Showing posts with label Ala hazrat. Show all posts
Showing posts with label Ala hazrat. Show all posts

Friday, 6 November 2015

ماہنامہ المبشر نومبر 2015

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
المبشر کا شمارہ نومبر 2015 شایع ہو گیا ہے
حافظ محمد شارق
علمی و فکری موضوعات پر بحث کرنا یقیناً اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں علم و دانش اب بھی صحت مندی کے ساتھ زندہ ہے۔ مگر ہمارے ہاں اکثر علمی حلقوں میں یہ المیہ ہے کہ ہر ایک سانحے کو عبرت کے بجائے سامانِ ذوق بنا لیتے ہیں اور پھر اس موضوع پر علمی محافل برپا ہو جاتی ہیں۔ نصیحت کی چیز کو فرصت کا شغل ۔۔۔۔۔ مذید پڑھیے
مدیحہ فاطمہ قاسم
حدیث میں آتا ہے کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں ۔ ان کا زنا  دیکھنا یا نظر کرنا ہے۔ اور کان بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا سننا ہے اسی طرح  زبان بھی زنا کرتی ہے اور اس کا زنا بات کرنا ہے۔۔۔۔ مذید پڑھیے
پروفیسر محمد عقیل
چونکہ بنی اسرائیل کی تاریخ بہت پرانی تھی اس لئے چارج شیٹ میں ماضی کے تمام جرائم کی تفصیل بیان کر دی گئی۔ یہ چارج شیٹ کچھ استثنی کے ساتھ آیت نمبر 123 تک جاری رہتی۔۔۔  مذید پڑھیے
حافظ محمد شارق
سیاستکے میدان میں بھی انسان نے کئی زمانوں تک جدوجہد  کی، اس میدان میں مختلف نظام آزمانے کے بعد اب انسان نے دعویٰ کیا کہ ساری دنیا کی فوز و فلاح کا ذریعۂ وحید۔۔۔۔۔ مذید پڑھیے
حافظ محمد شارق
اشارۃ النص سے مراد یہ ہے کہ کوئی حکم نص سے اشارۃً ثابت ہوتا ہو اور سیاق و سباق یا عبارت پر معمولی غور و فکر سے ہی اس میں کوئی حکم سمجھ میں آجائے۔۔۔۔۔ مذید پڑھیے
اْمِّ مریم

 دنیا میں کسی بهی چیز سے استفادہ حاصل کرنے کا صحیح طریقہ اسے بنانے والے کے بیان کردہ اصول و طریقہ استعمال سے ہی ممکن ہے اس کے برعکس اگر ہم اپنے طریقے سے اس چیز کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف یہ کہ یہ ہمیں فائدہ نہیں دے گی۔۔۔۔۔ مذید پڑھیے
محمد مبشر نزیر
تفسیر کا تعلق قرآن مجید کی عبارت کے مفہوم کی وضاحت سے ہے۔  سورتوں کا شان نزول یعنی تاریخی بیک گراؤنڈ ، عبارت کی وضاحت، الفاظ کے معانی اور اس سے متعلق سوالات کے ۔۔۔۔۔ مذید پڑھیے 
عرفان شہزاد
کہتے ہیں ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے بنتےہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شعبہ ء زندگی میں اگلے ریکارڈ ٹوٹتے ہیں، نئے بنتے ہیں، پھر نئے ریکارڈ بھی ٹوٹتے ہیں اور پھر مزید نئے ریکارڈ بنتے ہیں۔ ہر ریکارڈ کسی عالی حوصلہ۔۔۔۔ مذید پڑھیے
پروفیسر محمد عقیل
زندگی میں بے شمار نعمتیں ہمیں   بن مانگے مل جاتی ہیں۔ ہم ان کے لیے نہ تو سوچتے ، نہ محنت کرتے، نہ پریشان ہوتے اور نہ ہی کوئی تگ ودو کرتے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ہماری جھولی میں۔۔۔۔ مذید پڑھیے
پروفیسر محمد عقیل
عمرے کی ادائیگی کے بعد میں ہوٹل پہنچا۔ تھکن کافی ہوچکی تھی جس کی بنا پر نیند آجانا چاہئے تھی۔ لیکن نئی جگہ کے باعث نیند نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ میری سوتی جاگتی آنکھوں میں وہی منظر آنے لگا ۔۔۔۔ مذید پڑھیے
عدیلہ کوکب
آج نومبر کی  سرد سی شام  میں  وہ خود کو بہت  تنہا محسوس کر رہا تھا۔ اس کا انگ انگ  تھکاوٹ سے  چور تھا۔ یہ تھکاوٹ لگاتار  محنت کی تھی نہ  ہی بڑھاپے کی نشانی تھی بلکہ یہ تھکاوٹ  ۔۔۔۔ مذید پڑھیے
محمد منہب شاہ 
 سوچنے کی بات یہ ہےکہ کیا ہم دن میں اپنے رب سے بات کرنے کیلئے ایک گھنٹہ بھی نہیں نکال سکتے؟افسوس! ہمیں پہلے یہی سوچنا پڑے گا کہ ہم صحیح معنوں میں ایمان رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ کیونکہ حدیث نے مومن اور کافر میں فرق کرنے والی چیز نماز کو کہا ہے۔ علما میں سے ایک گروہ تارکِ نماز کو کافر بھی کہتا ہے۔تو اب ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ کیا ہم دن میں اتنا وقت بھی رب سے بات نہیں کرناچاہتے؟مذید پڑھیے
عظمیٰ عمبرین
سوالہم نارمل روٹین میں اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کر جاتے ہیں، مجھے اس کی وجہ بتایئے حالانکہ انسانی فطرت میں تو۔۔۔
السلام علیکم ،آ پ کی با ت صحیح ہے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے چونکہ گھر والوں کے احسانات کو ہم دل سے احسان سمجھتے ہی نہیں  بلکہ حق سمجھ کر ان کے احسانات و محبت وصول کرتے ہیں ۔۔۔ مذید پڑھیے
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
نبی محترمﷺ خیر البشر  ہیں
محبت اور رحمت  سر بسر ہیں


حضرت جنید بغدادی اخلاص کے متعلق اپنی زندگی کا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں نے اخلاص ایک حجام سے سیکھا ۔ وہ اس وقت مکہ معظمہ میں کسی رئیس کے بال بنا رہا تھا۔ میرے مالی حالات  شکستہ تھے۔ میں نے حجام سے کہا :
"میں اجرت کے طور پر تمہیں ایک پیسہ بھی نہیں دے سکتا۔ بس تم اللہ کے لیے میرے بال بنا دو"۔۔۔۔۔ مذید پڑھیے
  •  کسی کو اس کے جرم کی سزا دینے میں جلدی نہ کرو۔ بلکہ اسے صفائی ، معافی، اور معذرت کے مواقع مہیا کرو۔ (عائشہ حفیظ، سمندری)
  •  اگر چاہتے ہو کہ اللہ آپ کے عیب چھپائے تو آپ دوسروں کے عیبوں کو چھپا لو۔
  •  جس نے کسی غریب ، تنگ دست کو مہلت دی اور سارا ال یا کچھ حصہ معاف کر دیا تو اللہ ایسے معاف کرنے والے کو قیامت کی پریشانیوں اور تکالیف سے نجات عطا کرے گا۔ ( مسلم شریف)
  •  جس کو اللہ نے دعا کی توفیق  دی اس کی مغفرت ہو گئی کیوں کہ جس کو معافی نا ملنی ہو اسے دعا کی توفیق نہیں دی جاتی۔ ( واصف علی واصف)

یہ خاکی تو بس خاکی ہے،
مٹی سے ہے اسکو انس بہت
خیالِ وطن پیش کرنے والے             

دینِ اسلام پر فخر کرنے والے

خبر نامہ
فہم القرآن سیشن ۔ سائٹ کی تعمیر ۔  مقالہ "نزولِ مسیح کا تحقیقی مقالہ" ۔ بہترین طلبا ۔ سیرت نبوی صلی اللہ عالیہ وسلم اور مستشرقین کا علمی جائزہ
فہم القرآن سیشن
علوم اسلامیہ پروگرام کے احباب و طلباء میں فہم القرآن سیشن کا آغاز کیا گیا تھا۔ دسویں سیشن کے بعد تزکیہ نفس کی خاطر ایک مشق کی گئی۔ ساجد محمود صاحب نے بہت عمدہ سوالات کے ذریعے پچھلے پانچ اسباق میں سے تعمیری و تربیتی پہلوؤں کا احاطہ کر کے اس مشق کو ترتیب دیا۔
بہترین کارکردگی دکھانے  والے طلبا
شیخ معیز الدین، علی حسنین، ہما گل، عظمیٰ عمبرین، راحتعباس، ارشد شیخ، طلحہ سونو، انیلہ عارف
ویب سائٹ کی تعمیر
علوم اسلامیہ کی ویب سائٹ پر تعمیری کام جاری ہے۔ اس لیے داخلہ فارم نیچے دی گئی سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں۔
نزولِ مسیح کا تحقیقی مقالہ
پروفیسر محمد عقیل کا  "نزولِ مسیح کا تحقیقی مقالہ" آن لائن پبلش کر دیا گیا گیا ہے۔
"کتاب "سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مستشرقین کے اعتراضات کا علمی جائزہ

الحمدللہ سیرت پراجیکٹ کا تیسرا ماڈیول "سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مستشرقین کے اعتراضات کا علمی جائزہ" اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اس اہم کام کی انجام دہی پر مصنفہ عدیلہ کوکب خصوصی مبارک باد کی مستحق ہیں۔

Monday, 10 November 2014

بہشتی دروازہ



وہ اولیا جن کا مقصد صرف دین تھا، ان کو ہم مانتے ہیں، میں ان کی محنت دیکھتا ہوں تو میں خود کو ان کی خاک برابر بھی قرار نہیں دے پاتا۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ بابا فرید جس دین کی تبلیغ کرتے رہے میں انھی کا نام لے لے کر اس دین دھجیاں بکھیرتا رہوں۔ میں صرف اس جنتی دروازے کو مانتا ہوں جس کا وعدہ خود میرے پروردگار نے آپ سے ،مجھ سے اور سارے عالَم سے کیا ہے۔ 

پاکپتن کے جنتی دروازے سے گزر کر جنت مل سکتی ہے؟ 

جب میں سوچتا ہوں کہ جنت بہشتی دروازے سے مل سکتی ہے تو مجھے انبیاء کرام علیہم السلام کی سلسلہ بے معنی محسوس ہوتا ہے کہ ہر خطے میں ایک ایک دروازہ بنا لیا جاتا جہاں جنت کے سرٹیفکیٹ ملتے، جنتی دروازے کو ماننے کے بعد اخلاق و ایمان کی کوئی قدر میرے نزدیک اہمیت کی حامل نہیں رہتی، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اخلاقیات، معاشرت دین کا ایک ایک جز مجھے بوجھ لگتا ہے، غرض کہ میرے مدلل تصورات اور ایمان کا محل جسے میں قرآن و سنت سے تعمیر کرنے میں جتا ہوا ہوں، وہ سارا محل زمین بوس ہونے لگتا ہے۔ مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا دین اضافی اور غیر ضروری پابندی لگتی ہے۔
سیدنا نوح علیہ السلام کا بیٹا آپ کی گود میں پل کر بھی جنت میں نہ جاسکا، حضور ﷺ امتی امتی کہتے رخصت ہوئے، مگر جنت اتنی آسان ہے کہ تین سو روپے رشوت میں تین بار جنت کی کی سند۔۔۔۔ واللہ کسی کی روح بیت اللہ میں بھی پرواز کرجائے اور وہ ایمان نہ لائے تو جنتی نہیں ہوسکتا۔ خدارا اپنے دین کو کھیل تماشا مت بنائیں ! اگر یہ واقعی بہشتی دروازہ ہے تو اسے ہر وقت کھلا رہنا چاہیے۔۔۔ بہشت کا واحد راستہ ایمان و اخلاق ہے جس کی سند قرآن نے دی ہے،، مسلمان تو ہر وقت بہشت کے لیے کوشاں رہتا ہے،

بہشتی دروازہ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ خدا کی ذات اقدس، دین اسلام اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔

Saturday, 21 April 2012

ض کی ادائیگی۔ کیسے؟ داد یا ظاد؟

ہمارے ہاں ایک عمومی رویہ ہے کہ اگر ہم سے کوئی شخص کا گروہ کسی معاملے میں اختلاف کربیٹھے ہماری عقلوں پر ایسے قفل لگ جاتے ہیں کہ ہم پھر اس کی ہر ایک بات سے اختلاف کرنے لگ جاتے ہیں اور ہر صورت میں اسے گمراہ قرار دینے پر بضد رہتے ہیں، خواہ وہ حق پر ہو یا باطل۔ ایک واضح مثال ہمارے سامنے عربی لفظ ضاد کی قرأت کے متعلق ہے جسے ہم نے آج ایک بہت بڑا نزع اور فساد کا سبب بنا رکھا ہے ۔ ہم نہ جانے کیوں اس بارے میں لڑتے رہتے ہیں ، کوئی کہتا ہے اسے ظ کے مشابہ پڑھو اور کوئی کہتا ہے دال کی پڑھو ۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس بارے دیوبندی ، اہل حدیث ہو یا بریلوی مکتب فکر کے لوگ، کسی میں کوئی اختلاف امت میں نہیں ہے ۔ سبھی مکاتب فکر متفق ہیں کہ یہ لفظ ’’ض‘‘ زبان کی کروٹ جب اوپر داڑھوں سے دائیں یا بائیں طرف لگانے سے ادا ہوتا ہے، اس مخرج میں کسی قسم کا کہیں اختلاف نہیں ہے۔لاعلمی کی بناء پر بعض لوگوں نے اسے نزع بنا دیا ہے ۔ میں ان لوگوں سے انتہائی عاجزی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو اس موضوع کو بنا سمجھے جھگڑے کا سبب بنالیتے ہیں کہ براہِ کرم اس معاملے میں جھگڑنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ حقیقت کیا ہے، اور ہمارے اکابر علماء نے اس بارے میں کیا فرمایاہے۔
اہل سنت والجماعت کے بریلوی مکتب فکر کے امام حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب اس بارے میں لکھتے ہیں:
’’ظاد اور دواد دونوں محض غلط ہیں، اور اس کا مخرج بھی نہ زبان کو دانتوں سے لگا کر ہے نہ زبان کی نوک کو داڑھ سے لگا کہ، بلکہ اس کا مخرج زبان کی ایک طرف کی کروٹ اسی طرف بالائی داڑھوں سے مل کر درازی کے ساتھ ادا ہونا اور زبان کو اوپر کو اٹھا کر تالو سے ملنا اور ادا میں سختی وقوف ہونا ہے۔ اس کا مخرج سیکھنا مثل تمام حرفوں کے ضروری ہے جو شخص مخرج سیکھ لے اور اپنی قدرت تک اس کا استعمال کرے اور ظ یا ذ کا قصد نہ کرے بلکہ اسی حرف کا جو اللہ عزوجل کی طرف سے اترا ہے پھر جو کچھ نکلے بوجہ آسانی صوت پر نماز کا فتویٰ دیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ۔ جلد ۳، صفحہ ۱۰۰)
’’یہ حرف دشوار ترین حرف ہے اور اس کی ادا خصوصاً عجم پر کہ ان کی زبان کا حرف نہیں سخت مشکل (ہے)۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کا مخرج صحیح سے ادا کرنا سیکھیں اور کوشش کریں کہ ٹھیک ادا ہو اپنی طرف سے نہ ظاد کا قصد کریں نہ دواد کا کہ دونوں محض غلط ہیں اور جب اسے حسب وسع و طاقت جہد کیا اور حرف صحیح ادا کرنے کا قصد یا پھر کچھ نکلے اس پر مواخذہ نہیں ، لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا خصوصاً ظا سے اس حرف کا جدا کرنا تو سخت مشکل ہے پھر ایسی جگہ ان سخت حکموں کی گنجایش نہیں تکفیر دینا امر عظیم ہے لا یخرج الانسان من الاسلام الا حجور ما ادخلہ فیہ اور جمہور متاخرین کے نزدیک فساد نماز کا بھی حکم نہیں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ۔ جلد ۳، صفحہ ۱۰۱)
بالکل یہی بات اہل سنت والجماعت کے دوسرے مکتب فکر علماء دیوبندکے ایک جیّد عالم دین حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں:
جب مخرج معلوم ہوگیا تو ضاد کے ادا کرنے یہی طریقہ ہے کہ اس کے مخرج سے نکالا جاوے۔ اس نکالنے سے بوجہ عدم مہارت خواہ کچھ ہی نکلے عفو ہے اور اگر قصداً دال یا ظا پڑھے وہ جائز نہیں ، جیسا کہ بعض نے دال پڑھنے کی عادت کرلی ہے اور بعض فقہاء کے کلام میں دیکھ کر کہ ضاد مشابہ ظا ہے ظا پڑھنا شروع کردیا حالانکہ مشابہت کی حقیقت صرف مشارکت فی بعض الصفات ہے اور مشارکت فی بعض الصفات سے اتحاد لازم نہیں آتا۔ (امداد الفتاویٰ۔ جلد ۱، صفحہ ۱۷۶)
دونوں فتاویٰ کو پڑھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا خلاصہ کلام ایک ہی ہے ۔ض کی ادائیگی نہ ظا ہے نہ داد ہے بلکہ یہ دونوں کے قریب ایک علاحدہ حرف ہے جس کی ادائیگی اہل عجم کے لیے ایک مشکل کام ہے، اور اس بارے میں علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہی ہے کہ یہ عذر ہے چنانچہ معاف ہے‘ البتہ کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ اس لفظ کی صحیح ادائیگی کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ اگر زبان کی کروٹ داڑھ کے ساتھ لگے تو سختی کے ساتھ لگا کر ادا کیا جائے تو یہ دال کے مشابہ ادا ہوگا یہ بھی صحیح اور جائز ہے اس لیے کہ اس کی ادائیگی درست مخرج سے کی جارہی ہے ، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زبان کی کروٹ کو داڑھوں کے ساتھ لگا کر نرمی سے ادا کیا جائے تو یہ ظا کے مشابہ ادا ہوتا ہے اور یہ بھی بلاشک و شبہ صحیح ہے۔ مختصراً اس لفظ کی ادائیگی کے لیے اہم امر مخرج ہے اگر مخرج درست ہے تو پھر ظا یا دال کے مشابہ پڑھنے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوگا دونوں ہی صحیح ہیں لیکن اسے اپنے مخرج سے ادا نہ کیا جائے تو پھر چاہے اسے دال کی طرح پڑھ لیں یا ظا کے، دونوں مکتب فکر کے نزدیک غیر صحیح ہوگا۔ چنانچہ اس بارے میں اب جھگڑنے سے بہتر ہے کہ ہم اس کے درست مخرج کے ساتھ صحیح ادائیگی کے لیے کسی ماہر قاری (مثلاً امام کعبہ شیخ عبد الرحمن السدیس، شیخ سعد الغامدی) کی تلاوت سنیں اور مشق کرتے رہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
حافظ محمد شارق 




حافظ محمد شارق