Sunday, 13 September 2015

مشت زنی سے نجات کیسے


السلام علیکم سر!
میرے ایک دوست نے مجھے آپ کی طرف ریفر کیا ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ایک گندی عادت ہے۔ جب میں دسویں کلاس میں تھا تو میں ہینڈ پریکٹس کیا کرتا تھا جس سے میری مردانہ طاقت پر کافیاثر پڑا۔ میں یہ گندا کام ترک کرنا چاہتا ہوں۔ سر آپ کی بہت مہربانی ہو گی  کہ اس معاملے میں مشورہ دیجیے۔
ایک بھائی
مئی 2011
----------------------------------------------------------------------------------------------------
محترم بھائی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
آپ کی ای میل سے بہت خوشی ہوئی کہ آپ اپنی زندگی میں اللہ تعالی کی قائم کردہ حدود کو اہمیت دیتے ہیں۔ اگر یہی جذبہ انسان میں زندہ رہے تو وہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اسی جذبے کو ہمیشہ زندہ رکھیے اور اپنی زندگی کا مشن یہ بنا لیجیے کہ اللہ تعالی کی حدود پر قائم رہنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔
آپ کے مسئلے کے چند اہم پہلو ہیں:
1۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالی نے ہمیں گناہوں سے بچنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہمیشہ گناہوں سے محفوظ رہ بھی جائیں۔ اگر ہم نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر لی، گناہ پر اصرار نہیں کیا اور گناہ ہو جانے کے بعد اللہ تعالی کی طرف رجوع کر کے توبہ کر لی، تو اللہ تعالی کی رحمت سے امید ہے کہ وہ ہم پر کرم فرمائے گا۔ اس بات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہمیں گناہ کرنے کا فری لائسنس مل گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ذمے گناہ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش ہے۔ اگر وہ کوشش ہم نے کر لی ہے، تو پھر اللہ تعالی کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
2۔ ہینڈ پریکٹس کے بارے میں قرآن مجید یا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ صرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول ملتا ہے جس میں ایک شخص نے ان سے اسی موضوع پر سوال کیا تو انہوں نے اس عمل سے کراہت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم کسی لونڈی سے نکاح کر لو۔ عربوں میں لونڈیوں سے شادی کو برا سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کی اخلاقی تربیت کا مسئلہ تھا اور پھر بچوں سے متعلق بھی کئی مسائل پیدا ہو جاتے تھے۔
اس وجہ سے علماء کے اس ضمن میں دو نقطہ ہائے نظر ہیں: ایک گروہ کے نزدیک یہ ایک ناجائز عمل ہے اور دوسرے کے نزدیک جائز تو ہے مگر ناپسندیدہ ہے۔ بعض علماء کا موقف یہ بھی ہے کہ اگر انسان کی جنسی خواہش اتنی تیز ہو کہ اسے بدکاری میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ ہینڈ پریکٹس کر لے تاکہ بدکاری جیسے عظیم گناہ سے محفوظ رہے۔
یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ نہیں کہ میں آپ کو ہینڈ پریکٹس کی ترغیب دے رہا ہوں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ آگاہ ہوں کہ آپ کوئی ایسا گناہ نہیں کر رہے جس پر آپ حد سے زیادہ ندامت محسوس کریں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ شیطان انسان کو کسی ایسے عمل میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر جب وہ بہت زیادہ ندامت محسوس کرتا ہے تو شیطان اسے مایوس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب گناہ تو کر ہی بیٹھے ہو اور سزا تو ملنی ہی ہے تو چلو کچھ اور انجوائے کر لو۔ اس وجہ سے آپ اگر ندامت محسوس کر رہے ہیں تو پھر شیطان کو اگلی اسٹیج تک نہ جانے دیجیے گا۔
ہینڈ پریکٹس بہرحال بدکاری یا ہم جنس پرستی کے درجے کا گناہ نہیں ہے البتہ یہ  کوئی اچھی عادت بھی نہیں ہے۔ اس  کو چھوڑنے کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔ ان پر عمل کیجیے تو امید ہے کہ بڑی حد تک اس سے نجات مل جائے گی:
1۔ اس مسئلے کا سب سے پائیدار حل تو شادی ہے۔ میں آپ کے حالات سے واقف نہیں ہوں لیکن اگر آپ شادی کر سکتے ہیں تو جلد سے جلد کر لیجیے۔ ہمارے ہاں شادی کو بلاوجہ مشکل بنا دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی مشکلات داخل کر دی گئی ہیں۔ اگر ہم سادہ طرز زندگی اپنائیں تو شادی محض ایجاب و قبول کا نام ہے۔ میری اپنی شادی 1994 میں ہوئی تھی جب میں محض بیس سال کا تھا اور ابھی زیر تعلیم تھا۔ اس وقت شادی پر صرف 8000 روپے خرچ آیا تھا۔ اگر شادی ہونا مشکل ہو، تو پھر دیگر تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔
2۔ اپنی ڈائیٹ کو کنٹرول کیجیے۔ کوشش یہ کیجیے کہ دودھ اور پھل اپنی خوراک میں زیادہ کر دیں اور ہو سکے تو کھانا صرف ایک وقت کر دیجیے۔ اگر آپ افورڈ کر سکتے ہوں تو اس ضمن میں کسی ڈائیٹ اسپیشلسٹ (Dietitian) سے مشورہ کر لیجیے تاکہ خوراک متوازن رہے اور جسم کسی کمزوری کا شکار نہ ہو۔ اس سے جنسی خواہش میں کمی ہو گی۔
3۔ زیادہ سے زیادہ روزے رکھنے کی کوشش کیجیے تاکہ جنسی خواہش کا زور ٹوٹے۔ افطار پر بہت زیادہ کھانے کی بجائے ڈائیٹ پر کنٹرول کیجیے۔
4۔ خود کو جسمانی ورزشوں میں مصروف کیجیے۔ کوئی اسپورٹس کلب جوائن کر کے جو کھیل بھی آپ کو پسند ہے، اس میں کچھ وقت صرف کیجیے۔ اس سے آپ انجوائے بھی کریں گے اور شام میں تھک ہار کر نیند بھی جلدی آ جائے گی۔ ٹینس، اسکواش، بیڈمنٹن اور سوئمنگ اچھے کھیل ہیں اور ان سے جسمانی ورزش بھی زیادہ ہوتی ہے۔
5۔ اپنے کمپیوٹر وغیرہ کو ایسی جگہ رکھیے جہاں دوسروں کی نظر پڑتی ہو۔ اس سے فحش ویب سائٹس پر جانے کا امکان کم ہو جائے گا۔
6۔ اگر آپ کی دوستی کچھ ایسے لوگوں سے ہے جو شہوانی گفتگو کرتے ہیں، تو ان سے دوستی ترک کر دیجیے اور اچھے اور دیندار لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھائیے۔ یہی معاملہ انٹرنیٹ پر دوستیوں کا بھی ہے۔ اگر آپ بالفرض میرا شمار معقول لوگوں میں کریں تو میں دوستی کے لیے حاضر ہوں۔
7۔ فلموں اور ٹی وی سے حتی الامکان اجتناب کیجیے تاکہ شہوت کو برانگیختہ کرنے والے عوامل کم سے کم ہوں۔ اسی طرح مخلوط محفلوں میں جانے سے ہر ممکن بچیے۔
8۔ حس جمال (Aesthetic Sense) کو خواتین کی بجائے دیگر خوبصورت چیزوں جیسے قدرتی مناظر وغیرہ سے پورا کیجیے۔
9۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ توبہ کا تعلق قائم رکھیے۔ ہو سکے تو صبح ذرا جلدی اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھیے اور اللہ تعالی کے حضور رو رو کر دعا کیجیے۔ جو احساس آپ کے اندر ہے، اسے ہر ممکن طریقے سے زندہ رکھیے۔
ان سب تجاویز پر عمل کرنے کے نتیجے میں انشاء اللہ آپ بڑی حد تک اس عادت سے محفوظ ہو جائیں گے۔ تاہم پھر بھی اگر کبھی نفس بہت زیادہ تقاضا کرے اور آپ ایسا کر بیٹھیں تو اللہ تعالی سے تعلق کے اپنے احساس کو مرنے مت دیجیے اور فوراً توبہ کر لیجیے۔ میرا اندازہ  ہے کہ آپ کی عمر اس وقت 20 اور 30 کے درمیان ہو گی۔ اگر آپ اس احساس کو زندہ رکھیں گے تو تقریباً 35 برس کی عمر کے بعد شہوت بالکل کمزور پڑ جائے گی اور آپ اس پر قابو پا لیں گے۔ جن لوگوں کا یہ احساس مردہ ہو جاتا ہے، وہ بڑھاپے میں بھی گولیاں کھا کر بدکاری کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اگر شیطان آپ کے اس احساس ندامت کو مزید گناہوں پر اکسانے پر آمادہ کرے تو فوراً اللہ تعالی کی رحمت کا خیال کیجیے اور توبہ کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کیجیے تاکہ وہ آپ کو بڑے گناہوں کی طرف نہ لے جا سکے۔
دعاؤں کی درخواست ہے۔
والسلام
مبشر

Friday, 14 August 2015

اہم منطقی مغالطے

منطق ایک قدیم فن ہے جس کا مقصد انسان کو اُن قوانین سے آگاہ کرنا ہے جن کی مدد سے وہ غور  و فکر میں غلطی سے محفوظ رہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ان قوانین سے آگاہ نہ ہونے  یا آگاہ ہونے کے باوجود غلطی شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ ایسا غلط استدلال ہوتا ہے جو بظاہر صحیح نظر آرہا ہو۔اسی غلط استدلال کو مغالطہ کہتے ہیں۔
مغالطے کا شکار ہماراذہن خود بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہےکہ  کوئی اور شخص ہمیں اس میں  مبتلاء کر رہا ہو۔ چونکہ کسی بھی استدلال (Argument) کو پیش کرنے کا اصل مقصد کسی نتیجے (یا مقدمے) کو صحیح ثابت کرنا  ہی ہوتا ہے اس لیے  مغالطے کی وجہ سے ہم غلط نتیجے پر پہنچتے ہیں۔اس کی عام  مثال ہمارے سامنے میڈیا، سیاست اور مذہب کا میدان ہے جس میں عوام  کو مختلف قسم کے مغالطوں میں مبتلاء کردیا جاتا ہے ۔ایک مقرر اپنی تقریر میں مخالف کے رد اور اپنی بات ثابت کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے ایسے غلط استدلال پیش کرتا جس کا احساس  عوام کو بالکل نہیں ہوتا، بلکہ ان کا احساس یہ ہوتا ہے انھوں نے دلائل و نطائر کے طومار باندھ کر مخالف کو چیت کردیا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ایک مشہور واقعہ ملاحظہ کیجیے۔
سر سید احمد کے بیٹے محمود احمد جو ہندوستان کے مشہور وکیل تھے،ان کے بارے میں ایک واقعہ کتابوں میں ملتا ہے کہ وہ یادداشت کے معاملے میں تھوڑے بھلکڑ واقع ہوئے تھے،،ایک مقدمے میں پیش ہوئے اور یاد نہ رھا کہ وہ استغاثہ کے وکیل ہیں یا دفاع کے ،، انہوں نے چھوٹتے ہی وکیل صفائی کی حیثیت سے دلائل دینے شروع کر دیئے اور ملزم کی صفائی میں دلائل کے اس طرح ڈھیر لگا دیے کہ استغاثہ سمیت جنہوں نے انہیں اپنے لئے فیس دی تھی خود جج بھی پریشان ہو گیا،، استغاثہ والوں نے انہیں ایک چِٹ پکڑائی کہ حضور آپ استغاثہ کے وکیل ہیں،، وکیلِ صفائی نہیں !!! سید محمود احمد نے بہت اطمینان سے چِٹ پر لگاہ دوڑائی اور بات میں ذرا بھی وقفہ دیے  بغیر اسی جوش و خروش سے فرمایا۔می لارڈ ،، یہ وہ سارے دلائل تھے جو وکیلِ صفائی زیادہ سے زیادہ اس کیس کے حق مین دے سکتا تھا،، مگر جنابِ عالی ان دلائل میں کوئی جان نہیں ہے،حقیقت یہ ہے کہ  اس کے بعد جو سید محمود نے استغاثہ کے حق میں دلائل دیے تو اپنے ہی دیے ہوئے دلائل کے اس طرح پرخچے اڑا کر رکھ دیے کہ جج سمیت وکلاء بھی عش عش کر اٹھے اور سید صاحب مقدمہ جیت گئے۔
اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ  ایک ہی بات قوت بیان سے صحیح اور غلط ثابت کرنا اہل زبان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ہماری لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے لوگ بالخصوص علم و دانش کے بعض نام نہاد علم بردار ہمیں کئی مغالطوں کا شکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ہم ایک غلط نظریے کو درست سمجھ لیتے ہیں بلکہ مخالفین کے لایعنی اعتراضات کو مضبوط اعتراض سمجھ کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ان مغالطوں سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ ہم صحیح فکر کے اصولوں سے واقف ہوں ، مگر اس مصروف زندگی میں یہ ہر ایک کے بس میں نہیں ہے کہ وہ قدیم جدید منطق کا مطالعہ کرے  اور ایک فن کے طور پر ہر ایک مقدمے کو جانچ کر اس کا تجزیہ کرسکے۔ چنانچہ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہم مغالطوں (Fallacies)سے متعلق یہ مختصر  سا کورس ڈیزائن کیا ہے جس میں انتہائی آسان اسلوب میں یہ  بتایا گیا ہے کہ غلط استدلال کیا ہوتا اور ہم انھیں کیسے پہچان سکتے ہیں۔اس ضمن  میں ہم نے قدیم و جدید منطق میں بتائے گئے مغالطوں میں سے بعض اہم مغالطوں کا انتخاب کیا ہے ۔ زبان و بیان سے متعلق مغالطے مثلاً شعر و شاعری، ابہام وغیرہ چونکہ فکری نوعیت کے مغالطے نہیں ہیں اس لیے ہم نے انھیں نظر انداز کردیا ہے اور صرف انھی مغالطوں کا انتخاب کیا ہے جس کا تعلق خاص طور پر علمی معاملات اور نظریات سے ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم نے مغالطے کی جو اقسام بیان کی ہیں ان کے نام اور ان کی اقسام بھی آپ کو یاد ہوں، بلکہ ضروری یہ ہے کہ آپ یہ پہچان سکیں کہ اس استدلال کیا غلطی پیش کی گئی ہے۔اس لیے اصطلاحات یاد کرنے کے بجائے مغالطوں کو پہچاننے پر زیادہ توجہ دیجیے۔
کتاب کی تیاری میں دو کتب Irving M.Copi اور Carl Cohen  کی کتاب Introduction to Logic کے گیارہویں ایڈیشن اور Bo.Bennettکی مشہور کتاب Logical Fallacious سے خاص طور پر مدد لی گئی ہے  جس کے لیے ہم ان کے مصنفین کے شکر گزار ہیں۔ امید ہے کہ قارئین اس مختصر سے کورس سے استفادہ کرنے کے بعد غلط استدلال کو باسانی پہچان کر کسی بھی شخص کی طرف سے فکری کج روی کے دھوکے سے محفوظ رہیں گے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین
حافظ محمد شارق

26/05/2015

ہندومت کا تفصیلی مطالعہ


Friday, 17 April 2015

انٹرایکٹو قرآن فہمی کورس ۔ ایک تعارف

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اکثر بھائیوں اور بہنوں کی خواہش تھی کہ ہم قرآن فہمی کورس کے مقاصد اور تفصیل پر بات کریں۔ دراصل قرآن پر غور کرنے کے کئی طریقے ہیں اور ان تمام طریقوں پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ البتہ ایک طریقہ یہ تھا کہ قرآن کو گروپ ڈسکشن کی صورت میں پڑھا جائے۔ اس گروپ کی خصوصیات یہ ہوں کہ اس میں نہ صرف عربی زبان، فقہ ، تاریخ ، تفسیر دیگر دینی علوم کے عالم موجود ہوں بلکہ جدید تعلیم یافتہ پڑھے لکھے افراد بھی ہوں۔ اس طرح وہ تمام اشکالات جو ایک عام جدید تعلیم یافتہ ذہن میں پیدا ہوسکتے ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو کی جائے۔
الحمدللہ، آئی ایس پی کے فورم میں یہ ساری خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چنانچہ آئی ایس پی میں ہم نے انٹرایکٹو قرآن فہمی کورس کا آغاز کیا ہے۔ اس کورس میں چند مخصوص لوگوں کا گروپ متعین قرآنی آیات پر مختلف طریقوں سے اپنی آرا پیش کرے گا ۔ اسی دوران ان آراء پر اٹھنے والے سوالات واعتراضات کو ڈسکس کیا جائے گا اور آخر میں اس کا خلاصہ پیش کردیا جائے گا۔ جب ایک ڈسکشن مکمل ہوجائے گی تو اسے ویب سائٹ اور فیس بک پر پبلک کے لئے عام کردیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک اور موضوع کا آغاز ہوگا۔
اس پروگرام میں قرآن کی تمام آیات کو ڈسکس کرنے کی بجائے قرآن کے وہ موضوعات زیر بحث لائے جائیں گے جو آج کل ایک پڑھے لکھے طبقہ کے لئے مسئلہ ہیں۔ ان میں ذات باری تعالیٰ کا وجود، رسالت، آخرت، خیر و شر، تقدیر، ایمان بالغیب، تقوی اور اس طرح کے دیگر اہم امور کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تفسیر کے کچھ ایسے اصول بیان کئے جائیں گے جس سے ایک عام شخص یہ جان سکے کہ قرآن کا اصل مدعا کیا ہے۔ اسی طرح تزکیہ نفس اور عمل صالح کے پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ہم اللہ سے دعاگو ہیں کہ اللہ ہماری راہنمائی فرمائیں اور قدم قدم پر اپنی نصرت نصیب فرمائیں ۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

انٹرایکٹو فہم القرآن سیشن ۲۔ سورہ بقرہ

فائل ڈاون لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کرین

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس سیشن ۲ کا خلاصہ


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورہ بقرہ کی آیات تین تا پانچ کا خلاصہ حاضر ہے ۔ الحمد اللہ آپ سب بھائیو اور بہنو نے تقریبا تمام ہی پہلووں سے ان آیات مبارکہ کوسمجھ کر بیان کیا اور خوب بیان کیا۔ نیز اس پر اٹھنے والے سوالات کو بھی ہرہر پہلو سے
بیان کرنے کی کوشش کی۔ میں نے آپ سب کی بحثوں کو تین مرتبہ پڑھا۔ پہلی مرتبہ ای میلز میں ، دوسری مرتبہ اور تیسر مرتبہ خلاصہ سے قبل ۔ بہت ہی عمدہ طریقے سے آپ سب اپنے اپنے فہم کو بیان کیا ہے۔کچھ بھائیو اور بہنو کا تبصرہ تو بہت ہی پسند آیا لیکن میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ چونکہ آپ سب نے تفصیل سے تمام پہلووں کو ڈسکس کرلیا ہے اس لئے میری کوشش ہوگی کہ اختصار کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بیان کردوں۔
اصول تفسیر
گذشتہ سیشن میں ہم نے چار اصول پڑھے تھے۔ انہیں میں چاہتا ہوں کہ دہرادوں ۔ وہ تھے
۱۔سیاق و سباق کا لحاظ
۲۔خطاب کرنے والے کا تعین
۳۔ مخاطب کا تعین
۴۔ کامن سینس کا استعمال
ان کا اطلاق میں نے دیکھا کہ کچھ ساتھیوں نے کیا ہے اور اسی بنا پر ان کے بیان میں ایک زور پیدا ہوگیا ہے۔ جن ساتھیوں نے ان کا لحاظ نہیں کیا ان سے درخواست ہے کہ ان کا ضرور خیال کریں، ان سے بڑے مسئلے حل ہوجاتے ہیں ورنہ عموما انسان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہ جاتا ہے لیکن حقیقت کو مشکل ہی سے بیان کرپاتا ہے۔
۵۔اب میں ایک اور اصول تفسیر بیان کردوں جو زیر بحث آیات میں استعمال ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر سب سے پہلے قرآن ہی سے کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر ہم غیب کی بات کریں تو قرآن نے غیب کا لفظ کن کن مفاہیم میں استعمال کیا ہے ، یہ جاننا بڑا ضروری ہے۔ کچھ ساتھیوں نے اس اصول کا اطلاق کیا ہے۔
آیات کا پس منظر
الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ Ǽ۝ۙ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ Ć۝ۭاُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Ĉ۝
یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ، نماز قائم کرتے اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ پر اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ وہی لوگ اپنے رب کے راستہ پر ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں۔
وضاحت
جیسا کہ پہلے ہم نے پڑھا تھا کہ یہ سورۃ اصلا یہود کو مخاطب کررہی ہے ۔اب اگر ہم ان اصولوں کا اطلاق کریں جو اوپر بیان ہوئے تو یہود کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اس کتاب کے من جانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی بنیادی شرط ہے کے برائی سے بچنے کی خواہش پیدا کرو۔
اگر ہم تفسیر کے اصول کو اپلائی کریں تو یہ علم ہوتا ہے کہ یہود کو بتایا جارہا ہے تم اگر فلاح یافتہ ہونا چاہتے ہو تو وہ صفات پید اکرو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ہیں۔ اب صحابہ میں تو بے شمار صفات تھیں ۔ تو قرآن کا کما ل دیکھیں کہ چن چن کر وہ تمام صفات بیان کردیں جن کے نہ ہونے کی بنا پر یہود ایمان لانے سے قاصر تھے۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ تو ہمیں علم کے کہ یہود کا من حیث القوم اصل مسئلہ محسوسات کی دنیا ہی میں جینا اور مادیت پرستی کی بنا پر غیب کو ماننے سے عملا گریز کرنا تھا۔ ابتدا ہی میں انہوں نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمیں بھی کوئی بت بنادیں یا پھر کہا تھا کہ خدا کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی مادیت و محسوسات پرستی مدینہ کے یہود میں بھی سرایت کرچکی تھی۔
دوسرے مرحلے میں بتایا کہ یہ و ہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ نماز خدا و بندہ کا تعلق اور زکوٰۃ بندے اور بندے کا تعلق ہے ۔ یہود ان دونوں میں بہت کمزور ہوچکے تھے۔ آگے وہی ذکر ہے کہ یہ لوگ متعصب نہیں بلکہ یہ اپنے اوپر نازل کردہ وحی اور اس سے قبل کی وحی کو مانتے ہیں اور متعصب نہیں۔ پھر آخر میں بتادیا کہ یہ لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور تمہاری طرح نہیں کہ آخرت کا ذکر تک تم نے اپنی کتب سے نکال دیا۔
اس پس منظر کو دیکھیں اور اس کے بعد جوابا ت دیکھتے ہیں۔ اب جوابات بہت متعین اور آسان ہوجائیں گے۔
۱۔ ایمان لانے سے کیا مراد ہے؟ کیا محض زبان کا اقرار یعنی کلمہ پڑھ لینا ایمان ہے؟ یا دل کی تصدیق بھی ضروری ہے؟یا اسے عمل سے ثابت کرنا بھی لازمی ہے؟
ایمان سے مراد یہاں ماننا ہی ہے۔ اور یہ ماننا اصلا دل سے ہے جبکہ زبان سے کہنا اس ماننے کے اظہار کا طریقہ ہے اور عمل اس ماننے کا ثبوت۔
۲۔ غیب سے کیا مراد ہے؟ اور اس میں کون کون سی باتیں شامل ہیں۔
غیب سے مراد محسوسات سے ماورا وہ دینی امور ہیں جو حواس خمسہ کی گرفت میں نہیں آتے۔اس پر ڈاکٹر اسد تا انگلش ترجمہ بہترین طور پر مدعا بیان کرتا ہے:
Those believe in what is beyond their perception.
یعنی انہیں دیکھا، سونگھا، چکھا، چھوا یا سنا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور جنت کو حواس خمسہ سے نہیں جانا جاسکتا۔ یہی معاملہ فرشتوں کا بھی ہے۔ لیکن یہ عقل سے ماورا ہے نہ عقل کے خلاف۔ ہاں محسوسات سے ماورا ہے۔
ایک بحث یہ چلی کہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں یا غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ میں نے مولانا امین احسن اصلاحی کے مدعا کو سمجھنے اور دلائل ماننے کی بڑی کوشش کی لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہ آسکی۔مولانا ترجمہ تو یہ کرتے ہیں کہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں لیکن اس کا مفہوم وہی اخذ کررہے ہیں جو غیب پر ایمان لانے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یا تو یہ ہوتا کہ مولانا تفسیر کبیر میں بیان کردہ نقطہ نظر کے تحت یہ کہتے کہ غیب میں رہتے ہوئے یعنی چھپ کر اپنی تنہائیوں میں بھی ایمان لاتے ہیں تو یہ بات ان کے ترجمے کے مطابق ہوتی گوکہ یہ مفہوم بھی کوئی زوردار نہیں معلوم ہوتا۔
اب سوال یہ ہے غیب میں کون کون سے امور آتے ہیں۔ عمومی جواب یہی ہے کہ اس مراد اجمالا وہ تمام امور شامل ہیں جن میں ذات بار ی تعالیٰ، فرشتے، آخرت کے امور وغیرہ شامل ہین۔البتہ اگر ہم دوبارہ اوپر بیان کردہ پس منظر میں رجوع کریں تو صاف علم ہوتا ہے کہ یہود سے کہا جارہا ہے دیکھو صحابہ یہ غیب یعنی محسوسات سے ماوراباتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ تو یہود چونکہ خدا کو محسوسات کی دنیا میں دیکھنا چاہتے تھے اس لئے یہاں بالخصوص ذات باری تعالی ہی مراد ہے۔ اور جب ہم یہ مان لیں تو اگلی آیت سے اس کا تعلق خود بخود بن جاتا ہے کہ یہ ذات باری تعالیٰ کو محسوسات سے ماوار ہونے کے باوجود مان لیتے اور پھر نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
۳۔ اگر غیب کو مان لیا جائے گا تو کیا یہ عقل کے خلاف نہیں ہوگا؟
غیب کا مطلب محسوسات سے ماورا ہونا ہے تو یہ خلاف عقل نہیں۔ غیب کے امور ایک صادق ہستی یعنی پیغمبر کی گواہی سے ہم تک پہنچ رہے ہیں ۔ اگرآئین اسٹائن کی گواہی سے ہم بلیک ہول کے وجود کو بن دیکھے مان سکتے ہیں تو پیغمبر کی گواہی اس سے کہیں معتبر ہے۔ دوسرا یہ کہ غیب کے جو بھی امور ہیں وہ سب عقل خود سے دریافت تو نہیں کرسکتی لیکن جب اسے بات سمجھائی جاتی ہے تو عقل مان لیتی ہے اور فطرت قبول کرلیتی ہے۔ چنانچہ فطرت تصدیق کرتی کہ خدا ہے، عقل تقاضا کرتی کہ واقعی ایک دن ایسا ہو جب سب سے ان کے کئے کا حساب لیا جائے، عقل یہ مطالبہ کرتی کہ اچھوں کو جزا اور بروں کو سزا دی جائے۔ عقل مان لیتی کہ فرشتوں کا ہونا خدا اور پیغمبر کے درمیان وسیلے کے لئے لازم ہے وغیرہ۔
ایک مغالطہ یہ ہے کہ عقل سے ماورا کا لفظ بھی ہم استعمال کرتے ہیں ۔ دراصل یہ عقل سے ماورا نہیں ہوتا بلکہ محسوسات سے ماوارا ہوتا ہے ۔
۴۔ کیا ایمان کا تعلق عقل سے ہونا چاہئے؟ اگر ہاں تو غیب پر ایمان کی موجودگی میں کیا یہ عقل کے خلاف نہیں ہوگا؟ اور اگر نہیں تو پھر ہم کیوں عیسائیوں کے نظریہ تثلیث پر عقلی اعتراضات اٹھاتے اور کیوں ہندووں کی بت پرستی کو خلاف عقل قرار دیتے ہیں؟
جی ایمان عقل کے خلاف نہیں ہونا چاہئے اور اگر ہے تو پھر یا تو وہ نسلی ایمان ہے یا پھر نقلی ایمان۔ لیکن یہ عقل کامن سینس ہے۔ اسی بنا پر تثلیث خلاف عقل ہے۔
۵۔ تیسری آیت میں ہے کہ یہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، جبکہ چوتھی آیت میں ہے کہ یہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا آخرت غیبی امر نہیں؟ یعنی یہاں کیوں آخرت کو الگ سے بیان کیا گیا؟
یہاں دوبارہ دیکھیں کہ یہود کو تعریض کی جارہی ہے کہ یہ لوگ تو آخرت پر پکا یقین رکھتے ہیں ۔ یعنی یہود کا اصل مسئلہ آخرت کو نہ ماننا یا آخرت کے تصور میں غلط فہمیاں تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ چند دن ہی آگ چھوئے گی یا یہ کہ ہم چہیتے ہیں وغیرہ۔ ان سے کہا گیا کہ اصل آخرت کو ماننے والے لوگ یہی ہیں۔ تمہارا دعوی باطل ہے۔ یعنی یہاں آخرت کا الگ سے ذکر اس کی یہود کے تناظر میں اہمیت کی بنا پر کیا جارہا ہے۔

Monday, 10 November 2014

بہشتی دروازہ



وہ اولیا جن کا مقصد صرف دین تھا، ان کو ہم مانتے ہیں، میں ان کی محنت دیکھتا ہوں تو میں خود کو ان کی خاک برابر بھی قرار نہیں دے پاتا۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ بابا فرید جس دین کی تبلیغ کرتے رہے میں انھی کا نام لے لے کر اس دین دھجیاں بکھیرتا رہوں۔ میں صرف اس جنتی دروازے کو مانتا ہوں جس کا وعدہ خود میرے پروردگار نے آپ سے ،مجھ سے اور سارے عالَم سے کیا ہے۔ 

پاکپتن کے جنتی دروازے سے گزر کر جنت مل سکتی ہے؟ 

جب میں سوچتا ہوں کہ جنت بہشتی دروازے سے مل سکتی ہے تو مجھے انبیاء کرام علیہم السلام کی سلسلہ بے معنی محسوس ہوتا ہے کہ ہر خطے میں ایک ایک دروازہ بنا لیا جاتا جہاں جنت کے سرٹیفکیٹ ملتے، جنتی دروازے کو ماننے کے بعد اخلاق و ایمان کی کوئی قدر میرے نزدیک اہمیت کی حامل نہیں رہتی، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اخلاقیات، معاشرت دین کا ایک ایک جز مجھے بوجھ لگتا ہے، غرض کہ میرے مدلل تصورات اور ایمان کا محل جسے میں قرآن و سنت سے تعمیر کرنے میں جتا ہوا ہوں، وہ سارا محل زمین بوس ہونے لگتا ہے۔ مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا دین اضافی اور غیر ضروری پابندی لگتی ہے۔
سیدنا نوح علیہ السلام کا بیٹا آپ کی گود میں پل کر بھی جنت میں نہ جاسکا، حضور ﷺ امتی امتی کہتے رخصت ہوئے، مگر جنت اتنی آسان ہے کہ تین سو روپے رشوت میں تین بار جنت کی کی سند۔۔۔۔ واللہ کسی کی روح بیت اللہ میں بھی پرواز کرجائے اور وہ ایمان نہ لائے تو جنتی نہیں ہوسکتا۔ خدارا اپنے دین کو کھیل تماشا مت بنائیں ! اگر یہ واقعی بہشتی دروازہ ہے تو اسے ہر وقت کھلا رہنا چاہیے۔۔۔ بہشت کا واحد راستہ ایمان و اخلاق ہے جس کی سند قرآن نے دی ہے،، مسلمان تو ہر وقت بہشت کے لیے کوشاں رہتا ہے،

بہشتی دروازہ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ خدا کی ذات اقدس، دین اسلام اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔

وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔

ڈائری کا ایک صفحہ: حافظ محمد شارق)
ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے ؛ وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔ یعنی بنیے پر پیسے کی موت آتی ہے وہ پرانے کھاتے کھولتا ہے، کہیں کسی کو ادھار دے رکھا ہو، کسی نے قرض لیا ہو، کہیں امانت رکھائی ہو، غرض کہ پرانے مردے بھی اکھاڑ کر جہاں کہیں سے وصولی ممکن ہو وہ پائی پائی وصول کرتا ہے۔
یہ کہاوت سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ روزِ محشر بھی ہم سب کی حالت کچھ اسی بنیے کی طرح ہوگی، ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اور سب سے وصولی میں چکر میں ہوں گے، آپ  نےکسی کی غیبت کی ہو، کسی کی دل آزاری کی، کسی کے گھر کے گیٹ پر بائیک پارک کردی، کسی کو ملاوٹ کرکے کچھ بیچا، کسی کو  قطار میں دھکا دیا ہو، کسی کی  آپ کے حق کی زمین ہڑپ کردی ، کسی کو آپ کو گالی دی ہو، ہر ایک آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے کھول کھول پر نیکیاں وصول کرے گا۔ سب پائی پائی کا حساب لیں گے اور ایک ماشے کی نیکی بھی معاف نہیں کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر ظلم کے مقابلے نیکیوں اور گناہوں کا تبادلہ ہوگا۔
اس صورت حال کو سوچ کر ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اعمال کے بینک بلنس میں اتنی نیکیاں بھی جمع کر رکھی ہیں کہ ہم اس وصولی کے بعد ہماری نجات ہوسکے؟؟؟ کیا ہم نے حقوق العباد کا اس قدر خیال بھی رکھا ہے کہ روزِ محشر ہم پر اس ظلم کے عوض اس کے گناہ نہ لاد دیے جائیں؟
اگر ہم نجات کے متمنی ہیں تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ہو گا۔


دین اور جبر



اگر ہمارا رب چاہتا تو زمین پر ساری نوعِ انسانی مومن ہوتی، مگر اللہ جبر پسند نہیں کرتے، ہمیں بھی جبر نہیں کرنا۔ دین اسلام اتنا کمزور نہیں جو جبری نفاذ کا محتاج ہو، یہ دین مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہے، یہ دین اعلیٰ استدلال پر قائم ہے۔ جس شمشیر سے لوگوں نے اس کے آگے سر جھکائے ہیں وہ شمشیر صرف اخلاق ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے، دین کے سب سے بڑے مبلغ انبیاء ہوتے ہیں مگر ان کا کام بھی انذار و تبشیر ہے۔

ابلیس کی دشمنی





ایک دشمن وہ ہوتا ہے جو چھپ کر وار کرے یا آستین کا سانپ ہو، ایک دشمن کھلا دشمن ہوتا،منہ پر کہتا ہے کہ تمہاری ایسی کی تیسی! تمھیں برباد کرکے ہی میں نے دم لینا ہے، نفس امارہ آستین کا سانپ ہے اور ابلیس کھلا دشمن۔ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔۔ اس کم بخت نے ہمیں بہکانے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے، کتنا ہی بھاگ لو، یہ ہر راستے ہر موڑ پر ہمیں بہکائے گا، آگے پیچھے دائیں کے بائیں ہر طرف سے اپنی اپنی چال بازی میں ہمیں لے گا، لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۔ اتنی کھلی دشمنی کا اعلان ہے پھر ہم کس خاطر اس سے ٹانکا جوڑ کے رکھیں؟؟ چلو ہم بھی اس سے دشمنی کرلیتے ہیں !!

تعصب


انسان کسی قوم سے تعلق رکھتا ہے تو بسا اوقات وہ اس کے بارے میں ایک خاص قسم کے تعصب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ بس اس کا فرقہ یا قوم ہی سیدھے راستے پر ہے اور باقی سب غلط راستے پر ۔یہ تعصب کی بدترین جذبہ ہے جو اسے کسی دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے پر راضی نہیں ہونے دیتا ۔بعض اوقات ہماری تربیت کرنے والے بھی یہ بات ہمارے ذہن میں ڈال دیتے ہیں کہ بس ہم ہی کامیاب ہیں اور باقی سب اللہ کے غضب کے حق دار ہیں۔ ہمارے نزدیک کسی خاص فرقے میں پیدا ہوجانا ہی حق کی سب سے بڑی دلیل بن جاتی ہے جو قرآن مجید کی رُو سے بدترین گمراہی ہے۔

(عدیلہ کوکب)

آدابِ اختلاف


تنقید کرنا آپ کا حق ہے، بے شک کیجیے مگر کسی کی ذاتیات پر اترنے کا آپ کو کوئی حق نہیں ۔ اپنے ذاتی اندازوں اور مفروضوں کی بنیاد کسی کے ایمان کا فیصلہ کرنا آپ کا کام نہیں ورنہ روزِ محشر یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کسی کا نقطۂ نظر جانے بغیر آپ نے کیسے اس کے ایمانی کیفیت کا فیصلہ سنا دیا۔