرست علماء موجودہیں۔ ہمیں خود کے لیے ان کی صحبت اختیار کرنا لازم کرنا ہوگا۔ ان کی دینی محفلوں میں شرکت صرف ایک رسمی طور پر نہیں بلکہ سیکھنے اور عمل کے جذبے کے تحت کریں اور اُس پر عمل کرتے ہوئے اسے اپنے اہل و عیال ، دوستوں اور رشتہ داروں تک بھی پہنچائیں۔ یہی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "پہنچادو میری طرف سے اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔" لہٰذا دعوت وتبلیغ کے لیے سب سے کم Qualification یہ ہے کہ ایک آیت بھی آگے پہنچادی جائے۔ لہٰذا ایک اچھی بات پتہ چلے  تو اسے خود تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی تک ضرور پہنچائیں۔ خود قرآن کو پڑھیے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ جہاں کہیں کچھ اشکال پیدا ہو،اطمینان قلب کے لیے  علماء سےرجوع کریں۔اور آخر میں ایک انتہائی اہم بات۔ وہ یہ کہ خود کو اور اپنے گھر والوں کو میڈیا کے اس گندے تالاب سے بچاکر رکھیں جہاں رنگین مزاج"سلالرز" "رنگین  اسلام" پیش کررہے ہیں اور غیر شعوری طور پر مسلمانوں کوعلمائے حق سے دور کررہے ہیں۔
یاد رکھیں ہمیں ان سب باتوں پر عمل کرنا ، اور لازمی کرنا ہے ورنہ قرآن کا یہ فیصلہ ہم پر صادر ہوگا کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کریں۔اقبال کے ان اشعار سے اس تحریر کو ختم کروں گا اس امید سے کہ شاید کہ اترجائے میری بات تیرے دل میں۔ ۔۔اقبال کہتےہیں:
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک و خیال خیالِ بلند و ذوقِ لطیف  

محمد بلالؔ
bilal_king_4@hotmail.com


(بلاگر کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں) 

دینِ اکبری اور شریعت کی مخالفت

Wednesday, 17 July 2013

علوم القرآن پروگرام



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے۔ اس مقدس مہینے میں ہم پر اللہ تعالی کا سب سے بڑا احسان یہ ہوا کہ ہماری ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا۔ اس ماہ مقدس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم اس کے شب و روز کو اللہ تعالی کی کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے وقف کر دیں۔ اسلامک اسٹڈیز پروگرام کے تحت ’’علوم القرآن پروگرام‘‘ اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بعض بھائیوں کے مشورے سے اس رمضان میں ہم اس پروگرام کو ری ڈیزائن کر رہے ہیں اور اس میں مزید ماڈیولز کا اضافہ کر رہے ہیں۔ پروگرام کا مجموعی ڈیزائن اب اس طرح سے ہو گا۔

علوم القرآن پروگرام کا ڈیزائن

اس پروگرام کو ماڈیولز کی دو سیریز میں تقسیم کیا گیا ہے:

· ایک سیریز قرآن مجید سے متعلق علوم پر مبنی ہے۔ اس کے تین ماڈیولز ہیں۔

· دوسری سیریز قرآن مجید کے متن اور تفاسیر کے مطالعے پر مشتمل ہے۔ اس سیریز میں چھ ماڈیولز ہیں۔

پہلی سیریز کا مقصد یہ ہے کہ طلبا میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا کیا جائے اور انہیں نہایت ہی دلچسپ انداز میں قرآن مجید کے مضامین سے آگاہ کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید سے متعلق جو علمی نوعیت کے مباحث ہیں، ان کا مطالعہ کر لیا جائے۔ اس سیریز کے ماڈیولز یہ ہیں:

· QS01: اس ماڈیول میں ہم قرآن مجید میں بیان کردہ قصص کا مطالعہ کریں گے۔ چونکہ عام لوگ قصے کہانیوں میں دلچسپی لیتے ہیں، اس لیے ان قصوں کے ذریعے قرآن مجید کے مطالعے کا شوق پیدا کرنا اس ماڈیول کا مقصد ہے۔ یہ ماڈیول ہماری ٹیم کے ایک رکن پروفیسر محمد عقیل صاحب نے تیار کیا ہے۔ اس میں قرآنی قصص کو ان عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے:

پہلا حصہ: انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے قصے

دوسرا حصہ: اقوام کے قصے

تیسرا حصہ: نیک ہستیوں کے قصے

چوتھا حصہ: برے کرداروں کے قصے

پانچواں حصہ: قرآن کے انکشافات

· QS02: اس ماڈیول میں ہم قرآن مجید کے مضامین کا اجمالی جائزہ لیں گے۔ اس ماڈیول میں قرآن مجید کی ترتیب و تنظیم، قرآن فہمی کے اصول، قرآن میں بیان کردہ عقائد، اخلاقیات اور شریعت زیر بحث آئیں گے۔

· QS03: یہ ماڈیول قرآن مجید کے ایک منتخب نصاب پر مشتمل ہے۔ اس ماڈیول کا مقصد طلبا کو قرآن مجید کے مضامین سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے اندر پورے قرآن کو پڑھنے کا ذوق پیدا کرنا ہے۔ اس ماڈیول میں ہم قرآن مجید کے کچھ مخصوص اقتباسات لے کر ان پر عملی کام کریں گے۔ اس لیول کے اختتام پر ہم قرآن مجید کے پیغام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا مطالعہ کرنے کے لئے درکار بنیادی معلومات بھی حاصل کر چکے ہوں گے۔ اسی ماڈیول پر ہم یہ کوشش کریں گے کہ اپنا تزکیہ نفس کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو قرآن کے بیان کردہ آئیڈیل کے مطابق ڈھال سکیں۔

· QS04: یہ بہت ایڈوانسڈ سطح کا ماڈیول ہو گا جس میں نظم قرآن، قرآن کی تاریخ، اصول تفسیر، فن تفسیر کی تاریخ، علوم القرآن سے متعلق معرکۃ الآرا اختلافی مباحث اور قرآن پر کیے جانے والے اعتراضات کا مفصل مطالعہ شامل ہو گا۔

دوسری سیریز کا مقصد قرآن مجید کے مکمل متن اور تفاسیر کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس میں یہ ماڈیولز ہیں:

· QT01: یہ ماڈیول سورۃ الفاتحہ سے لے کر سورۃ المائدہ کے متن اور تفاسیر کے مطالعے پر مشتمل ہے۔

· QT02: اس میں ہم سورۃ الانعام سے لے کر سورۃ التوبہ کے متن او رتفاسیر کا مطالعہ کریں گے۔

· QT03: اس ماڈیو ل میں ہم سورۃ یونس سے لے کرسورۃ النور کے متن اور تفاسیر کا مطالعہ کریں گے۔

· QT04: یہ ماڈیول سورۃ الفرقان سے لے کر سورۃ الحجرات کے متن اور تفاسیر کے مطالعے پر مشتمل ہے۔

· QT05: اس ماڈیول میں سورۃ ق سے لے کر سورۃ الناس کے متن اور تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے گا۔

ماڈیولز QS01, QS02, QS03 تمام قارئین کے لیے دستیاب کر دیے گئے ہیں اور یہ سب اس لنک پر موجود ہیں:

http://www.islamic-studies.info/?page_id=281

بقیہ ماڈیولز کے لیے رجسٹریشن درکار ہے جو آپ اس لنک سے کر سکتے ہیں:

http://www.islamic-studies.info/?page_id=1209

آپ سے گزارش ہے کہ ان لنکس سے ان ماڈیولز کو ڈاؤن لوڈ کر کے ان کا مطالعہ شروع کر دیجیے۔ جو بھائی اور بہنیں ایڈوانسڈ سطح پر مطالعہ کرنا چاہیں، وہ رجسٹریشن کروا لیں۔ جو سوالات آپ کے ذہن میں پیدا ہوں، وہ بلا تکلف روزانہ ہمیں بھیجیے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ آپ کو کم سے کم وقت میں ان کا جواب فراہم کر دیا جائے۔
اللہ تعالی ہم سب کو قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔