Showing posts with label Shariq Saleem. Show all posts
Showing posts with label Shariq Saleem. Show all posts

Tuesday, 5 November 2013

کیا آپ کی روزی حلال ہے؟



حافظ محمد شارق

حضرت آدم علیہ السلام نے کاشت کاری کی، حضرت موسی علیہ السلام کئی سالوں تک حضرت شعیب علیہ السلام کے چرواہے رہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کا کام کیا کرتے تھے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجارت کرتے تھے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کرلیجیے ، آپ دیکھیں گے کہ جس طرح اللہ کے یہ بندے اپنی آخرت کے لیے محنت  کرتے ہیں اسی طرح حلال کمائی کے لیے بھی محنت کیا کرتے تھے۔ یاد رکھیں کہ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا، آپ محنت کے بغیر کسی صورت کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔اگر آپ بحیثیت مسلمان اپنے دعوے کے علاوہ اخروی زندگی کے متعلق واقعی سنجیدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ قیامت میں ہونے والے کٹھن سوالوں کا جواب دے سکیں تو پھر اس بات کا ضرور خیال کریں کہ آپ کہاں سے اور کیسے کما رہے ہیں؟ محنت سے کما کر اپنا اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنا ایک آپ  کے لیے دینی فرائض اور عبادت میں شامل ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا  ارشاد پاک ہے:
اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے اور وہ صرف پاکیزہ مال ہی کوقبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اسی بات کاحکم دیا ہے جس کا اس نے رسولوں کوحکم دیا ہے، چنانچہ اس نے فرمایا، "اے پیغمبروں! پاکیزہ روزی کھاؤ اور نیک عمل کرو ۔"اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا " اے اہل ایمان! جو پاک اور حلال چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں وہ کھاؤ۔پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبی مسافت طے کرکے مقدس مقام پرآتا ہے ، عبار سے اٹا ہوا ہے، گرد آلوف ہےاور اپنے دونوں ہاتھ آسمانکیطرف پھیلا کر کہتا ہے" اے میرے رب! (اور دعائیں مانگتا ہے)" حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے ، اس کا لباس حرام ہے اور حرام  پر پہ وپ پلا ہے ، ایسے شخص کی دعا کیوں کر قبول ہوسکتی ہے؟(ترمذی، کتاب التفسیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندی حرام مال کمائے پھر اس میں سے اللہ کی راہ  میں صدقہ کرے تو یہ صدقہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر اپنی ذات اور گھر والوں پر خرچ کرے گا تو برکت سے خالی ہوگا، اگر وہ اس کو چھوڑ کر مرا تو وہ اس کے جہنم کے سفر میں زادِ راہ بنے گا ۔ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعے سے نہں مٹاتا بلکہ برے عمل کو اچھے عمل سے مٹاتا ہے،خبیث ناپاک چیز کو خبیث ناپاک چیز نہیں مٹاتی۔ (مسند احمد)
ان احادیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ کمائی اگر حرام اور ناجائز طریقے سے ہو تو پھر دعا قبول ہونے کا کوئی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ حدیث کے دوسرےحصے پرغور کریں۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی صدقات و عبادات قبول کرتے ہیں جو حلال کمائی سے ہو۔حرام مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بے سود ہے۔اس بات کا فیصلہ خود کیجیے کہ کیا حرام مال سے کھائی ہوئی غذا جو آپ کے بدن کا جز بن جاتی ہے، یا اس سے آپ قوت و توانائی حاصل کرتے ہیں، حرام مال سے حاصل شدہ اسی بدن اور اس کی قوت و توانائی سے کی گئی عبادت کیا اللہ کو قبول ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''ہروہ گوشت جو حرام سے نشوونما پاتا،اس کے لائق تو آگ ہی ہے۔(حوالہ درکار۔بحوالہ آداب زندگی)
قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ اپنے شکم حرام مال سے بھرتےہیں، وہ دراصل اپنے شکم میں جہنم کی آگ بھر رہے ہوتے ہیں جو آخرت میں انتہائی وحشت ناک انداز میں ان کے سامنے ہوگی۔
بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے۔ (سورۃ النساء۔ آیت 10)
آپ الحمدللہ چوری ، ڈاکہ زنی ، ظاہری فراڈ وغیرہ جیسے جرائم میں ملوث نہیں ہیں، لیکن کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی کمائی سو فیصد حلال ہے؟ ہم ملازمت میں ایمان داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ، ہم ملازمت میں وقت کی پابندی نہیں کرتے، ہم اپنے فرائض منصب صحیح طور پر ادا نہیں کرتے، ہم اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہم دن بھر دھوپ میں پسینہ بہانے کے باوجود لوگوں کو جھوٹ اور فریب دے دے کر اپنی دکان کا مال بیچتے ہیں۔پھر بھی ہم میں سے کتنے ہی دین دار افراد ایسے ہیں جو اسی زعم باطل میں مبتلاء رہتے  ہیں کہ ہماری کمائی حلال ہے،ہم مطمئن ہیں کہ ہمارے شکم میں جو غذا جارہی ہے وہ حلال ہے، حالانکہ سراسر حرام ہے۔
اگر آپ اللہ کے حکم اور  سیرت النبی کے مطابق کسب حلال کا ارادہ رکھتے ہیں ، اگر آپ کو روز محشر اللہ کے سامنے احساس جواب دہی کا خوف ہے تو پھر ضروری ہے کہ آپ اس بات کی پرواہ بھی کریں کہ کسی بھی طرح آپ کا حلال ذریعۂ معاش آپ کے لیے "حرام" کا ذریعہ نہ بن جائے۔ مندرجہ ذیل نکات پر غور کریں اور اپنا احتساب کریں۔
·      سرکاری محکمے بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں   میں یہ مرض عام ہے کہ ملازمین گھر بیٹھے رہتے ہیں اور صرف تنخواہ والے دن پیسے وصول کرنے آجاتےہیں۔ ایسی کمائی سراسرحرام ہے۔
·      ملازمت کے لیے جو اوقات کار مقررہیں، ان اوقات میں بلا اجازت کوئی اور کام کرنا ، حتیٰ کہ تلاوت قرآن بھی جائز نہیں۔
·      ملازمت میں جس روز (علاوہ تعطیلات) خود سے چھٹی  کی جائے اس دن کی تنخواہ لینا صحیح نہیں، الّا یہ کہ چھٹی کی درخواست ، اجازت یا معافی قبول کرلی گئی ہو۔
·      اگر بحیثیت ملازم آپ سےکوئی ناجائز کام،ظلم اور نا انصافی کروایا جارہا ہے تو اس میں مجبوراً شریک ہونا بھی آپ کے لیے جائز نہیں، ورنہ اس گناہ میں آپ بھی برابر کے شریک ہوں گے۔
·      اپنے منصب کا استعمال ذاتی مفاد کے لیے کرنا صحیح نہیں۔
·       اللہ تعالیٰ نے معاش کے لیے دن کا وقت اور آرام کے لیے رات بنائی ہے، لہٰذا اپنا کاروبار صبح سویرے کھولیے۔

Friday, 25 October 2013

تلاشِ حق



حافظ محمد شارق

 اسلام زندگی گزارنے کے اس طریقے اور طرزِ فکر کا نام ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام لائے۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کی تشریح و توضیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ میں کردی ہے۔ اب یہ دین ہر صورت میں مکمل ہے اور قرآن مجید کی رو سے ہماری فلاح و نجات کا ضامن بھی صرف یہی دین ہے۔الحمدللہ ہم میں سے کوئی اس بات کا انکار نہیں کرتا اور نہ ہی کسی صورت انکار  کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے لیے صرف اسلام ہی راہِ  نجات ہے۔ ہم دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی ہمارے لیے کامیابی ہے۔ ہم دین سے منحرف ہر شخص کے متعلق اپنے دل میں اس بات کی تمنا رکھتے ہیں کہ وہ دین کا صحیح طرح سمجھے ،علم حاصل کرے اور اسی راستے کو اپنائے جس کی دعوت پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔   لیکن کبھی ہم نے خود اپنے ضمیر سے بھی یہ سوال پوچھنے کی زحمت کی ہے کہ ہم  واقعی دین کی اُس صحیح صورت پر عمل پیرا ہیں جس کی دعوت قرآن دیتا ہے؟ دین کی جو فکر ہمیں اپنے والدین سے توارث (Heredity) سے ملی ہے ، اور بلا تحقیق ہم جس راستے پر برس ہا برس  سے چل رہے ہیں، کیا قرآن کا راستہ وہی ہے؟ یا ہم "نتبع ما ألفينا عليه آباءنا" (ہم تو اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا) کا مصداق خود کو حق سمجھ رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد اسی گروہ سےتعلق رکھتی ہے جس پر قرآن نے درج بالا تبصرہ کیا ہے ۔ہم میں سے اکثر افراد ایسے ہی ہوں گے جواپنے خاندان میں رائج دین کی صورت پر محض اس لیے عمل پیرا  ہیں کہ انھوں نے اپنے ماحول سے یہی کچھ حاصل کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سےکوئی واقعی اللہ سے اتنا مخلص بھی ہے کہ وہ اُس راستے پر تنقیدی نظر ڈالنے کی ہمت رکھتا ہو جو ہمیں آباء و اجداد سے ملا ہے؟ یہ معاملہ دراصل تلاشِ حق کا ہے۔اُن عقائد کی تلاش کا جس پر دین اسلام کی عظیم الشان عمارت قائم ہے، یہ تلاش اس امر کی ہے کہ اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بندے کے درمیان کس قسم کا خوبصورت رشتہ ہے۔ یہ تلاش دراصل اس بات کو دریافت کرلینےکا نام ہے کہ قرآن کوبندے کی کیسی شخصیت مطلوب ہے۔لیکن اس تلاش میں  ابلیس نے ایسی دیواریں اور رکاوٹیں بھی کھڑی کردیں ہیں جنھیں عبور کرنا ضروری ہے۔
 اللہ سے مخلصانہ محبت کرنے والے کے لیے تلاشِ حق میں بنیادی طور پر صرف دو ہی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ فکری جمود اور جہالت۔
فکری جمود کیا ہے؟قرآن مجید میں (سورۃالتوبہ آیت 31) میں اللہ تعالیٰ نے  نصاریٰ کےمتعلق یہ فرمایا ہے کہ انھوں نے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا، یعنی ان کے علماء انھیں جو کچھ کہتے ، وہ اسے مان لیتے تھے چاہے وہ اللہ کے نازل کردہ واضح احکامات  کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ان کا اصرار صرف اس بات پر تھا کہ وہ اپنے علماء کی اندھی تقلید نہیں چھوڑیں گے وہ ہمیں جس بات پر لگائیں ہم لگ جائیں گے اور جس بات سے روکیں ہم رک جائیں گے۔لیکن حقیقت میں یہی وہ رویہ یعنی جمود تھا جو قبولِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ذرا غور کیجیے کہ اگر قرآن اس جمود کی مخالفت نہ کرتا  تو کیا ہمارے آباء و  اجداد ، یا ہم خود باطل مذہبی رہنماؤں کی پیروی میں رہتے ہوئے دینِ حق تک پہنچ سکتے تھے؟قرآن مجید نے  انسانی فکر سےاسی  جاہلانہ جمود کو ختم کرنے کے لیے غور و فکر کی دعوت  دی اور لوگوں کے ذہنوں کو وسیع کیا۔ اس آیت کو دیکھیے کہ قرآن مجید کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا صرف بڑوں اور مذہبی پیشواؤں کے لیے  نہیں بلکہ ہر مومن پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں
وَلَقَدْ یسرنا القرآن للذکر فھل من مُدَّکِرْ
اور ہم بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
 اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کریں  کہ اس نے علماء اور آباء و اجداد کی اندھی پیروی کے بجائے خود قرآن کی دعوت کو سمجھنے کی تلقین کی ہے تاکہ ہم اس وسعت نظری تک پہنچ جائیں جو ہمیں حق کی راستہ دکھائےگی۔ آپ قرآن مجید کی ساری دعوت دیکھ لیجیے، ہرایک آیت بندے کے قلب و ذہن کو اس بات پر جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اعمال و عقائد کے متعلق فکر کرے اور غفلت کی زندگی نہ گزارے۔واضح رہے کہ یہاں یہ بیان کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے کہ ہم علماء کرام پر بھروسہ نہ کریں بلکہ بات صرف یہ ہے ہم وہ لوگ جو "علماء" کے لبادے میں ہمیں توہمات سکھاتے ہیں، ہمیں دین کی حقیقی صورت سے دور رکھتے ہیں ہم ان سے اپنے آپ کو آزاد کرکے علمائے حق کو تسلیم کریں۔ اُس توحیدِ خالص کی طرف آئیں جو ہر قسم کے شرک اور توہمات سے پاک ہے۔
قبول حق میں دوسری بڑی رکاوٹ جہالت ہوتی ہے۔ قرآن  جس دور میں نازل کیا گیا اس سے صدیوں پہلے سے اب تک دنیا کی بہت سی قوموں میں دین کا علم ایک مخصوص طبقے تک محدود رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے حق و باطل کی پہچان کرنا ناممکن تھا۔آج بھی علم دین صرف علماء کی میراث سمجھی جاتی ہے، اگر وہ علماء کو ہمیں ہمارے ماحول میں میسر ہوئے ہیں، وہ علماء اگرخدانخواستہ "علماء سو" میں سےہوئے توکیا ہم بھی ان کے گمراہی کےگڑھے میں ان کے ساتھ صرف اس بناءپر چلے جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی انھی علم دین کا عَلم بردار دیکھا ہے؟ اسی حقیقت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے علم کے دروزے بھی ہر ایک کے لیے کھول دیے، اس نے جس طرح قرآن کو سمجھنے کی دعوت ہر ایک کے لیے عام کی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ سے علم کی فرضیت  بھی ہر ایک کے لیے رکھ دی تاکہ صحیح علم کی بنیاد پر بندہ دین کے معاملے میں صحیح فیصلہ کرسکے ۔
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ (ابن ماجہ و بیہقی)
علم حاصل کرنے کی کوشش اور طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ دین کا صحیح فہم حاصل ہونے کے لیے علم ایک بنیادی ضرورت ہے۔یہ علم صرف نماز ، زکوٰۃ، حج ، روزہ اورظاہری عبادات کے متعلق نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔اسلام کے بنیادی عقائد،  اوامر و نہی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ باتوں کا علم ہونا ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے اور اس علم کا منبع قرآن ہے ۔
قرآن جوعلم پیش کرتا ہے وہ کیا ہے؟ دراصل جہالت کے زوال اور ہمارے ذہن میں موجود جمود کو توڑنے کا نام ہے۔یہ وہ مقدس مشعل  ہے جس کی روشنی میں انسان بد اعتقادی، تعصب اور تشکیک کی تنگ و تاریک گھاٹیوں سے نکل کر عقائد کی درستگی ، نفس کی پاکیزگی، روشن خیالی  اور  فہم و ادراک کے استحکام کی طرف جاتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنے کا حکم کم بیش بیس مرتبہ آیا ہے ۔ بات بالکل سادہ سی (لیکن اہم) ہے کہ اپنی شخصیت کی تعمیر  کے لیے قرآن مجید انتہائی آسان اور بہترین کتاب (Guide)ہے۔یاد رکھیے کہ اس زندگی کے بعد ابدی زندگی میں نجات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آپ میں حق و صداقت کی تلاش کی آرزو کتنی تھی ؟ آپ کو جو کچھ علم تھا، آپ کی شخصیت و کردار پر اس کا کتنا عکس رہا؟ الغرض یہ کہ آپ اپنے پروردگار سے کتنے مخلص ہیں۔

Monday, 2 September 2013

اسلام کیا ہے؟




حافظ محمد شارقؔ

یونٹ 1 : اسلام
اسلام کا لفظ مادہ سلم سے نکلا ہے۔ اس کے لغوی معنی بچنے، محفوظ رہنے، (To save)مصالحت اور امن و سلامتی (Peace)پانے اور فراہم کرنے کے ہیں۔ حدیث نبوی میں اس کے لغوی معنی کے لحاظ سے ارشاد ہے:

المسلم من سلم المسلمون من السانہ ویدہ
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔[1]

اسی مادہ کے بابِ افعال سے لفظ ’ اسلم‘ بنا ہے۔اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید میں بھی یہ الفاظ مختلف صورتوں میں استعمال ہوا ہے،جس کے معنی و مفہوم اطاعت(To submit) اور (To surrender)فرمانبرادی کے ہیں ۔ چنانچہ کی قرآن مجید کی سب سے طویل سورت(باب ) البقرة میں ہے:

ہاں! جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لےے اسکا اجراس کے رب کے پاس ہے ۔[2]

اسی سورة میں چند آ یات بعد فرمانبرداری کے مفہوم کے ساتھ ارشاد ہے:

جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ تو فرمانبردار ہوجا تو اس نے کہا میں فرمانبردار ہوگیا ۔[3]

اس کے علاوہ ایک اور مقام پر ہے:

دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے، کہہ دو نہیں! تم ایمان نہیں لائے ہو۔ ہاں یہ کہوکہ ہم نے اطاعت قبول کرلی ہے، اور ابھی تک ایمان تو تمہارے قلوب میں داخل نہیں ہوا۔[4]

ان آیات مبارکہ کے علاوہ لفظ اسلام کا یہ مادہ قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر استعمال ہوا ہے، تاہم ہر جگہ اس کے معنی و مفہوم خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کے ہی ہیں۔ ان تمام لغوی معنوں اور تشریحات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم اسلام کی ایک جامع تعریف کرنا چاہیں تو یہ کی جاسکتی ہے کہ اسلام سے مراد وہ سلامتی ہے جو خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کے ذریعے حاصل ہو۔

اسلام کے علاوہ مذاہب عالم میں اس وقت جو اہم نام ہمارے سامنے ہیں وہ یہودیت، عیسائیت، ہندومت اور بدھ مت ہیں۔ مورخین اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ یہ سبھی نام خود انسانوں کے وضع کردہ ہیں ۔ لفظ ہندو مت اور یہودیت جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں،بدھ مت اور عیسائیت اپنے رہبر گوتم بدھ اور عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہیں۔ لیکن جب ہم لفظ اسلام کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام نہ ہی جغرافیائی پس منظر پیش کرتا ہے اور نہ کسی شخصیت سے منسوب ہے۔ یہ لفظ کسی انسان یا گروہ کے بجائے خود خدا تعالیٰ نے رکھا ہے، اور یہ نام ہمیں تمام اسلامی منابعات میں عام ملتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں انتہائی واضح انداز میں اس "دین" کا نام اسلام رکھا گیا ہے۔

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ[5]
بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے

وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ[6]
اور  جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج کے دین میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام (بطور ) دین پسند کرلیا۔

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 

(اس یونٹ کے اگلے حصے "برائے مطالعہ" ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

http://truewayofislam.blogspot.com/2013/09/1.html)




[1]صحیح بخاری۔ کتاب الایمان
[2] القرآن مجید ۔ سورة البقرة ۔ آیت 112
[3] القرآن مجید۔ سورة البقرة۔ آیت 131
[4] القرآن مجید۔ سورة الحجرات آیت 41
[5]القرآن مجید ۔ سورۃ ال عمران آیت 19
[6] القرآن مجید۔ سورۃ ال عمران آیت 185

Wednesday, 24 July 2013

پورنوگرافی: مغرب کا ناسور۔

حافظ محمدشارقؔ

آج صبح بی بی سی میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پورنو گرافی(Pornography)بلاک کرنے کااردۂ خیر کیا ہے اور وہ اس حوالے سے ہونے والے معاشرتی نقصانات کے متعلق کافی پریشان ہیں۔انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پورنوگرافی ہمارے بچوں کو برباد کررہی ہے، ہر تیسرا بچہ اپنی عمر کے دسویں برس کو پہنچتے ہی ان ویب سائیٹ کو دیکھنے لگتا ہے۔نیز انھوں نے زنا بالجبر یعنی ریپ کی منظر کشی کرنے والی فلم کو خصوصاً بند کرانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

 ذاتی طور پر میرے لیے یہ خبر کوئی حیرت ناک نہیں ہے، کیونکہ بحیثیت مسلمان میرا ایمان ہے جو بات ہمارے اللہ نے قرآن مجید میں اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی وہ بلا شک و شبہ حق ہے، اگرچہ اس کا احساس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والوں کو بعد میں ہو۔

جہاں تک مغرب میں پورنوگرافی کے فروغ کا تعلق ہے تو اٹھارہویں صدی میں جب وہاں الحاد کا فروغ ہوا تو ساتھ ہی فحاشی کا سیلاب برپا ہوا اور مذہب بیزاری کی وجہ سے اخلاقیات کا جنازہ اٹھا۔جنسی آزادی و اباحیت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔کچھ  ہی عرصے میں باقاعدہ طور پر پورنو گرافی پر مبنی فلم انڈسٹری قائم کردی گئی جس میں فحاشی کوعروج پر پہنچایا گیا۔ اور پھر مغرب کے معاشی نظام  بھی اس اخلاقی گراوٹ میں برابر کا شریکِ کار رہا ، بلکہ میرے نزدیک فحاشی کو سپورٹ کرنے میں سب سے اہم کردار ہی اس نظام نے ادا کیا کیونکہ اسی نظام کا اصرار تھا کہ منافع کے حصول کے لیے حلال و حرام کی کوئی تفریق نہیں اور نہ ہی کوئی اخلاقی و مذہبی پابندی ہونی چاہیے ۔ ہر انسان کو تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کے لیے قطعی آزاد چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے جو طریقہ مناسب سمجھے اختیار کرلے، نتیجتاً زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے زیادہ سے زیادہ برائی پیش کی گئی۔ بیسویں صدی میں انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بدولت پورنوگرافی کی وباء بہت زیادہ پھیلی ، جس کا مشاہدہ آج ہم مشرقی ممالک میں بھی بخوبی کررہے ہیں۔لیکن اس کارجحان مغرب میں روحانیت کے فقدان کے سبب زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہاں پورنوگرافی(Pornography) انڈسٹری کو آزادیٔ رائے اور شخصی آزادی کے اصولوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ان کے نزدیک فحاشی بھی ایک انڈسٹری ہےاور اس میں کام کرنے والوں کی  حیثیت عصمت فروش یا طوائف کی نہیں بلکہ یہ محض ایک فلمی پیشے کی حیثیت رکھتا ہے۔

پورنوگرافی یعنی فحاشی کے بارے میں دین ِ اسلام نے اپنا موقف چودہ سو سال قبل ہی واضح کردیا تھا۔ اسلام نے  معاشرے کو زنا اور جنسی انتشار سے بچانے کے لیے فحاشی کے فروغ پر پابندی لگائی ہے اور معاشرے کو پاکیزہ اور مثبت اقدار پر قائم کرنے کی ہدایت دی۔قرآن مجید میں یہ تعلیمات بہت سے مقامات پر ہیں۔مثلاً

شیطٰن یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء ۔ (البقرۃ268 :)
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔

ولا تقربوا الزني انه كان فاحشة وساء سبيلا (بنی اسرائیل: 32)
اور زنا كے قريب بھى نہ جانا كہ يہ فحاشی  ہے اور بہت برا راستہ ہے۔

فحش برے اور بے حیائی کے کام کو کہتے ہیں بالخصوص یہ لفظ جنسی راہ روی کے لیے خاص استعمال ہوتا ہے۔ آیت میں واضح  طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر وہ كام كہ جوانسان كو زنا كے قريب بھی لے جاتا ہے اس سے بچنا لازم اور واجب ہے۔ قابل غور نکتہ ہے کہ الله تعالى نے ''لا تزنوا'' (ىعنی زنا نہ كرو)نہیں فرمایا؛؛ بلکہ  زنا کے قریب بھی جانے سےمنع فرمایا۔یعنی اس نكتہ كى طرف توجہ دلا ئی کہ ہر وہ عمل جو زنا پر ختم ہوچونكہ وہ بدكارى كى طرف لے جانے والا عمل ہے وہ حرام ہے۔یعنی زنا سے متلق خیالات اور اس کی جانب لے جانے والے اقدامات بھی اس زمرے میں شامل ہیں ۔لہٰذا ان ذرائع کا استعمال بھی حرام ہے جو زنا سے قریب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔یہ بات یہ یقیناً کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پورنو گرافی زنا کا ایک سب سے اہم سبب ہے۔

اول الذکر آیت اس حقیقت کو بالکل صاف انداز میں بیان کرتی ہے کہ شیطان انسان کو فکرِ معاش کے بہانے سے بے حیائی کی تلقین کرتا ہے اور اسے دولت کے خاطر ہر قسم کے برائی کے فروغ کی تلقین کرتا ہے۔جس دور میں مغرب میں جب فحاشی عام ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ہر ایک کو جنسی آزادی اور کاروبار کا حق ہونا چاہیے خواہ  کوعریانیت کا ہی کیوں نہ ہو۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فحاشی کو معاشرے میں بگاڑ کا سبب قرار دیا تھا اور اس حوالے سے معاشی پہلو کو خاص ذکر کیا  تھا ۔لیکن  وادیانِ مغرب اس کے باوجود آیت کا مکمل طور پر مصداق بنی اور نتیجہ  وہی ہوا جو اللہ نے قرآن "ساء سبیلا"کے الفاظ سے بتایا تھا، یعنی زناکے قریب جانا وہ راستہ ہے  جو کہ یقیناً فرد و معاشرےکو برے انجام تک لے جاتی ہے۔قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے  یہ اعداد و شمار دیکھیں۔ایک سروے کے مطابق مغرب میں چھ سال کی عمر میں بچے پورن سائٹ دیکھنے لگ جاتے ہیں، انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جانے والا30فیصد مواد فحاشی پر مبنی ہوتا ہے،[1] تقریباً ہر چالیس منٹ میں ایک فحش فلم بنائی جاتی ہے اور ہر وقت کم از کم  30ہزار افراد یہ مواد دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ "ریپ کرائسز " نامی ایک معبتر ادارے کے اعداد و شمار دیکھیں جس کے مطابق ہر سال تقریباً پچاسی ہزار خواتین برطانیہ اور ویلز میں جنسی زیادتی نشانہ بنتی ہیں، ہر سال تقریباً چار لاکھ خواتین پر جنسی زیادتی کی غرض سے حملہ کیا جاتا ہےاورہرپانچویں عورت سولہ برس کی عمر تک کسی نہ کسی ذریعے جنسی تشدد سے گزر چکی ہوتی ہے۔[2] کیا اس سے بھی بھیانک صورتحال کسی معاشرے میں ہوسکتی ہے؟
یہ حالت صرف مغرب کی نہیں بلکہ کسی نہ کسی سطح پر ہمارے مشرقی اقدار کے دعویدار معاشروں میں بھی یہ وباء اب عام ہوتی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ اور کیبل کی بدولت فحاشی آج ہر گلی محلے تک پہنچ چکی ہے، اور اس پر مزید یہ کہ ہم نے اپنے کمزور ایمان، غیراسلامی نظریات اور بعض حالات کی بنا پر شادی کی بنیادی ضرورت کو نوجوانوں کے لیے ناقابلِ رسائی بنادیا ہے،جبکہ زنا آسان سے آسان تر ہوتا جارہا ہے۔  جس کی وجہ سے نوجوان نسل آج اپنے جنسی جذبات کی تسکین کے لیے دنیا کی نظر سے چھپ کر، انٹرنیٹ کی تاریک گلیوں میں آوارہ پھرتے ہوئے اپنے قلب و نگاہ کو ناپاک کررہی ہے۔اگر ہم نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے شادی کو آسان نہ کیا تو پھر وہ خدا نہ کرے وہ دن دور نہیں جب ہمارے ہاں بھی یہ اباحیت اسی قدر عام ہوگی ۔مغرب نے خدا فراموشی کے سبب جس چیز کو جائز ٹھہرایا تھا آج ہم اپنے نوجوانوں کو اخلاقی کجروی کیاسی راہ پہ ڈال دیا ہے ۔
اللہ کے قانون کے مطابق ابلیسیت کا نظام اپنا فضلہ خارج کررہا ہے   تووہی اہل مغرب جو فحاشی کوآزادی سمجھتے تھے ، اب اسے ایک ناسور ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں اور وہ اخلاقی قدروں کے تحفظ کے لیے فکر مند ہوگئے ہیں، یہ تو صرف ڈیوڈ کیمرون کا اعتراف ہے، ورنہ وہاں کی کئی غیر جانب دار این جی اوزاس حقیقت کا اعتراف برسوں پہلے کرچکی ہیں، آج مغربی مفکرین سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنےاس معاشرتی مسئلے  مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ پورن سائٹس کو بلاک کرنا اگرچہ ایک مستحسن اقدام ہے لیکن فحاشی کے دیگر کاروبار کرنے والوں کو اس برائی کے پھیلانے سے آپ  کہاں تک روکیں گے؟دولت کے حصول کا یہ نشہ اس قدر وحشت ناک ہے کہ انسان نے معاشرے میں پائے جانے والی تمام اخلاقی زنجیروں کو بھی نکال کے پھینک رہا ہے۔ملحدین مذہب کے مقابلے جو اخلاقیات کا تصور پیش کرتے ہیں اس خبر سے اس کی قلعی کھل گئی ہے کہ بے مذہب انسان اخلاقی اقدار کا کس قدر لحاظ رکھتا ہے۔ مذہب کی بیان کردہ اخلاقیات کے بغیر آخر وہ کون سا جذبۂ محرکہ ہوگا جو انھیں بے حیائی کے فروغ سے روک سکے؟
میرے خیال میں جب تک فرد میں برائی کو برائی سمجھنے اور اسے روکنے کا احساس پیدا نہ ہوگا، جب تک اس کے دل میں خدا کے حضور احساس جوابدہی نہ ہوگا اس وقت تک انسداد فحاشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ احساس جوابدہی اور کسی محرک کے بغیر  ساری انسانیت بھی اپنی مژگان  کاوش اٹھا لے تب بھی  ان سب کا نتیجہ وہی حسرت زدہ صدائیں اور احساسات ہوں گے  جس کا اظہار آج  مسٹر کیمرون نے کیا ہے۔
حافظ محمدشارقؔ
hmshariq@gmail.com
hmshariq@islamic-studies.info

Thursday, 18 October 2012

تقابل ادیان


تقابل ادیان کیوں؟؟؟
سوال
کیا ہم اپنے دین کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں ، پوری طرح سے اس کی تعلیمات ، اس کے مسائل اور سب سے اہم قرآن و حدیث جان چکے ہیں؟ ہم ابھی تک ان کو ہی صحیح طرح نہیں سمجھے ، ان پر پورا عمل نہیں کیا تو یہ تقابل ادیان کی ضرورت کیوں کر پیش آئی؟ اپنا دین سمجھا نہیں دوسرے میں گھُس چلے ہیں ہم۔  ہم دوسرے کے مذہب کو اہمیت ہی کیوں دیں جب کہ اپنا اسلام ہمارے لیے کافی ہے؟ کیا صوفیاء بھی تقابل ادیان میں کام کرتے تھے؟
)محمد بلال عطاری۔ کراچی(

جواب: السلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ! ہر انسان کے لیے دعوت و تبلیغ کا ایک علاحدہ میدان ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے ہر داعی مفتی ہو، یا ہر مفتی محدث ہو۔ بنیادی تعلیم کے بعد جس کا جو میدان ہوتا ہے وہ وہیں کام کرتا ہے۔ اسی طرح دعوت و تبلیغ کے لیے تقابل ادیان بھی ایک اہم ذریعہ ہے، اسلامی تاریخ میں تقابل ادیان کوئی نیا موضوع نہیں ہے،
تقابل ادیان کے میدان میں اگر کوئی اسلام کے بنیادی علوم سیکھے بغیر آئے گا بلا شبہ یہ غلط ہے۔ دین کے بنیادی علوم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ تقابل ادیان کے طالب علم کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک عام مسلمان کو بھی اسلام کے بنیادی علوم مثلاً مڈل سطح کی عربی قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جاسکے، فقہ جس سے ہماری عبادات اور حلال و حرام کا علم ہوجائے ، ایمانیات کے چھ بنیادی اصول پر بلا تاویل یقین ہو اور اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے ، اسلام کی روح کیا ہے، اسے سمجھنا ‘ یہ بنیادی علم ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی مسلمان علیحدہ میدان منتخب کرتا ہے تواس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ایک مسلمان ان علوم کو حاصل کرلینے کے بعد ڈاکٹر بنے یا انجینیر، دعوت و تبلیغ کے لیے وہ ہر طرح سے کام کرسکتا ہے ۔پھر جو لوگ دین کی دعوت دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں ، اور علوم اسلامیہ میں اسپیشلائز کرتے ہیں ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ دیگر مذاہب سے بھی اچھی طرح واقف ہوں تاکہ وہ ان مذاہب کے لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کر سکیں۔
سنن درامی کی ایک حدیث ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار تورات کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا ‘ بعض حضرات اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ تقابل ادیان پڑھنا غلط ہے۔ اول تو یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ محدثین کی نظر سے یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس کا ایک راوی جابر الجعفی متہم بالکذب ہے جس کے بعد اس روایت پر استدلال درست نہیں رہتا۔ البتہ اگر یہ حدیث کسی طور پر اپنے مفہوم کے اعتبار سے بھی صحیح ثابت ہوجائے تو بھی حدیث پر معمولی سا غور واضح کردیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تورات کی تلاوت اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے متعلق منع فرمایا کیونکہ خود اس حدیث کے آخری حصے میں یہ صراحت ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام دوبارہ آجائیں تو وہ بھی اپنی شریعت تورات کے بجائے قرآن پر عمل کریں گے۔ لہٰذا بات بالکل واضح ہے کہ اس ممانعت میں پیش نظر تورات کو بحیثیت کتاب ہدایت پڑھنا تھا ۔ تقابل ادیان کے بغیر غیر مسلمین کے سامنے یہ بات واضح کرنا ممکن نہیں ہے کہ ان کے دین اور ہمارے دین میں آخر فرق کہاں اور کیا واقع ہے، کیوں اسلام کو دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل ہے اورکن امور پر ان کی کتب مقدسہ اور اسلام متفق ہیں۔
دعوت و تبلیغ کے لیے تو تقابل ادیان کے شعبے کو وجود قرآن مجید اور احادیث سے ملتا ہے۔ چند مثالیں دیکھیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ان سے توحید کے مشترکہ عقیدے پر بات کی جانے چاہیے۔اللہ فرماتے ہیں ”آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ جو کہ ہم تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ ہی اللہ تعالی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ “(سورہ آل عمران آیت ۴۶)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اہل کتاب سے مشترکہ نکات پر اتحاد کیا جائے اور ان سے بات کی جائے۔ یہ مشترکہ نکات کیا ہیں؟ اس کی وضاحت خود اس آیت میں توحیدہے۔اس حکم کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اہل کتاب کے مشترکہ امور معلوم کیے بغیر کس طرح ان سے بات کی جائے؟ معلوم کرنے کے دوع ہی ذرائع ہوں گے یا تو ان مذاہب کے ماننے والوں کی موجودہ صورت دیکھی جائے یا ان کی کتب مقدسہ کا مطالعہ کیا جائے۔ اگر ہم اہل کتاب کی موجودہ حالت دیکھیں تو یہی معلوم ہوگا کہ موجودہ عیسائیت میں توحید کا کوئی واضح عقیدہ موجود ہی نہیں ہے۔ لہٰذا تثلیث کے شرکیہ عقیدے کے ہوتے ہوئے یہ مشترکہ امور عیسائیوں کو دیکھ کر ہرگز معلوم نہیں کیے سکتے۔ یہ عقائد بلاشبہ ان کی کتب مقدسہ کے خلاف ہیں۔ یہ مشترکہ امور یقیناً ان کے دین اور ان کی کتابوں کے مطالعے سے ہی معلوم ہوں گے تاکہ ان سے بات کی جاسکے۔
قرآن مجید کا یہ دعویٰ ہے کہ توریت و انجیل محرف کتابیں ہیں ، یہ ہمارا مجمل ایمان ہے لیکن اس کی تفصیل اور یہ دعویٰ اسی وقت ثابت ہوگا جب ہمیں ان کتابوں کی تاریخی حیثیت کا علم ہو۔

دعوت و تبلیغ کے لیے اس کی اہمیت کا انکار کسی بھی طرح نہیں کیا سکتا۔ چنانچہ ہم دور نبوت میں دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خاص یہود کی زبان عبرانی سیکھنے کا حکم دیا تاکہ یہود کی دستاویزات پڑھ سکیں۔ بعد میں بہت سے صحابہ و تابعین نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور کعب الاحبار سے یہود کی روایات کا علم حاصل کیا۔حضرت شاہ ولی اللہ نے اصول تفسیر کی کتاب الفوز الکبیر میں قرآن مجید کے جو موضوعات گنوائے ہیں، تقابل ادیان بھی انھی میں سے ایک شاخ ہے۔امام غزالی، شیخ عبد القادر جیلانی غوث صمدانی نے بھی اپنی کتب میں فرقہ باطلہ کا رد کیا ہے، چنانچہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انھوں نے اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اہمیت دی ہے۔ کیونکہ یہ کام ہمارے صوفیاء، علماء اور سب سے بڑھ کر خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ امام رازی، ابو منصور عبد القاہر، امام غزالی،ابوالہذیل، ابو اسحاق ابراہیم بن سیار نظام، ہشام بن الحکم، ابن حزم، علامہ محمد عبد الکریم شہرستانی، ابن تیمہ، یعقوب کندی، جاحظ وغیرہ کے نام آشنا ہر شخص جانتا ہے۔ جدید مثالوں میں آپ شاہ ولی اللہ، حضرت مجدد الف ثاثی، شیخ احمد دیدات، پیر کرم علی شاہ ازہری، مولانا ثنااللہ امرتسری، مولانا قاسم نانوتوی، اور دیگر علما ہیں اور آپ جانتے ہوں گے کہ ان میں کون کون صوفیاء ہیں۔
 ان سب کے پیش نظر بلا شبہ یہ کہنا صحیح ہے کہ اپنے دین کی بنیادی تعلیم حاصل ہوجانے کے بعد بلا تردد کسی بھی مذہب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ۔بشرطیکہ کہ کسی استاد کی رہنمائی میں ہو، تاکہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔
والسلام
حافظ محمد شارقؔ 


Wednesday, 13 June 2012

حیوانات اور صفائی

حیوانات اور صفائی
حافط محمد شارق, 
صرف انسان ہی نہیں، بلکہ جانوروں میں بھی صاف ۔ صفائی کی عادتیں ہوتی ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد ماحول اور کھانے پینے میں صفائی پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ جانوروں کی زندگی میں معمولی سا جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہوگا یہ انسانوں کو سکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنی صاف صفائی کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ یہ ہمارے صحت کے لئے بہت ضروری ہے اور اپنے کھانے پینے اور ارد گرد کے ماحول کی صفائی کی وجہ سے ہم کئی طرح کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ دنیا میں ایسے کئی جانور ہیں، جن کی صاف صفائی کی عادتیں اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ ہم انسان بھی ان سے یہ باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ہم چھوٹے تھے تو ہماری اوہمارے آس پاس کی صاف صفائی کا خیال رکھنے کے لئے ہمارے ماں باپ ہوتے ہیں، لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ان جانوروں کا ایسا کون ہوتا ہوگا؟ دراصل، یہ خود ہی اپنی صاف صفائی کرتے ہیں۔ چلیں اب کچھ جانوروں میں صاف صفائی کی اچھی عادتوں کو دیکھتے ہیں۔

بلی:
بلیاں اپنے جسم کی صفائی کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ اپنی فطرت کے مطابق وہ خود کو چاٹ کر صاف رکھتی ہیں۔ ساتھ ہی بلیوں کی کھانے کی عادتیں بھی بہت اچھی ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بلی بہت طریقے سے کھانا کھاتی ہے۔ یعنی ان کا کھانا یہاں وہاں نہیں گرتا۔ دوسرا، کھانا کھاتے وقت بلی کوئی آواز نہیں کرتی۔
بندر:
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بندر ایک دوسرے کے جسم پر جمی گندگی کو صاف کرتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی بندر میں کئی خصوصیات انسانوں والے ہوتے ہیں۔ جیسے پھل کو چھیل کرکھانے کی عادت۔
کتا:
کتے اپنے اٹھنے، بیٹھنے اور سونے کی جگہ کو ہمیشہ صاف رکھتے ہیں۔ کتے کہیں بھی بیٹھنے سے پہلے اپنی پونچھ سے اس جگہ کو صاف کرتی ہیں، پھر بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ نے کہیں پالتو کتا دیکھا ہو تو ضرور نوٹس کیا ہوگا کہ وہ ہمیشہ صاف جگہ پر ہی بیٹھنا پسند کرتا ہے اور پونچھ سے بیٹھنے کی جگہ کو صاف کرتا ہے۔
رکون:
رکون اپنا کھانا ہمیشہ دھو کر کھاتا ہے۔ یہ بات مطالعے سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ رکون اپنا کھانا پہلے پانی سے دھوتا ہے، پھر اسے کھاتا ہے۔ کھانے سے گندگی کو ہٹا کر کھانا ایک اچھی عادت ہے۔
ہاتھی:
خشکی کے سب سے بڑے جانور ہاتھی بھی اپنی برادری یعنی دوسرے جانوروں کی طرح صاف صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ انہیں نہانا بہت پسند ہوتا ہے۔ ہاتھی روزانہ خود ہی نہانا پسند کرتے ہیں۔ اپنی سوڈ میں پانی بھر کر اپنے جسم پر گراتے ہیں۔ اس سے ان کی گرمی بھی کم ہوتی ہے اور ساتھ ہی ان کی صفائی بھی ہو جاتی ہے۔

Wednesday, 6 June 2012

اصل قوت


پلوٹارک ایک یونانی مصنف ہے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا ہم عصر تھا۔ اس   (Bioi Paralleloi) نے یونانی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا نام 
ہے ، اس کا اصل نسخہ بھی اپنی زبان میں اب تک موجود ہے، اسکا سب سے پہلا   ( Parallel Lives )ترجمہ انگریزی زبان میں ۱۵۷۹ میں 
 کے نام سے شائع ہوا۔ اس کتاب میں یونانی اور رومی ہیرؤوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کی وجہ سے یونانیوں کو ایک زمانہ میں تمام دنیا میں سب سے اونچا مقام ملا۔

اسی کتاب میں ایک رومی جنرل کا واقعہ ہے کہ وہ ایک ملک میں فتوحات کرتے ہوئے اس قلعے تک پہنچا، یہ قلعہ بہت بڑا تھا اور اس میں ضرورت کا تمام سامان موجود تھا۔ چنانچہ وہ لوگ قلعہ کا پھاٹک بند کرکے بیٹھ گئے۔ رومی جنرل کی فوج قلعہ کے باہر گھیرا ڈالے ہوئے تھی لیکن باوجود کوششوں کے اب تک اس قلعے کو فتح نہیں کرپائی تھی۔
قلعے کے اندر ایک اسکول واقعے تھا جس میں بڑے بڑے سرداروں کے لڑکے پڑھتے تھے۔ اسکول کے استاد کے ذہن میں یہ لالچ آئی کہ اس نازک موقع پر اگر میں رومی فوج کی مدد کروں تو قلعہ فتح کرکے وہ مجھ سے بہت خوش ہونگے اور انعامات سے نوازینگے۔ چنانچہ اس نے خاموشی کے ساتھ ایک روز بچوں کو ساتھ لیا اور ان کو پھراتے ہوئے قلعہ کے پوشیدہ راستے پر لے گیا اور اس راستے سے گزر کر بچوں سمیت باہر آگیا اور رومی جنرل سے ملا۔ اس نے کہا کہ یہ بڑے بڑے سرداروں کے بچے ہیں ان کو آپ بندھک بنا کر رکھ لیں اور قلعہ والوں پر دباؤ ڈال کر اپنی شرائط منوا لیں۔
رومی جنرل یہ سب سن کر خوش ہونے کے بجائے نہایت برہم ہوا اور اس استاد کو ڈانٹے ہوئے کہا کہ طریقہ یہ نہیں ہے کہ ہم کمینہ پن کے ساتھ قلعہ کو فتح کریں، ہم جو کچھ کریں گے بہادری کے ساتھ کرینگے، تم فوراً ان بچوں کو واپس لے جاؤ اور ہمیں قلعے کا خفیہ راستہ بھی نہ بتاؤ۔ استاد بچوں کو لیکر قلعے میں واپس آگیا اور اہل قلعہ کو پوری کہانی سنائی، یہ بات سن کر اہل قلعہ بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ ہمیں ایسے شریف لوگوں سے جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے خود اپنی طرف سے قلعہ کے دروازے کھول دیے۔
اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ نادان انسان تشدد ، ہتھیار اور ظاہری اسباب کو چاہے کتنی ہی اہمیت دیدے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شرافت اور بلند اخلاق ہی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

Tuesday, 5 June 2012

کامیابی کیسے؟


کامیابی کیسے؟
(نوٹ: یہ مضمون مذہبی تناظر میں نہیں لکھا گیا ہے )
حافظ محمد شارق

اپنی صلاحیت پہچانیں:

کامیاب ہونے کے لیے ایک اہم امر اپنی صلاحیت کو پہچاننا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے جسے تلاش کرنا آپ کا کام ہے ۔اگر آپ کو معلوم ہی نہ ہو کہ آپ میں کس کام کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے تو آپ کی کامیابی کے مواقع بہت کم ہوں گے ۔ اپنی صلاحیت کو پہچاننے کے لیے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔ 
کچھ دیر کے لئے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ذہن کو آزاد چھوڑ کر یہ غور کریں کہ آپ اپنی زندگی کو کس طرح کی دیکھنا چاہتے ہیں اور پانچ سالوں کے اندر ایسے کیسا ہو نا چاہئے۔ اس سلسلے میں جن وضاحتوں کی ضرورت ہے اسے ذہن میں رکھیں۔
آپ کس ماحول میں رہتے ہیں اور آپ کے معاشرے میں کس چیز کی ضرورت زیادہ ہے؟
آپ کس طرح کا کام کرنا پسند کرتے ہیں ؟
جب آپ کسی کام میں مشغول نہیں ہوتے تو پھر آپ کیا کرتے ہیں ؟
آخری نکتہ آپ کی صلاحیت تلاش کرنے میںاہم ہے۔ تاہم یہ یاد رکھیں کہ یہ کام ایک دن کا نہیں بلکہ کچھ ہفتوں تک اپنا ذاتی مشاہدہ کریں اور اس بات پر بھی نگاہ رکھیں کہ آپ کی طبیعت کا رجحان یا میلان کس جانب ہے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ آپ سے اچھی طرح واقف ہیں ان لوگوں سے بھی دریافت کیجیے۔ تاکہ یہ بات سامنے آئے کہ ان پر آپ کا کیا اثر ہے۔یا انہوں نے آپ کے متعلق کیا تاثر قائم کیا ہے۔ اس طرح چند دن میں آپ کے سامنے ایک نکات کی ایک فہرست ہوگی جسے دیکھ کر آپکواپنی ذات میں چھپی ہوئی صلاحیت کا اندازہ ہوجائے گا۔

ہدف کا تعین:

کامیابی کی تعریف ہر شخص کے حساب سے الگ ہوتی ہے۔ اب اگر آپ کو اپنی کامیابی کو مقرر کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنا ہدف متعین کرنا ہوگا۔ جب تک آپ کا ہدف مقرر نہ ہو جائے اس وقت تک کسی بھی شخص کی راہ بغیر پتوار کی کشتی کی طرح ہوتی ہے۔ ہدف کا تعین کرنے کے لیے سب سے ضروری ہے کی آپ کا رجحان کیا ہے؟ آپ کس علاقے میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں؟ اگر یہ طے ہو گیا تو اپنے مقصد کے لیے صحیح اور مثبت رہنمائی تلاش کرو جو آپ کو صحیح سمت میں آپ کی منزل تک پہنچنے کا راستہ بتا سکے۔
ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے نزدیک آخر کامیابی کس چڑیا کا نام ہے؟یاد رکھیںکامیابی کی تعریف ہر شخص کے حساب سے الگ ہوتی ہے۔ اب اگر آپ کو اپنی کامیابی کو مقرر کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنا ہدف متعین کرنا ہوگا۔ جب تک آپ کا ہدف مقرر نہ ہو جائے اس وقت تک کسی بھی شخص کی راہ بغیر پتوار کی کشتی کی طرح ہوتی ہے۔ ہدف کا تعین کرنے کے لیے سب سے ضروری ہے کی آپ کا رجحان کیا ہے؟ آپ کس علاقے میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں؟ اگر یہ طے ہو گیا تو اپنے مقصد کے لیے صحیح اور مثبت رہنمائی تلاش کریں جو آپ کو صحیح سمت میں آپ کی منزل  تک پہنچنے کا راستہ بتا سکے۔ اس سلسلے میں یہ تحریر آپ کے لیے انتہائی مفید ہوگی۔  بامقصد زندگی

 منصوبہ بندی:

آپ کسی سفر پر نکلے، لیکن آپ کو رستہ معلوم نہیں، تو کیا آپ امید رکھ سکتے ہیں کہ آپ منزل کو پہنچ پائیں گے؟ ہر گز نہیں۔ عملی زندگی میں بھی وہی لوگ کامیاب ہوتے جن کے پاس اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک باقاعدہ پلان ہوتا ہے۔اموت برحق ہے جو اپنے وقت پر سب کو آنی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ مسقبل کی منصوبہ بندی چھوڑ دیں۔بلکہ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کس طرح سے اپنی منزل کو پہنچ سکتے ہیں۔
محنت:
کامیابی حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت محنت ہے۔ اگر آپ محنتی ہیں، محنت کرسکتے ہیں تو پھر آج نہیں تو کل آپ کامیاب ہی ہیں، لیکن اگر آپ محنت نہیںتوپھر یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ آپ کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ محنت ہی کامیابی کی سیڑھی ہے. یہاں ہنری فورڈ کے اس قول کو ذہن نشین کرلینا بہتر رہے گا -'' آپ جتنی محنت کریں گے، قسمت آپ پر اتنا ہی مہربان ہوگی۔

خود اعتمادی:

محنت کے بعد جو دوسری سب سے ضروری چیز ہے، وہ ہے خود اعتمادی۔ کامیابی کا حصول ہو یا کسی بھی مسئلہ کے حل : یاد رکھیں، کسی بھی خوف سے نمٹنے کے لیے خود اعتمادی بہت ہی ضروری ہے۔اگر آپ میں خود اعتمادی نہیں تو گھبرائیں مت، کیونکہ خود اعتمادی کبھی راتوں رات نہیں آتی۔ نہ تو یہ فوری طور پر بڑھتی ہے اور نہ ہی فوری طور پر کم ہوتی ہے۔ اس کا سارا دار و مدار محنت پر ہوتا ہے ۔ کوئی بھی شخص زندگی میں جیسے جیسے محنت کرتا ہے ویسے ویسے اس کا اعتماد بھی بڑھتا جاتا ہے۔
بہترین مواقع کی تلاش:
کئی ایسے لوگ ہیں جن قسمت میں کامیابی دستک دیتی ہے لیکن وہ اسے پہچان نہیں پاتے۔ ہم میں سے اکثرو بیشتر لوگ آنے والے موقع کا ادراک نہیں کرتے اور جب موقع ہاتھ سے چھٹنے لگتا ہے تو اس کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اس لیے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا انتہائی ضروری ہے۔

غلطیوں سے سبق:

یاد رکھیں، ہم ایک انسان ہے جو خطا کا پتلا ہے لہٰذا ہم سے کوئی غلطی ہونا عجیب بات نہیں۔غلطیاں سب سے ہوتی ہےں لیکن وہ اس قدر سنگین نہیں ہوتی جتنا کہ اس کا احساس ہونے کے بعد اسے دہرانا ہے۔ جو سمجھدار ہوتے ہیں وہ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں نہ کہ پچھتاوے میں وقت کا ضیاع۔ اور غلطی صرف اپنی ہی نہیں بلکہ جو عقلمند ہوتے ہیں وہ دسرو کی غلطیوں سے بھی سے بھی سیکھتے ہیں۔