Friday, 17 April 2015

انٹرایکٹو قرآن فہمی کورس ۔ ایک تعارف

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اکثر بھائیوں اور بہنوں کی خواہش تھی کہ ہم قرآن فہمی کورس کے مقاصد اور تفصیل پر بات کریں۔ دراصل قرآن پر غور کرنے کے کئی طریقے ہیں اور ان تمام طریقوں پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ البتہ ایک طریقہ یہ تھا کہ قرآن کو گروپ ڈسکشن کی صورت میں پڑھا جائے۔ اس گروپ کی خصوصیات یہ ہوں کہ اس میں نہ صرف عربی زبان، فقہ ، تاریخ ، تفسیر دیگر دینی علوم کے عالم موجود ہوں بلکہ جدید تعلیم یافتہ پڑھے لکھے افراد بھی ہوں۔ اس طرح وہ تمام اشکالات جو ایک عام جدید تعلیم یافتہ ذہن میں پیدا ہوسکتے ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو کی جائے۔
الحمدللہ، آئی ایس پی کے فورم میں یہ ساری خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چنانچہ آئی ایس پی میں ہم نے انٹرایکٹو قرآن فہمی کورس کا آغاز کیا ہے۔ اس کورس میں چند مخصوص لوگوں کا گروپ متعین قرآنی آیات پر مختلف طریقوں سے اپنی آرا پیش کرے گا ۔ اسی دوران ان آراء پر اٹھنے والے سوالات واعتراضات کو ڈسکس کیا جائے گا اور آخر میں اس کا خلاصہ پیش کردیا جائے گا۔ جب ایک ڈسکشن مکمل ہوجائے گی تو اسے ویب سائٹ اور فیس بک پر پبلک کے لئے عام کردیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک اور موضوع کا آغاز ہوگا۔
اس پروگرام میں قرآن کی تمام آیات کو ڈسکس کرنے کی بجائے قرآن کے وہ موضوعات زیر بحث لائے جائیں گے جو آج کل ایک پڑھے لکھے طبقہ کے لئے مسئلہ ہیں۔ ان میں ذات باری تعالیٰ کا وجود، رسالت، آخرت، خیر و شر، تقدیر، ایمان بالغیب، تقوی اور اس طرح کے دیگر اہم امور کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تفسیر کے کچھ ایسے اصول بیان کئے جائیں گے جس سے ایک عام شخص یہ جان سکے کہ قرآن کا اصل مدعا کیا ہے۔ اسی طرح تزکیہ نفس اور عمل صالح کے پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ہم اللہ سے دعاگو ہیں کہ اللہ ہماری راہنمائی فرمائیں اور قدم قدم پر اپنی نصرت نصیب فرمائیں ۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل

انٹرایکٹو فہم القرآن سیشن ۲۔ سورہ بقرہ

فائل ڈاون لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کرین

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس سیشن ۲ کا خلاصہ


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورہ بقرہ کی آیات تین تا پانچ کا خلاصہ حاضر ہے ۔ الحمد اللہ آپ سب بھائیو اور بہنو نے تقریبا تمام ہی پہلووں سے ان آیات مبارکہ کوسمجھ کر بیان کیا اور خوب بیان کیا۔ نیز اس پر اٹھنے والے سوالات کو بھی ہرہر پہلو سے
بیان کرنے کی کوشش کی۔ میں نے آپ سب کی بحثوں کو تین مرتبہ پڑھا۔ پہلی مرتبہ ای میلز میں ، دوسری مرتبہ اور تیسر مرتبہ خلاصہ سے قبل ۔ بہت ہی عمدہ طریقے سے آپ سب اپنے اپنے فہم کو بیان کیا ہے۔کچھ بھائیو اور بہنو کا تبصرہ تو بہت ہی پسند آیا لیکن میں نام نہیں لینا چاہتا ۔ چونکہ آپ سب نے تفصیل سے تمام پہلووں کو ڈسکس کرلیا ہے اس لئے میری کوشش ہوگی کہ اختصار کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بیان کردوں۔
اصول تفسیر
گذشتہ سیشن میں ہم نے چار اصول پڑھے تھے۔ انہیں میں چاہتا ہوں کہ دہرادوں ۔ وہ تھے
۱۔سیاق و سباق کا لحاظ
۲۔خطاب کرنے والے کا تعین
۳۔ مخاطب کا تعین
۴۔ کامن سینس کا استعمال
ان کا اطلاق میں نے دیکھا کہ کچھ ساتھیوں نے کیا ہے اور اسی بنا پر ان کے بیان میں ایک زور پیدا ہوگیا ہے۔ جن ساتھیوں نے ان کا لحاظ نہیں کیا ان سے درخواست ہے کہ ان کا ضرور خیال کریں، ان سے بڑے مسئلے حل ہوجاتے ہیں ورنہ عموما انسان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہ جاتا ہے لیکن حقیقت کو مشکل ہی سے بیان کرپاتا ہے۔
۵۔اب میں ایک اور اصول تفسیر بیان کردوں جو زیر بحث آیات میں استعمال ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر سب سے پہلے قرآن ہی سے کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر ہم غیب کی بات کریں تو قرآن نے غیب کا لفظ کن کن مفاہیم میں استعمال کیا ہے ، یہ جاننا بڑا ضروری ہے۔ کچھ ساتھیوں نے اس اصول کا اطلاق کیا ہے۔
آیات کا پس منظر
الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ Ǽ۝ۙ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ Ć۝ۭاُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Ĉ۝
یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ، نماز قائم کرتے اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ پر اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ وہی لوگ اپنے رب کے راستہ پر ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں۔
وضاحت
جیسا کہ پہلے ہم نے پڑھا تھا کہ یہ سورۃ اصلا یہود کو مخاطب کررہی ہے ۔اب اگر ہم ان اصولوں کا اطلاق کریں جو اوپر بیان ہوئے تو یہود کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اس کتاب کے من جانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی بنیادی شرط ہے کے برائی سے بچنے کی خواہش پیدا کرو۔
اگر ہم تفسیر کے اصول کو اپلائی کریں تو یہ علم ہوتا ہے کہ یہود کو بتایا جارہا ہے تم اگر فلاح یافتہ ہونا چاہتے ہو تو وہ صفات پید اکرو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ہیں۔ اب صحابہ میں تو بے شمار صفات تھیں ۔ تو قرآن کا کما ل دیکھیں کہ چن چن کر وہ تمام صفات بیان کردیں جن کے نہ ہونے کی بنا پر یہود ایمان لانے سے قاصر تھے۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ تو ہمیں علم کے کہ یہود کا من حیث القوم اصل مسئلہ محسوسات کی دنیا ہی میں جینا اور مادیت پرستی کی بنا پر غیب کو ماننے سے عملا گریز کرنا تھا۔ ابتدا ہی میں انہوں نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمیں بھی کوئی بت بنادیں یا پھر کہا تھا کہ خدا کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی مادیت و محسوسات پرستی مدینہ کے یہود میں بھی سرایت کرچکی تھی۔
دوسرے مرحلے میں بتایا کہ یہ و ہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ نماز خدا و بندہ کا تعلق اور زکوٰۃ بندے اور بندے کا تعلق ہے ۔ یہود ان دونوں میں بہت کمزور ہوچکے تھے۔ آگے وہی ذکر ہے کہ یہ لوگ متعصب نہیں بلکہ یہ اپنے اوپر نازل کردہ وحی اور اس سے قبل کی وحی کو مانتے ہیں اور متعصب نہیں۔ پھر آخر میں بتادیا کہ یہ لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور تمہاری طرح نہیں کہ آخرت کا ذکر تک تم نے اپنی کتب سے نکال دیا۔
اس پس منظر کو دیکھیں اور اس کے بعد جوابا ت دیکھتے ہیں۔ اب جوابات بہت متعین اور آسان ہوجائیں گے۔
۱۔ ایمان لانے سے کیا مراد ہے؟ کیا محض زبان کا اقرار یعنی کلمہ پڑھ لینا ایمان ہے؟ یا دل کی تصدیق بھی ضروری ہے؟یا اسے عمل سے ثابت کرنا بھی لازمی ہے؟
ایمان سے مراد یہاں ماننا ہی ہے۔ اور یہ ماننا اصلا دل سے ہے جبکہ زبان سے کہنا اس ماننے کے اظہار کا طریقہ ہے اور عمل اس ماننے کا ثبوت۔
۲۔ غیب سے کیا مراد ہے؟ اور اس میں کون کون سی باتیں شامل ہیں۔
غیب سے مراد محسوسات سے ماورا وہ دینی امور ہیں جو حواس خمسہ کی گرفت میں نہیں آتے۔اس پر ڈاکٹر اسد تا انگلش ترجمہ بہترین طور پر مدعا بیان کرتا ہے:
Those believe in what is beyond their perception.
یعنی انہیں دیکھا، سونگھا، چکھا، چھوا یا سنا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور جنت کو حواس خمسہ سے نہیں جانا جاسکتا۔ یہی معاملہ فرشتوں کا بھی ہے۔ لیکن یہ عقل سے ماورا ہے نہ عقل کے خلاف۔ ہاں محسوسات سے ماورا ہے۔
ایک بحث یہ چلی کہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں یا غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ میں نے مولانا امین احسن اصلاحی کے مدعا کو سمجھنے اور دلائل ماننے کی بڑی کوشش کی لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہ آسکی۔مولانا ترجمہ تو یہ کرتے ہیں کہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں لیکن اس کا مفہوم وہی اخذ کررہے ہیں جو غیب پر ایمان لانے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یا تو یہ ہوتا کہ مولانا تفسیر کبیر میں بیان کردہ نقطہ نظر کے تحت یہ کہتے کہ غیب میں رہتے ہوئے یعنی چھپ کر اپنی تنہائیوں میں بھی ایمان لاتے ہیں تو یہ بات ان کے ترجمے کے مطابق ہوتی گوکہ یہ مفہوم بھی کوئی زوردار نہیں معلوم ہوتا۔
اب سوال یہ ہے غیب میں کون کون سے امور آتے ہیں۔ عمومی جواب یہی ہے کہ اس مراد اجمالا وہ تمام امور شامل ہیں جن میں ذات بار ی تعالیٰ، فرشتے، آخرت کے امور وغیرہ شامل ہین۔البتہ اگر ہم دوبارہ اوپر بیان کردہ پس منظر میں رجوع کریں تو صاف علم ہوتا ہے کہ یہود سے کہا جارہا ہے دیکھو صحابہ یہ غیب یعنی محسوسات سے ماوراباتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ تو یہود چونکہ خدا کو محسوسات کی دنیا میں دیکھنا چاہتے تھے اس لئے یہاں بالخصوص ذات باری تعالی ہی مراد ہے۔ اور جب ہم یہ مان لیں تو اگلی آیت سے اس کا تعلق خود بخود بن جاتا ہے کہ یہ ذات باری تعالیٰ کو محسوسات سے ماوار ہونے کے باوجود مان لیتے اور پھر نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
۳۔ اگر غیب کو مان لیا جائے گا تو کیا یہ عقل کے خلاف نہیں ہوگا؟
غیب کا مطلب محسوسات سے ماورا ہونا ہے تو یہ خلاف عقل نہیں۔ غیب کے امور ایک صادق ہستی یعنی پیغمبر کی گواہی سے ہم تک پہنچ رہے ہیں ۔ اگرآئین اسٹائن کی گواہی سے ہم بلیک ہول کے وجود کو بن دیکھے مان سکتے ہیں تو پیغمبر کی گواہی اس سے کہیں معتبر ہے۔ دوسرا یہ کہ غیب کے جو بھی امور ہیں وہ سب عقل خود سے دریافت تو نہیں کرسکتی لیکن جب اسے بات سمجھائی جاتی ہے تو عقل مان لیتی ہے اور فطرت قبول کرلیتی ہے۔ چنانچہ فطرت تصدیق کرتی کہ خدا ہے، عقل تقاضا کرتی کہ واقعی ایک دن ایسا ہو جب سب سے ان کے کئے کا حساب لیا جائے، عقل یہ مطالبہ کرتی کہ اچھوں کو جزا اور بروں کو سزا دی جائے۔ عقل مان لیتی کہ فرشتوں کا ہونا خدا اور پیغمبر کے درمیان وسیلے کے لئے لازم ہے وغیرہ۔
ایک مغالطہ یہ ہے کہ عقل سے ماورا کا لفظ بھی ہم استعمال کرتے ہیں ۔ دراصل یہ عقل سے ماورا نہیں ہوتا بلکہ محسوسات سے ماوارا ہوتا ہے ۔
۴۔ کیا ایمان کا تعلق عقل سے ہونا چاہئے؟ اگر ہاں تو غیب پر ایمان کی موجودگی میں کیا یہ عقل کے خلاف نہیں ہوگا؟ اور اگر نہیں تو پھر ہم کیوں عیسائیوں کے نظریہ تثلیث پر عقلی اعتراضات اٹھاتے اور کیوں ہندووں کی بت پرستی کو خلاف عقل قرار دیتے ہیں؟
جی ایمان عقل کے خلاف نہیں ہونا چاہئے اور اگر ہے تو پھر یا تو وہ نسلی ایمان ہے یا پھر نقلی ایمان۔ لیکن یہ عقل کامن سینس ہے۔ اسی بنا پر تثلیث خلاف عقل ہے۔
۵۔ تیسری آیت میں ہے کہ یہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، جبکہ چوتھی آیت میں ہے کہ یہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا آخرت غیبی امر نہیں؟ یعنی یہاں کیوں آخرت کو الگ سے بیان کیا گیا؟
یہاں دوبارہ دیکھیں کہ یہود کو تعریض کی جارہی ہے کہ یہ لوگ تو آخرت پر پکا یقین رکھتے ہیں ۔ یعنی یہود کا اصل مسئلہ آخرت کو نہ ماننا یا آخرت کے تصور میں غلط فہمیاں تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ چند دن ہی آگ چھوئے گی یا یہ کہ ہم چہیتے ہیں وغیرہ۔ ان سے کہا گیا کہ اصل آخرت کو ماننے والے لوگ یہی ہیں۔ تمہارا دعوی باطل ہے۔ یعنی یہاں آخرت کا الگ سے ذکر اس کی یہود کے تناظر میں اہمیت کی بنا پر کیا جارہا ہے۔

Monday, 10 November 2014

بہشتی دروازہ



وہ اولیا جن کا مقصد صرف دین تھا، ان کو ہم مانتے ہیں، میں ان کی محنت دیکھتا ہوں تو میں خود کو ان کی خاک برابر بھی قرار نہیں دے پاتا۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ بابا فرید جس دین کی تبلیغ کرتے رہے میں انھی کا نام لے لے کر اس دین دھجیاں بکھیرتا رہوں۔ میں صرف اس جنتی دروازے کو مانتا ہوں جس کا وعدہ خود میرے پروردگار نے آپ سے ،مجھ سے اور سارے عالَم سے کیا ہے۔ 

پاکپتن کے جنتی دروازے سے گزر کر جنت مل سکتی ہے؟ 

جب میں سوچتا ہوں کہ جنت بہشتی دروازے سے مل سکتی ہے تو مجھے انبیاء کرام علیہم السلام کی سلسلہ بے معنی محسوس ہوتا ہے کہ ہر خطے میں ایک ایک دروازہ بنا لیا جاتا جہاں جنت کے سرٹیفکیٹ ملتے، جنتی دروازے کو ماننے کے بعد اخلاق و ایمان کی کوئی قدر میرے نزدیک اہمیت کی حامل نہیں رہتی، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اخلاقیات، معاشرت دین کا ایک ایک جز مجھے بوجھ لگتا ہے، غرض کہ میرے مدلل تصورات اور ایمان کا محل جسے میں قرآن و سنت سے تعمیر کرنے میں جتا ہوا ہوں، وہ سارا محل زمین بوس ہونے لگتا ہے۔ مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا دین اضافی اور غیر ضروری پابندی لگتی ہے۔
سیدنا نوح علیہ السلام کا بیٹا آپ کی گود میں پل کر بھی جنت میں نہ جاسکا، حضور ﷺ امتی امتی کہتے رخصت ہوئے، مگر جنت اتنی آسان ہے کہ تین سو روپے رشوت میں تین بار جنت کی کی سند۔۔۔۔ واللہ کسی کی روح بیت اللہ میں بھی پرواز کرجائے اور وہ ایمان نہ لائے تو جنتی نہیں ہوسکتا۔ خدارا اپنے دین کو کھیل تماشا مت بنائیں ! اگر یہ واقعی بہشتی دروازہ ہے تو اسے ہر وقت کھلا رہنا چاہیے۔۔۔ بہشت کا واحد راستہ ایمان و اخلاق ہے جس کی سند قرآن نے دی ہے،، مسلمان تو ہر وقت بہشت کے لیے کوشاں رہتا ہے،

بہشتی دروازہ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ خدا کی ذات اقدس، دین اسلام اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔

وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔

ڈائری کا ایک صفحہ: حافظ محمد شارق)
ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے ؛ وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔ یعنی بنیے پر پیسے کی موت آتی ہے وہ پرانے کھاتے کھولتا ہے، کہیں کسی کو ادھار دے رکھا ہو، کسی نے قرض لیا ہو، کہیں امانت رکھائی ہو، غرض کہ پرانے مردے بھی اکھاڑ کر جہاں کہیں سے وصولی ممکن ہو وہ پائی پائی وصول کرتا ہے۔
یہ کہاوت سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ روزِ محشر بھی ہم سب کی حالت کچھ اسی بنیے کی طرح ہوگی، ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اور سب سے وصولی میں چکر میں ہوں گے، آپ  نےکسی کی غیبت کی ہو، کسی کی دل آزاری کی، کسی کے گھر کے گیٹ پر بائیک پارک کردی، کسی کو ملاوٹ کرکے کچھ بیچا، کسی کو  قطار میں دھکا دیا ہو، کسی کی  آپ کے حق کی زمین ہڑپ کردی ، کسی کو آپ کو گالی دی ہو، ہر ایک آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے کھول کھول پر نیکیاں وصول کرے گا۔ سب پائی پائی کا حساب لیں گے اور ایک ماشے کی نیکی بھی معاف نہیں کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر ظلم کے مقابلے نیکیوں اور گناہوں کا تبادلہ ہوگا۔
اس صورت حال کو سوچ کر ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اعمال کے بینک بلنس میں اتنی نیکیاں بھی جمع کر رکھی ہیں کہ ہم اس وصولی کے بعد ہماری نجات ہوسکے؟؟؟ کیا ہم نے حقوق العباد کا اس قدر خیال بھی رکھا ہے کہ روزِ محشر ہم پر اس ظلم کے عوض اس کے گناہ نہ لاد دیے جائیں؟
اگر ہم نجات کے متمنی ہیں تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ہو گا۔


دین اور جبر



اگر ہمارا رب چاہتا تو زمین پر ساری نوعِ انسانی مومن ہوتی، مگر اللہ جبر پسند نہیں کرتے، ہمیں بھی جبر نہیں کرنا۔ دین اسلام اتنا کمزور نہیں جو جبری نفاذ کا محتاج ہو، یہ دین مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہے، یہ دین اعلیٰ استدلال پر قائم ہے۔ جس شمشیر سے لوگوں نے اس کے آگے سر جھکائے ہیں وہ شمشیر صرف اخلاق ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے، دین کے سب سے بڑے مبلغ انبیاء ہوتے ہیں مگر ان کا کام بھی انذار و تبشیر ہے۔

ابلیس کی دشمنی





ایک دشمن وہ ہوتا ہے جو چھپ کر وار کرے یا آستین کا سانپ ہو، ایک دشمن کھلا دشمن ہوتا،منہ پر کہتا ہے کہ تمہاری ایسی کی تیسی! تمھیں برباد کرکے ہی میں نے دم لینا ہے، نفس امارہ آستین کا سانپ ہے اور ابلیس کھلا دشمن۔ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔۔ اس کم بخت نے ہمیں بہکانے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے، کتنا ہی بھاگ لو، یہ ہر راستے ہر موڑ پر ہمیں بہکائے گا، آگے پیچھے دائیں کے بائیں ہر طرف سے اپنی اپنی چال بازی میں ہمیں لے گا، لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۔ اتنی کھلی دشمنی کا اعلان ہے پھر ہم کس خاطر اس سے ٹانکا جوڑ کے رکھیں؟؟ چلو ہم بھی اس سے دشمنی کرلیتے ہیں !!

تعصب


انسان کسی قوم سے تعلق رکھتا ہے تو بسا اوقات وہ اس کے بارے میں ایک خاص قسم کے تعصب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ بس اس کا فرقہ یا قوم ہی سیدھے راستے پر ہے اور باقی سب غلط راستے پر ۔یہ تعصب کی بدترین جذبہ ہے جو اسے کسی دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے پر راضی نہیں ہونے دیتا ۔بعض اوقات ہماری تربیت کرنے والے بھی یہ بات ہمارے ذہن میں ڈال دیتے ہیں کہ بس ہم ہی کامیاب ہیں اور باقی سب اللہ کے غضب کے حق دار ہیں۔ ہمارے نزدیک کسی خاص فرقے میں پیدا ہوجانا ہی حق کی سب سے بڑی دلیل بن جاتی ہے جو قرآن مجید کی رُو سے بدترین گمراہی ہے۔

(عدیلہ کوکب)

آدابِ اختلاف


تنقید کرنا آپ کا حق ہے، بے شک کیجیے مگر کسی کی ذاتیات پر اترنے کا آپ کو کوئی حق نہیں ۔ اپنے ذاتی اندازوں اور مفروضوں کی بنیاد کسی کے ایمان کا فیصلہ کرنا آپ کا کام نہیں ورنہ روزِ محشر یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کسی کا نقطۂ نظر جانے بغیر آپ نے کیسے اس کے ایمانی کیفیت کا فیصلہ سنا دیا۔

کیا آپ مسلمان ہیں؟

اس بات کی فکر کیجیے کہ آپ کے قول و فعل سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اگر آپ کی وجہ سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا کسی کا دِل دُکھا ہے، تو یہ آپ کے لیے پریشان کن صورت حال ہونی چاہیے، آپ کی نیند اُڑ جانی چاہیے جب تک کہ وہ شخص آپ کو معاف نہ کرے۔
 اگر آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو اپنے اس دعوے پر غور کریں کہ آپ مسلمان اور صاحب ایمان ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔" (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان(

علماء کا احترام کیجیے!!

علماء کا احترام کیجیے!!
=============
دلیل کی بنیاد پر کسی عالم دین کی غلطیوں پر تنقید کرنا یقیناً میرا حق ہے مگر ان کی تضحیک کرنے کا حق مجھے میرے پروردگار نے نہیں دیا۔ میں روشن خیالی کے اس نئے مفہوم سے بیزار ہوں جو علمائے دین کی تضحیک کو جائز قرار دے۔

میں نے علم ، دین کے انھی خادموں کی مجلس میں پڑھا ہے، میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں نے علم ان کی جوتیاں اٹھا کر سیکھا ہے، اگر آج دین اسلام پر میرا ایمان مستحکم ہے تو یہ انھی علما کی محنت کا ثمر ہے۔ دین کو سمجھانے کے لیے انھوں نے جو کچھ لکھا ہے ؛ میں اس سے ذرا بھی دامن تو بچاؤں تو میں خود کو برہنہ حسوس کرتا ہوں۔یہ درست ہے کہ میں ان کی سو کوتاہیاں گنواتا ہوں، کئی اختلافات رکھتا ہوں، ان سے ہزار ضد کرتا ہوں، مگر بھائی ! ضد تو بچے ہی کرتے ہیں، میں ان سے کبھی بڑا نہیں ہوسکتا۔۔۔
حافظ محمد شارقؔ

محبت کیا ہے؟


محبت کو سمجھنے کے لیے قرآن پاک سمجھنا پڑتا اور اس پر عمل کرنا پڑتا تب آتا ہے لفظ محبت سمجھ میں ۔ پھر پتا چلتا کہ محبت کیا تھی اور ہم کہاں پہ غلط ہیں ہم محبت کو کیا سمجھتے ہیں اور محبت اصل میں ہے کیا؟۔ محبت وہ ہے جو اللہ ہم سے کرتا ہے۔ کہ ہم گناہ کرتے جاتے اور وہ ہمارے گناہ چھپاتا جاتا اسے ہم سے اتنی محبت ہے کہ ہمارے گناہ دوسروں کے سامنے نہیں کرتا کہ کہیں ہم رسوا نہ ہوں اور ہمیں تکلیف نہ ہوئی
محبت یہ ہے جو اللہ ہم سے کرتا ہے کہ اگر ہم ذرا سا اس کی طرف جھکیں تو وہ اپنی مخلوق کے دل میں ہماری عزت ڈال دیتا ہے۔محبت یہ ہے کہ وہ ہر ہر قدم پر ہمارا خیال رکھتا تب بھی جب ہم اسے بھول جاتے اس کو یاد نہیں کرتے وہ تب بھی ہمیں چاہتا ہے جب ہم بے وفا دوست بن جاتے ہیں وہ ہمیں تب بھی محبت کے حصار میں رکھتا ہے جب ہم اسکی بجائے کسی اور سے بے پناہ محبت کا دعوا کر تے۔

وہ ہمیں ہر دکھ کے بعد خوشی دیتا اور خوشی کہ بعد دکھ دیتا کہ اگر ہم دکھ میں مایوسی کا شکار ہو کر کفر کر چکے تو خوشی میں اسے یاد کر لیں اور اگر ہم خوشی میں اسے بھول گئے تو دکھ میں اسکی محبت کا احساس کر کے اسے پکار لیں۔

محبت تو یہ ہی ہے کہ وہ پوری زندگی ہم سے کرتا ہی جاتا ، ہم اسے یاد نہیں کرتے ،پوری زندگی اسکی بات نہیں مانتے نہ شکر کرتے ہیں مگر وہ ہمیں عطا کرتا جاتا ہے۔ہم خوشیوں میں سکھ میں بھول جاتے مگر وہ اپنی محبت اس طرح نباتا کہ جب بھی ہم کبھی مصیبت میں ہوں تو بھی وہ ہمیں دھتکارتا نہیں وہ بس ایک پکار پر ہماری مصیبتوں کو ختم کرنے کے وصیلے بنا دیتا۔

مگر ہم انسان ایسے ہیں کہ اگر بات اللہ سے محبت کی ہو کہ کیا ہم اللہ سے محبت کرتے تو لاکھوں عذر بناتے ہیں کہ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا۔ اللہ تعالیٰ جتنی محبت ہم تو نہیں کر سکتے نہ ہم تو اس محبت کا قرض نہیں اتار سکتے کہ اسکی محبت کے آگے ہماری محبت کچھ بھی نہیں۔ اور کوشش ہی نہیں کرتے اس کی محبت کا جواب دینے کی۔

ایک حد تک یہ سہی ہے ہم اللہ سے اتنی محبت نہیں کر سکتے جتنی اللہ جی ہم سے کرتے مگر ہم اتنی محبت تو کر سکتے جتنی ہمارے بس میں ہے۔ ہم اس محبت کا قرض نہیں اتار سکتے مگر ہم اتنی زیادہ محبت ملنے پر محبت کرنے والے کا شکر تو ادا کر سکتے ہیں نہ۔ ذرا سوچیئے کیا واقع ہم اس قابل نہیں کہ محبت کو سمجھ کر اسکا شکر ادا کر سکیں اور اپنی استظاعت کے مطابق اس محبت کا قرض اتار سکیں۔ کیا ہم ایسی محبت کر سکتے ہیں یا ہمارے نصیب میں عذر ہی ہیں بس؟

عدیلہ کوکب

Saturday, 2 August 2014

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح


حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

            حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے متعلق مورخین کے ادھورے بیان کی وجہ سے بہت سے لوگوں میں کئی قسم کی غلط فہمی پھیل چکی ہے جس کی وجہ سے اکثر اعتراض بھی کیاجاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس نکاح کے بارے میں صحیح تفصیل سے لوگ آگاہ ہوں۔
            حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کے والد اور ان کے شوہر دونوں اسلام کے دشمن تھے۔ یہودی قبائل جب مدینہ جنگ کرنے کی تیاری کررہے تھے تو اس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ خبر کی تصدیق کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے بھیجا ، معلوم کرنے پر خبر کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی مسلمانوں کے خلاف حملے کی تیاریاں ہورہی ہے۔ جواب میں مسلمانوں نے بھی تیاریاں کیں اور شعبان کی ابتداء میں ہی مسلمان فوج نے رستے میں ہی ان یہودیوں کو گرفتار کرلیا جو حملے کی تیاری کررہے تھے۔ ان یہود میں عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ( جنگ کے وقت اسلام میں صرف اُن عورتوں کو گرفتار کرنے کی اجازت ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں عملی حصہ لے رہے ہوں) یہود کی طرف سے مزاحمت کے نتیجے میں ایک مسلمان اور 11 یہودی مارے گئے۔ انہی میں ایک حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے شوہر بھی تھے۔ بہرحال حضرت جویریہ رضی اللہ عنہاگرفتار ہوئیں۔انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انھیں فدیہ (جرمانہ) کے بدلے آزاد کردیا جائے۔لیکن یہاں پھر ایک مسئلہ تھا کہ ان کے پاس رقم نہیں تھی۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں سردار ہوں، میری شان سے بالاتر ہے کہ میری بیٹی کنیز بنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خود جویریہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ والد نے جاکر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انھوں نے خود کہا کہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔چنانچہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہاکی خواہش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رقم خود ادا کردی اور انھیں آزادکردیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
اس نکاح سے یہ فائدہ ہوا کہ جتنے بھی لوگ غلام بنائے گئے تھے انھیں سب مسلمانوں نے اس بات سے آزاد کردیا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی وہ غلام نہیں ہونا چاہیے۔