Showing posts with label حافظ محمد شارق. Show all posts
Showing posts with label حافظ محمد شارق. Show all posts

Thursday, 17 October 2013

سوک سینس ۔۔۔ ہمارے معاشرتی حقوق و فرائض

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔
حافظ محمد شارق


سوک سینس ۔۔۔ ہمارے معاشرتی  حقوق و فرائض
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس معاشرے کے کچھ حقوق ہیں جو ہم پر لازم ہوتے ہیں۔ یہی حقوق ہمارے فرائض ہیں۔ اسی طرح دوسرے شہریوں پر جو فرائض ہیں، وہ ہمارے حقوق ہیں۔ جدید معاشروں میں اپنے حقوق لینے پر تو بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور اس کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں لیکن دوسروں کے حقوق دینے یعنی اپنے فرائض انجام دینے پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اسلام میں یہ ترتیب الٹ ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض پہلے انجام دے، پھر اپنے حقوق کا مطالبہ کرے۔ اگر ہم دوسرے شہریوں کے حقوق پر توجہ دیں گے تو ہمیں اپنے حقوق خود بخود حاصل ہو جائیں گے۔  ہم پر دوسرے شہریوں کے یہ حقوق عائد ہوتے ہیں:
·      ضرورت مندوں کا خیال
·      وسائل کا مناسب استعمال
·      دوسروں کی جان کی حفاظت
·      دوسروں کو تنگ کرنے سے  متعلق حقوق
·      آزادانہ نقل و حرکت کا حق
·      مذہبی آزادی
·      اظہار رائے کی آزادی
·      تعلیم کا حق
·      خاندان سے متعلق حقوق
·      سیاسی حقوق
·      تنقید اور احتجاج کا حق
·      ذریعہ معاش کا حق
اب ہم ایک ایک کر کے ان کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ کچھ حقوق کی تفصیلات اس تحریر میں ہوں گی اور بقیہ کی اس تحریر کے اگلے حصوں میں۔

ضرورت مندوں کا خیال

ہمارے ہاں ایک عمومی طور یہ خیال پایا جاتا ہے کہ نیک اور بہترین انسان بلکہ اللہ کا ولی صرف وہی ہوتا ہے جو عبادات میں مشغول رہتا ہو اور مذہب  کی تبلیغ کرتا ہو۔ یقینایہ اعمال اچھے ہیں ان کی ایک خاص اہمیت دین میں ہے لیکن سارا کا سارا دین یا نیکی اسی کو سمجھ لینا ایک سنگین غلطی ہے۔اسلام ہماری زندگی کو صرف نماز، روزہ ، حج ،زکوٰة  اور دعوت و تبلیغ پر ہی محدود نہیں سمجھتا بلکہ یہ ہمیں اُس راستے پر گامزن ہونے کی ہدایت دیتا ہے جس پر انسانیت کے سب سے عظیم محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کا مکمل راستہ یہی ہے کہ انہوں نے صرف نماز و روزہ کی تلقین نہیں کی بلکہ حقوق انسانی کے متعلق سب سے بڑھ کر کام کیا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تلقین کی۔
اسلام میں نیکی کا جو جامع تصور پیش کیا گیا ہے اس میں سوشل سروس ایک لازمی حصہ ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ.
نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والے [حقیقی ضرورت مندوں]، اور غلاموں کی آزادی پر میں خرچ کرے۔  یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت  اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی  ہیں۔(البقرۃ2:177)
قرآن نے نہ صرف سوشل سروس کی تلقین کی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ایمان باللہ اور آخرت کے تصور سے اس میں اخلاص بھی پیدا کردیا کہ جو بھی کام ہو صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو نہ کہ دنیاوی دکھلاوے کے لیے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اسلام میں نیکی کے جامع تصور کو بالکل کھول کر بیان کردیتی ہے کہ تمام مخلوق کی بلا امتیاز بقدر طاقت و استطاعت خدمت کرنا اور انہیں نفع پہنچانا اس کا بڑا مقصد اور اسلامی اخلاق ایک اہم ترین منشا ہے۔اس آیت میں صرف عبادات کو نیکی سمجھ لینے کے خیال کی واضح طور پر تردید بھی کی گئی ہے اور صرف سماجی خدمات کو نیکی سمجھنے کی بھی۔ قرآن  مجید کے بعد اگر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں بھی اسے دین کا ایک لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر واجب ہے کہ وہ اس پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کرے اور اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑے، نہ اسے حقیر جانے اور نہ اس کے ساتھ حقارت کا برتاؤ کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔ آدمی کو بُرا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت سے پیش آئے ، مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے، اس کا خون  بھی، اس کا بھی اور  اس کی عزت و آبرو بھی۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دے کران کے باہم کچھ معاشرتی حقوق مقرر کیے ہیں۔ سب سے پہلا حق ظلم وزیادتی نہ کرنا ہے، اس بارے میں ہم تفصیل سے سابقہ اوراق میں پڑھ آئے ہیں کہ یہ  ظلم و زیادتی جسمانی، مالی ، زبانی ، نفسیاتی یا کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔دوسرا حق جو بیان کیا گیا ہے وہی ہمارا موضوعِ سخن ہے۔ یعنی جب کسی مسلمان کو مدد کی ضرورت ہو تو دوسرے مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑے اور اسے غربت یا کسی اور کمزوری کی بناء پر حقیر نہ سمجھے۔ اس عمل کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم نیکی قرار دیا ہے۔
جو شخص جتنی دیر اپنے بھائی کے کام بنانے اور حاجت پوری کرنے میں لگا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے کام بناتے رہیں گے اور اس کی حاجت پوری کرتے رہیں گے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب المظالم والغضب)
اگر کسی نے کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کردیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت اور پریشانی دور فرمائیں گے۔ (صحیح بخاری۔  کتاب المظالم والغضب)
اس طرح متعدد احادیث ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھ اور مصیبت میں مبتلاء انسانیت کے لیے بھلائی کے کام کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ان احادیث کا تعلق تمام انسانوں سے ہے، صرف مسلمانوں سے نہیں۔ یہاں پر لفظ ’’مسلم‘‘ اس لیے آیا ہے کہ سننے والوں کے دل میں جذبہ پیدا کیا جائے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مدد صرف مسلمانوں کی کی جائے اور غیر مسلموں کی نہ کی جائے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کہا جائے کہ ’’اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کیجیے۔‘‘ اس جملے  میں لفظ ’’پڑوسی‘‘ کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب کے دل میں جذبہ پیدا کیا جائے کہ وہ حقوق ادا کرے۔  اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ جو پڑوسی نہ ہو، اس  کے حقوق ادا نہ کیجیے۔ اسلام نے سوشل ورک کا حکم تمام انسانیت کے لیے دیا ہے۔ چنانچہ ہمیں احادیث میں ملتا ہے کہ  جن دنوں اہل مکہ، اسلام کے خلاف شدید مزاحمت کر رہے تھے، انہی دنوں مکہ میں قحط پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں خوراک کے کئی اونٹ بھیجے ۔
اسلامی تاریخ اور سیرت النبی کا ہر ایک باب بھی اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح شب و روز سماج کی خدمت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعثت سے قبل بھی سماجی کام میں مشغول ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ اس کی شہادت اس طرح ملتی ہے کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے کہا کہ ’’آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ‘کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں،مہمانوں کی میزبانی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘  (بخاری۔ کتاب بدء الوحی)
آج کوئی سماجی ادارہ خواتین کے لیے کام کرتا ہے، کوئی بچوں کے لیے کام کرتا ہے، کوئی تعلیم کے لیے کوئی صحت کے لیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط تھی۔ بادی النظر سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے کہ  پیغمبر اسلام حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سب سے عظیم سماجی کارکن تھے۔ تاریخ انسانی کے اس سب سے بڑھ کر سماجی کام کیا ہوگا کہ عرب میں زندہ بچیوں کو دفنادیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظالمانہ رسم کے خلاف جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔  خواتین حقوق سے محروم تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہر قسم کے حقوق دلائے۔غلام طبقہ پِس رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے  آزادی کی بہت سی راہیں (حکم خداوندی کے تحت) نکالیں اور انہیں وہ مقام عطا کیا کہ جس کے نتیجے میں ایک سیاہ غلام بھی قیادت کا اہل قرار پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی میں سماجی خدمات کی اور بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ایسے کام شروع کریں جس سے معاشرے کی بھلائی ہو۔ یہ کام غرباء و مساکین کی مدد کرنا  اور  عوام میں کسی مسئلے پر شعور بیدار کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ کسی کی مالی مدد کرنے کے متعلق مندرجہ ذیل اہم باتوں کا خیال ضرور رکھنا چاہیے۔
        پیشہ ور بھکاریوں کو پیسے دے کر ان کی حوصلہ افزائی ہرگز نہ کریں یہ آپ کے لیے ہی گناہ ہوگا۔ایسے لوگ دراصل خدا کا نام لےکر آپ کا استحصال کرتےہیں اور ضرورت مندوں کا حق مار جاتے ہیں۔
        ایسے افراد کو دیں جو ضرورت مند ہوں لیکن عزت نفس اور خود داری کی وجہ سے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں۔
        زکوۃ و خیرات دیتے ہوئے اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کو مت بھولیے، آپ کی زکوۃ و خیرات کے سب سے پہلے مستحق وہی ہیں۔
        مالی مدد میں غیر مستقل امداد کے بجائے ان کے لیے روزگار کا انتظام کیجیے۔ مچھلی کھلانے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھائیے۔
اگلی تحریر میں ہم اسی موضوع کو جاری رکھیں گے اور انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات کے حقوق پر بات کریں گے۔
(حافظ محمد شارق،truewayofislam.blogspot.com)
سوک سینس کے موضوع پر یہ دوسری تحریر تھی۔ اس سلسلے کی مزید تحریروں کے مطالعے کے لیے وزٹ کیجیے:
غور فرمائیے!
·      ہم پر دیگر شہریوں کے کون کون سے حقوق عائد ہوتے ہیں؟
·      کیا آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں؟
·      کہیں آپ اپنا پیسہ پیشہ ور بھکاریوں پر ضائع تو نہیں کرتے؟

Monday, 23 September 2013

پورن موویز کی عادت سے نجات



سوال
السلام علیکم سر! ۔ میں تقریباً دو سالوں سے پورن موویز دیکھے کی  بری عادت میں مبتلاء ہوں،  میرا گزرا ہوا وقت بہت برا تھا، اب میں نےاس وقت سے توبہ کرلی ہے ، لیکن چاہتے ہوئے بھی میں یہ گندی عادت نہیں چھوڑ  پارہا جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔ایک دوست نے بتایا کہ آپ کچھ مدد کر سکتے ہیں، اگر آپ کچھ مشورہ دے سکیں تو بہت مہربانی ہو گی ۔
(ایک بھائی) ستمبر 2013


جواب


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


محترم بھائی۔آپ کی ای میل پڑھ کر مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اللہ کی طرف رجوع کیا ہے، اور اب آپ چاہتےہیں کہ آپ مکمل طور پر دین پر عمل کرتے ہوئے فواحشات سے بچیں۔ آپ کا جذبہ واقعی قابل قدر ہے، اگر یہی جذبہ قائم رہے تو پھر آپ ہر بڑی برائی سے بچ سکتے ہیں باقی اللہ غفور و رحیم ہے۔

آپ نے جس مسئلے کا ذکر کیا ہے، وہ معاملہ نہایت ہی سنجیدہ اور اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ ناسور ہے جو مغرب کے علاوہ آج ہمارے نام مذہبی اور مشرقی سماج میں بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اسی بلاگ پر برطانوی وزیر ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا جس میں واضح کیا تھا کہ یہ وبا ء مغرب میں  عام ہونے کے بعد اب وہاں انتہائی وحشت ناک مسائل پیدا ہورہے ہیں، جنسی اور ذہنی امراض، طلاق، زنا اور فواحش کی بے لگام رجحان وہاں پہنچ چکا ہے، اور اگر ہم نے اس ضمن میں کچھ عملی اقدام نہ کیے توہماری صورت حال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی، کچھ اثرات تو ہم اب بھی دیکھ ہی رہے ہیں، اسے 100 سے ضرب کرکے سوچ لیجیے کیا ہوسکتا ہے۔بہرحال پورنو گرافی (Pornography) کیا ہوتی ہے، یہ آج ہم میں سے اکثر لوگ جانتے ہی ہیں، اس لیےاس کے تعارف و تاریخ کے بجائے میں بلا تمہید آپ کے اصل مسئلے کی طرف آنا چاہوں گا کہ پورنو گرافی کی عادت سے کس طرح نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ سب سے پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ

ایک بار پختہ یقین کرلینے کے پورنوگرافی سے بچنا کوئی مشکل کام نہیں۔ آج اگر آپ یہ یقین کرتے ہیں کہ "پورن" آپ کی جسمانی و ذہنی صحت ، دین اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے ، تو آپ ابھی سے ہی اس سے بچ سکتے ہیں۔

پورن گرافی سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقے اپنا سکتے ہیں۔
  •      اس بات پر غور کیجیے کہ وہ کیا مواقع ہوتے ہیں جن کی وجہ سے آپ کے دل میں "پورنو گرافی" کا نشہ کرنے کی خواہش جاگ جاتی ہے۔ (ورڈ /کاغذپر) ان کی ایک فہرست بنا لیں اور پھر  ان وجوہات سے ، جو آپ نے تلاش کیں، سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ اس لسٹ میں وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق اضافہ یا کمی بھی کرتے رہیں، ساتھ ہی اپنا احتساب جاری رکھیں۔یاد رکھیے شیطان ہر حربے سے آپ کو واپس پورن کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔
  •       آپ اپنا مشاہدہ کریں کہ آپ کس وقت "پورنو گرافی" کا نشہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔زیادہ تر افراد یہ نشہ رات کی تنہائی میں پورا کرتے ہیں۔ لہٰذا  ان اوقات میں کمپیوٹر سے خود کو دور رکھیں۔
  •       کوشش کریں کہ کمپیوٹر کو ایسے کمرے میں یا ایسی جگہ رکھیں جہاں سب لوگ موجود ہوں یا آنا جانا ہو، مثلاً ڈرائنگ روم یا ٹی وی لاؤنج۔ تاہم اگر یہ ممکن نہ ہوتو مانیٹر کا رُخ ایسی جانب رکھیں کہ جس طرف سے کسی کے آنے کا اندیشہ آپ کو زیادہ ہوں، اس طرح سے آپ نفس کو روک سکتے ہیں۔کوشش کریں کہ کمرے کا دروازہ کھلا رکھیں۔
  •       ایک مسئلہ جو مجھےاکثر بھائیوں نے  بتایا وہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر کام کرتے ہوئے ، بعض اوقات نامعلوم لنکس پورن سائٹس تک لے جاتے ہیں، اور دوبارہ بے اعتدالی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے نفس پر قابو رکھنا اور مشکل ہوجاتا ہے۔
  • o    اپنے ڈی ایس ایل موڈیم میں پورن کو بلاک کروا دیں۔یہ کام آپ خود نہ کریںبلکہ بہتر ہو گا کہ کسی دوست یا کمپنی نمائندے سے یہ کام کروائیں تاکہ شیطان آپ کو اکسائے بھی تو بھی آپ کے پاس آپشن نہ ہو۔
  • o    موڈیم کنفیگریشن میں جا کر ایسے "کی ورڈز" داخل کر دیں  جو بالعموم پورن سائٹس پر ہوسکتے ہیں۔ اس طرح آپ جیسے ہی ان "کی ورڈز" کی ویب سائٹ پر پہنچیں گے، آپ کا موڈیم خود ہی اس کو بلاک کر دے گا اور وہ کسی طور بھی کھل نہ پائیں گی۔ اس کی مدد سے آپ 90 فیصد پورن سائٹس بلاک کر سکتے ہیں۔
  • o    ویب سائٹس کے ناموں کا اندازہ لگا کر اس کو کھولنے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ کئی پورن سائٹس ایسی ہوتی ہیں جنہوں نے اپنے نام اپنے کام سے مختلف رکھے ہوتےہیں۔
  •       کمپیوٹر کے سٹارٹ اپ میں کوئی قرآنی تلاوت ڈال دیں۔ اسی طرح جب انٹرنیٹ استعمال کریں تو کوئی نعت وغیرہ سنتے رہیں۔ ڈیسک ٹاپ سکرین پر وال پیپر (wallpaper) کوئی اسلامی یا قرآنی استعمال کریں۔
  • کمپیوٹر کےپاس ڈرافٹ پیڈ پر اپنی To do لسٹ بناکر رکھیے اور انٹرنیٹ کا استعمال اس وقت ہی کیجیے جب آپ کو اس فہرست میں سے کوئی کام کرنا ہو۔ 

  • کمپیوٹر کھولتے وقت قرآن کی چند ایات کی تلاوت کر لیں ۔ وال پیپر پر کوئی آیت،حدیث وغیرہ لگادینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ اسے ہر بار کمپیوٹر کھولتے وقت پڑھیں سکیں گے۔
  • نٹرنیٹ پرخود کو متبادل سرگرمیوں میں مصروف کرنے کی کوشش کریں۔بہت سے  نوجوان انٹرنیٹ  پر بوریت کو ختم کرنے کے لیے "پورنو گرافی" کو استعمال تلاش کر لیتے ہیں۔ لیکن انٹرنیٹ پر  دلچسپ ، نفع بخش اور قابل دید مواد بھی کثرت سے دستیاب ہے، کوئی اچھی سی سائٹ یا علمی فورم کو جوائن کر لیں۔ ان فورمز سے آپ کو سیکھنے کا موقع بھی ملے گا اور آپ پورن کے نشے  سے بھی دور رہیں گے۔آخر میں کچھ مفید سائٹس دی جارہی ہیں، جہاں آپ اپنے مزاج کے اعتبار سے جائیں ۔ مجھے یقین ہےآپ ہرگز بور نہیں ہوں گے۔
  •   ہمارے ایک استاد محترم مشورہ دیا کرتے تھے کہ (اللہ نہ کرے) بالفرض  اگر کسی نہ کسی وجہ سے پورن کے نشے میں تڑپ کر کسی ویڈیو کو دیکھنے کی سعی بھی کرتے ہیں  تو دیکھتے ہوئےیہ گمان کریں کہ اس کریکٹر کی صورت آپ کے کسی (بھائی، والد، ماں ، بہن،بیٹی وغیرہ )سے ملتی ہے۔ اس طرح آپ بڑی تعداد میں ویڈیوز سےبچ سکتےہیں، مثلاً اگرآپ کے گھر میں کسی کا چہرہ خالص ایشین (چینی، جاپانی ، فلپائنی، انڈونیشن وغیرہ)ہے تو آپ کا ضمیراس مماثلت کی وجہ سے گوارا نہیں کرے گاکہ آپ اسے دیکھیں۔
  •    جس حد تک ممکن ہو انٹرنیٹ بلا غرض سرچنگ سے گریز کریں اور  خود کو چند مخصوص سائٹس یا فورمز تک محدود رکھیں۔کیونکہ جتنا آپ اِدھر اُدھر پھریں گے ، آپ اتنا ہی خود کو حملوں کے رسک میں ڈالیں گے۔
  •   فحش موسیقی  اور موویز سے ہر صورت پرہیز کریں، پورنوگرافی کے نشے کو بڑھانے کا سب سے اہم سبب یہی ہوتا ہے۔اس کے بجائے نعت، ملی نغمےیا کوئی معلوماتی شو /ڈاکیومینٹری دیکھ لیں۔
  •    پورنو گرافی آپ کو کس معاملے میں زیادہ نقصان دے سکتی ہے ، ایک لسٹ بنائیں اور  اس لسٹ کا صبح اور رات کو مطالعہ کریں ۔ گویا  خود کو یاد دہانی کروائیں کہ آپ کو ہر صورت ان نقصانات سے بچنا ورنہ یہ آپ کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔
  •    اگرآپ گوگل کروم استعمال کرتے ہیں تو (اس میں یہ سہولت موجود ہے کہ) آپ اس پر اپنے عزیز مثلاً ماں، بیٹی کی تصویر لگادیں، ہر ایک نیا ٹیب کھونے پر وہ تصویر آپ کو نظر آتی رہے گی۔
  •      ہر وقت باوضو رہیں، وضو ہمارے اندر روحانیت کو قائم رکھتا ہے۔
  •       نماز باجماعت پڑھیں اور روزانہ قرآن مجید اورتفسیر ضرور پڑھیں۔
  •       مطالعے کا شوق بلکہ نشہ پیدا  کیجیے۔اس سے آپ کا وقت صحیح جگہ صرف ہوگا۔اس سائٹ پر آپ کے مطالعے کےلیے کافی کچھ دستیاب ہے۔  http://mubashirnazir.org/Index.htm  
  •       بد نظری سے بچیں۔
  •      نوّے فیصد سے  زائد نوجان بلوغت کےوقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے یہ نشہ کرتے ہیں، لہٰذا والدین سےگذارش ہےبچوں کی شادی جلد از جلد کیجیے۔
  •       شادی میں تاخیر کی سب سے اہم وجہ "شادی کے اخراجات" ہیں۔ شادی سنت کے مطابق کی جائے تو اس میں کوئی زیادہ خرچہ نہیں ہوتا، لہٰذا شادی کو آسان بنائیں۔


ان  سب تجاویز پر عمل کرنے کے نتیجے میں ان شاء اللہ آپ بڑی حد تک اس عادت سے محفوظ ہو جائیں گے اگر کبھی آپ ایسا کر بیٹھیں تو اللہ تعالی سے تعلق کے اپنے احساس اور اس جذبے کو مرنے مت دیجیے اور فوراً توبہ کر لیجیے۔اللہ ہم سب کویہی جذبہ عطا فرمائے۔دعاؤں کی درخواست ہے۔
والسلام
حافظ محمد شارق



سائٹس

دینی و مذہبی کتابیں

تعمیر شخصیت پروگرام/ تزکیہ نفس
ڈاکٹر ذاکر نائک کے دلچسپ لیکچرز
علوم اسلامیہ/ فری اسلامک کورسز/کتابیں/سوالات و جوابات/مضامین
بہترین ، فائدہ مند گیمز
فری کورسز(انگلش، مینجمنٹ،بزنس  وغیرہ)
تقابل ادیان
تلاوتِ قرآن
www.nurquran.com/qiraet-mp3.php




Thursday, 29 August 2013

پینٹ شرٹ/ مغربی لباس۔۔۔ جائز یا ناجائز؟


سوال : پینٹ شرٹ پہننا جائز ہے یا ناجائز ہے۔ بعض علماءکہتے ہیں کہ پینٹ شرٹ پہننا جائز نہیں ہے اس سے غیر مسلموں کی مشابہت ہوتی ہے کیونکہ پینٹ شرٹ غیر مسلموں کا شعار ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو بندہ کسی جماعت اور قوم کی شباہت اپنائے گا وہ اسی میں سے ہے یعنی قیامت میں اسی قوم کے ساتھ اٹھے گا۔ کیا یہ ضروری ہیں کہ ہم اپنے آئیڈیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر معاملات میں اتباع کریں؟ کیوں کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک ادا اور سنت صرف قابل اتباع نہیں بلکہ مرمٹنے کے قابل ہے خواہ اس کا تعلق نشست و برخاست سے ہو یا عبادات سے متعلق۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟تفصیلی جواب دیں۔ (جہان زیب بلوچ۔ کراچی)

جواب:

السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ کیسے مزاج ہیں؟

آپ نے لباس کے متعلق جو سوال پوچھا اس کے متعلق میرے خیال میں شریعت اسلامی  نے  بنیادی اصول و ضوابط بتا دیے ہیں جو قرآن مجید میں سورة الاعراف میں بالکل وضاحت سے بیان ہیں۔

يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لیے لباس بنایا جو تمہارے ستر کو چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں۔( آیت 26)

 اس آیت میں لباس کے متعلق جو بنیادی اصول بتائے گئے ہیں وہ 1۔فریضۂ ستر پوشی،2۔ موجب زینت اور 3۔تقویٰ ہے۔ احادیث مبارکہ میں مزید شرائط و اصول بیان کیے گئے ہیں لیکن وہ بھی دراصل انہی بنیادی اصولوں کی توضیح ہے ۔مذکورہ اصولوں کی تفصیل احادیث کے ساتھ حسب ذیل ہے۔

فریضۂ ستر پوشی

لباس کے متعلق سب سے اہم امرستر پوشی ہے۔ لہٰذا جو بھی لباس اختیار کیا جائے اس میں اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ اس فریضے کو بخوبی ادا کرے۔اس سلسلے میں دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

1.     ایسا لباس جو جسم سے چپکا ہوا ہو اور بہت زیادہ چست ہو ایسے لباس سے احتراظ کرنا چاہیے بالخصوص عورتوں کواس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ حدیث پاک میں ایسے لباس والی عورتوں کو لباس سے عاری اور برہنہ کہا گیا ہے جن کے لیے دوزخ کی وعید ہے (مسلم شریف رقم ۲۱۲۸) ۔
2.     لباس اتنا باریک نہ ہو کہ جس سے جسم کے اعضاءنظر آتے ہوں ۔ مردوں کے لیے ناف سے گھٹنوں تک ستر چھپ جانے کے بعد دوسرے کپڑے باریک ہوں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

زینت

 لباس وہی استعمال کرنا چاہیے جوباوقار ہو اور اپنی جنس کے اعتبار سے خوبصورتی اور زینت کا موجب ہو۔ ایسا لباس اختیار کرنا ہرگز درست نہیں جس میں بے ہودگی ، حماقت اور بد صورتی ظاہر ہو۔ ستر پوشی کے علاوہ ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق لباس میں زینت و جمال کا خاص خیال رکھا جائے۔

تقویٰ  

ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد ہی تزکیہ نفس اور تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ لباس میں بھی اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ لباس سے تقویٰ کا اظہار ہو۔لہٰذا:۔

1.     ایسا لباس ہرگز استعمال نہ کیا جائے جس سے تکبر اور غرور ٹپکتا ہو، یہی وجہ ہے کہ عرب میں ٹخنوں سے نیچے شلوار (یا پائجامہ) رکھنا غرور و تکبر کی علامت تھی جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
2.     لباس اختیار کرنے میں اسراف سے اجتناب کرنا چاہیے۔ غیر ضروری زینت اور لباس پر کثیر رقم خرچ کرنا فضول خرچی ہے۔ بخاری شریف میں حدیث مبارکہ میں ہے کہ جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو البتہ دو چیزیں تمھیں گناہ میں مبتلا نہ کردیں۔ فضول خرچی اور تکبر
3.     مرد عورتوں کا لباس اور عورتیں مردوں کا لباس استعمال نہ کریں۔ یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔ حدیث مبارکہ (بخاری شریف رقم الحدیث ۵۵۴۷) میں اس بارے میں سختی سے ممانعت آئی ہے اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی شباہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔
4.     ایسے لباس سے اجتناب کرنا چاہیے جو کسی قوم کا مذہبی شعار ہو۔حدیث مبارکہ میں اس کی ممانعت ہے۔
 ان اصولوں کی روشنی میں دور حاضر کے مروجہ لباس پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ماضی میں علمائے اسلام کا تعلق عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، شام اور اندلس سے تھا ، سبھی علماء اپنے اپنے مقامی لباس پہنا کرتے تھے اس بارے میں کوئی پابندی نہ تھی۔

اب میں آپ کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔ ہمارے ہاں اس معاملے میں دو نظریات ہیں۔ روایت پسند علماءکا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے اور ویسا ہی لباس پہننا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہنا کرتے تھے۔ تاریخ اور احادیث میں بکثرت روایات موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتہ ، پاجامہ اور تہبند زیب تن کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں روایتی علماءبھی عام طور پر اسی قسم کا لباس مثلاً شلوار قمیص ، وغیرہ پسند کرتے ہیں ، بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ بعض علماءایسے بھی ہیں جو صرف اسی کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں ان کا یہی کہنا ہے جو آپ نے لکھا کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک ادا اور سنت صرف قابل اتباع نہیں بلکہ مرمٹنے کے قابل ہے خواہ اس کا تعلق نشست و برخاست سے ہو یا عبادات سے متعلق۔ بے شک ان کا کہنا بھی درست ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک سنت مرمٹنے کے قابل ہے۔

جبکہ دوسری طرف معتدل علماء کا طبقہ ہے جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مخصوص لباس کی تاکید نہیں فرمائی ہو یا کسی لباس کو بطور دینی حکم کے جاری فرمایا ہو۔ اخلاقی اصولوں (جن کی توضیح اوپر کی گئی ہے) کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی معاشرے سے تعلق رکھنے والا لباس ہمارے لیے جائز ہوگا۔ آپ نے جو حدیث بیان کی وہ ابو داؤد شریف کی ہے لیکن علماء کی اس جماعت کے مطابق اس حدیث کا تعلق عام لباس سے نہیں بلکہ لائف اسٹائل اور مذہبی شعار سے متعلق ہے۔ یعنی لباس سے وابستہ وہ علامات جو کسی خاص مذہب یا فلسفے کی علامت کے طور پر مقرر ہو۔ جیسے نارنگی رنگ میں ایک قسم کا لباس ہندوؤں اور بدھ بھکشوؤں کے ہاں رائج ہے۔ اسی طرح گلے میں صلیب لٹکانا، سر پر چوٹی رکھنا یہ سبھی مذہبی شعائر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی لباس پہنا کرتے تھے جو اس دور میں اہل عرب پہنتے تھے۔عرب کے تقریباً سبھی لباس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیب تن فرمائے ۔ ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق آپ نے جبہ اور فروج (ایک قسم کا کوٹ) بھی پہنا۔مسلم کی روایت کے مطابق آپ نے ایرانی جبہ پہنا ۔ ان سبھی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں کسی لباس کو بطور دینی حکم یا شعار کے جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس سلسلے میں اصول بتاکر ہماری رہنمائی فرمادی ہے۔

اتباع سنت کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت دو قسموں پر مانی گئی ہیں: (1)سنن ہدیٰ ۔(2) سنن الزوائد۔علامہ شامی نے ان کی تشریح یوں کی کہ ہے کہ سنن ہدی سے مراد وہ سنت ہیں جودین کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس کا تارک گمراہ ہے۔ جب کہ سنن الزوائد وہ سنت ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جسے آپ نے خاص حکم نہیں فرمایا ہو تاہم ان کی عادت رہی ہو۔مثلاً لباس، قیام و قعود، رکوع و سجود کو طویل کرنا وغیرہ۔
سنن الزوائد میں وہ امور جن کا تعلق تمدن و معاشرے سے ہوتا ہے ان معاملات پر عمل کرنا دین کا حکم نہیں ہے۔لباس کی مثال ہم دے آئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عرب کا عام لباس ہی پہنا۔ اس کے علاوہ دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سواری کے وہی ذرائع اونٹ ، گھوڑا، خچر وغیرہ استعمال کیے جو اہل عرب کرتے تھے۔ جنگوں میں بھی وہی اسلحہ استعمال کیا جو اس دور میں تمام افواج کرتے تھے۔یہ سب چیزیں تمدنی نوعیت کی ہیں، اس کا دین سے بنیادی اصول و ضوابط کے علاوہ کوئی تعلق نہیں ہے۔لباس بھی اسی شام ہے۔سنن الزوائد میں وہ امور جن کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی طبعی  پسند و ناپسند سے ہو مثلاً کسی کھانے کا زیادہ پسند کرنا ، کسی کھیل میں دلچسپی رکھنا یہ دین کا حکم نہیں ہے اور اس میں ہم اپنے طور  کچھ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔مثلاً بعض علاقوں مں ایک چیز کھانا عجیب اور بعض جگہوں پر مرغوب غذا ہوتی ہے۔  چنانچہ صحیح مسلم : کتاب الصید والذبائح میں یہ ہمیں یہ واقعہ ملتا ہے کہ

 سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک بھنی ہوئی گوہ لائی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تووہاں موجود کچھ خواتین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بتاؤ کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ سنا تو اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔پوچھا گیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا یہ حرام ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: نہیں۔ لیکن جہاں میری قوم رہتی ہےوہاں یہ نہیں ہوتی، اس وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔اس کے بعد دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کھانا شروع کردیا جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  دیکھتے رہے۔

چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی طبعی پسند نا پسند دین کا حکم نہیں رکھتی ورنہ صحابہ کرام ہرگز وہ نہ کھاتے یا آپ انہیں منع فرماتے۔اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خندق کھودنے کا مشورہ مانا، جو کہ ایران میں مجوسیوں کا طریقہ تھا لیکن ان کا مذہبی شعار نہ تھا بلکہ جنگ کےمتعلق حکمت عملی تھی۔کسی لباس کو سنت قرار دے کر اس سے ذرا ہٹ کر لباس اختیار کرنا جائز نہیں ہے تو پھر دوسرے امور جیسے جدید سواریوں ،اسلحوں کے استعمال میں کیوں قباحت نہیں ؟  اس استدلال کی بنیاد بنایا جائے و پھر ہمیں چاہیے کہ پھر ہم جنگ میں تیر کمان اور تلوار کا استعمال کریں، سواری کے لیے گھوڑے، گدھے اور خچر کااستعمال کریں۔ لہٰذا واضح ہے کہ ان چیزوں کا تعلق تمدن سے ہے نہ کہ دین سے،اور یہ سنتیں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بطور تمدن اختیار کیا ہو اسے اختیار کرنا ہم پر لازم نہیں ہے البتہ بطور سنت اسے محبت میں اپنایا جاسکتا ہے۔ میں بھی اسی بات کا قائل ہوں کہ اوپر جو اصول بیان کیے گئے ہیں انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے لباس پہنا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

جہاں تک پینٹ شرٹ کا تعلق ہے تو اس کی حیثیت ایک بین الاقوامی لباس کی ہے ، دنیا بھر میں تمام مسلم و غیر مسلم قومیں اسی پہنتی ہیں، اگر پینٹ شرٹ مذکورہ اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے پہنا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مجھے نہیں معلوم ہمارے علماء میں یہ غلط فہمی کیوں پھیلی ہوئی ہے کہ  کوٹ پتلون کفار کا شعار ہے۔  تاریخ اس بارے میں بالکل واضح ہے کہ یہ لباس اسپین کے مسلمانوں کا تھا جس دور میں مسلمان ہر اعتبارسے غالب اور ترقی یافتہ تھےلہٰذا مسلمانوں کا یہ لباس یورپ والوں نے اختیار کیا اور آج یہ ایک بین الاقوامی لباس ہے۔  اگر آج ہم جدوجہد کرکے دنیا پر غالب آجائیں تو ہمارا قومی لباس بین الاقوامی لباس بن سکتا ہے۔

اگر جواب میں کوئی شبہ رہ گیا ہو تو بلاتکلف دوبارہ پوچھ لیں۔
والسلام

حافظ محمد شارق

Monday, 27 May 2013

خدا کا غلط تصور

تحریر: پروفیسر محمد عقیل

کچھ عرصے قبل ایک افسانہ پڑھا کہ ایک صاحب کو راستے میں ایک بزرگ ملتے ہیں ۔ وہ صاحب بزرگ کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔نتیجے کے طور پر بزرگ خوش ہوکر انہیں دعا دیتے اور کہتے ہیں
” میاں! تمہیں اجازت ہے کہ جو چاہو اپنے لئے مانگو لیکن تمہارے پاس صرف ایک خواہش کرنے کا آپشن ہے “۔ کافی سوچ بچار اور بیوی سے مشورے کے بعد وہ صاحب ایک خواہش کرتے ہیں کہ وہ جسمانی طور پر جیسے ہیں ہمیشہ ویسے ہی رہیں اور ان کے جوان بدن میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ اس خواہش کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہمیشہ جوان رہیں۔ دعا مانگنے کے بعد وہ صاحب سوجاتے ہیں ۔ دوسرے دن صبح کو جب ان صاحب کی بیوی اٹھتی ہے تو دیکھتی ہے کہ اس کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔ آخر میں افسانہ نگار یہ تبصرہ کرتا ہے کہ چونکہ موصوف نے ہمیشہ اپنے بدن کو غیر متغیر رکھنے کی خواہش کی تھی اس لئے خدا نے اسکی دعا سن لی اور اس کا بدن ہمیشہ کے لئے غیر متغیر ہوگیا۔
اس افسانے کو پڑھ کر ایک ایسے خدا کا تصور پیدا ہوتا ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ وہ صرف ظاہری الفاظ کو سن کر فیصلے کرتا اور بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔خدا کی ذات کا یہ تصور صرف اس افسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہماری روزمرہ کی گفتگو میں سرایت کرگیا ہے۔ ہم روزانہ اس قسم کہ باتیں سنتے ہیں کہ کوئی ایسی ویسی بات منہ سے نہ نکالو کہیں قبول نہ ہوجائے، یا ناکامی پیش آنے پر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ خدا کی یہی مرضی تھی۔ خدا کی بے حکمتی کی باتیں ہمارے مذہبی حلقوں میں بھی مشہور ہیں۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ خدا چاہے تو کسی صالح مومن کو جہنم اور ابوجہل و ابولہب کو جنت میں داخل کرسکتا ہے، یا پھر یہ کہ خدا نے تقدیر مقرر کردی اور لوگوں کو مجبور محض بنادیا ہے اس کے باوجود وہ لوگوں جنت اور جہنم میں ڈالے گا وغیرہ۔
اس کے برعکس ہمارا یقین ہے کہ اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ چنانچہ یہ کس طرح ممکن ہے وہ حکمت سے عاری ہو۔ اللہ کی ایک صفت ہے الحكيم۔ اس کا مطلب صاحب حکمت، عالم، دانا، دانشور، باشعور ہستی کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حکیم ہونے کا مفہوم یہی ہے کہ وہ لامتناہی طور پر دانا، سمجھدار اور دانش رکھنے والاہے ۔ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی کار کو بےعقل اور اناڑی ڈرائیور چلائے تو جلد یا بدیر کار کسی جگہ سے ٹکرا کر تباہ ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر یہ کائینات کسی غیر حکیم اور بے شعور ہستی کے ہاتھ میں ہوتی تو اب تک کئی مرتبہ تباہ ہوچکی ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت، انتہائی درجے کی غایت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے لیکن ان کاموں کی مصلحتوں کو کامل طور پر احاطہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔حکمت کا معاملہ یہ ہے کہ ایک دانا شخص کی حکمت کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے کم از کم اتنی ہی دانائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی دانائی اور دانش تک کوئی نہیں پہنچ سکتا چنانچہ اس کی حکمت کو مکمل طور پر سمجھ لینا ممکن نہیں۔ چنانچہ زلزلوں سے بستیوں کا اجڑ جانا، انسان کی معذوری، کیڑے مکوڑوں کی تخلیق، اور دیگر سمجھ میں نہ آنے والے کاموں کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔ اس حکمت کے ایک پہلو کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت موسیٰ اور خضر علیہ السلام کے واقعے میں سمجھایا ہے۔اسی لئے اس دنیا کی بہت سے امور سمجھ سے باہر ہیں ۔ چنانچہ اللہ کے بارے میں یہ تصور کرنا ایک جرم ہے کہ اس کے فیصلے الل ٹپ ہوتے ہیں۔ لہٰذا جو معاملہ سمجھ میں آجائے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور سمجھ سے باہر ہو اس پر اللہ کی حکمت پر اجمالی ایمان اور اطمینان رکھنا ہی ایمان کا تقاضا ہے ۔
پروفیسر عقیل صاحب بہترین مضامین پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Thursday, 18 October 2012

تقابل ادیان


تقابل ادیان کیوں؟؟؟
سوال
کیا ہم اپنے دین کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں ، پوری طرح سے اس کی تعلیمات ، اس کے مسائل اور سب سے اہم قرآن و حدیث جان چکے ہیں؟ ہم ابھی تک ان کو ہی صحیح طرح نہیں سمجھے ، ان پر پورا عمل نہیں کیا تو یہ تقابل ادیان کی ضرورت کیوں کر پیش آئی؟ اپنا دین سمجھا نہیں دوسرے میں گھُس چلے ہیں ہم۔  ہم دوسرے کے مذہب کو اہمیت ہی کیوں دیں جب کہ اپنا اسلام ہمارے لیے کافی ہے؟ کیا صوفیاء بھی تقابل ادیان میں کام کرتے تھے؟
)محمد بلال عطاری۔ کراچی(

جواب: السلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ! ہر انسان کے لیے دعوت و تبلیغ کا ایک علاحدہ میدان ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں ہے ہر داعی مفتی ہو، یا ہر مفتی محدث ہو۔ بنیادی تعلیم کے بعد جس کا جو میدان ہوتا ہے وہ وہیں کام کرتا ہے۔ اسی طرح دعوت و تبلیغ کے لیے تقابل ادیان بھی ایک اہم ذریعہ ہے، اسلامی تاریخ میں تقابل ادیان کوئی نیا موضوع نہیں ہے،
تقابل ادیان کے میدان میں اگر کوئی اسلام کے بنیادی علوم سیکھے بغیر آئے گا بلا شبہ یہ غلط ہے۔ دین کے بنیادی علوم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ تقابل ادیان کے طالب علم کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک عام مسلمان کو بھی اسلام کے بنیادی علوم مثلاً مڈل سطح کی عربی قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جاسکے، فقہ جس سے ہماری عبادات اور حلال و حرام کا علم ہوجائے ، ایمانیات کے چھ بنیادی اصول پر بلا تاویل یقین ہو اور اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے ، اسلام کی روح کیا ہے، اسے سمجھنا ‘ یہ بنیادی علم ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی مسلمان علیحدہ میدان منتخب کرتا ہے تواس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ایک مسلمان ان علوم کو حاصل کرلینے کے بعد ڈاکٹر بنے یا انجینیر، دعوت و تبلیغ کے لیے وہ ہر طرح سے کام کرسکتا ہے ۔پھر جو لوگ دین کی دعوت دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں ، اور علوم اسلامیہ میں اسپیشلائز کرتے ہیں ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ دیگر مذاہب سے بھی اچھی طرح واقف ہوں تاکہ وہ ان مذاہب کے لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کر سکیں۔
سنن درامی کی ایک حدیث ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار تورات کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا ‘ بعض حضرات اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ تقابل ادیان پڑھنا غلط ہے۔ اول تو یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ محدثین کی نظر سے یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس کا ایک راوی جابر الجعفی متہم بالکذب ہے جس کے بعد اس روایت پر استدلال درست نہیں رہتا۔ البتہ اگر یہ حدیث کسی طور پر اپنے مفہوم کے اعتبار سے بھی صحیح ثابت ہوجائے تو بھی حدیث پر معمولی سا غور واضح کردیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تورات کی تلاوت اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے متعلق منع فرمایا کیونکہ خود اس حدیث کے آخری حصے میں یہ صراحت ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام دوبارہ آجائیں تو وہ بھی اپنی شریعت تورات کے بجائے قرآن پر عمل کریں گے۔ لہٰذا بات بالکل واضح ہے کہ اس ممانعت میں پیش نظر تورات کو بحیثیت کتاب ہدایت پڑھنا تھا ۔ تقابل ادیان کے بغیر غیر مسلمین کے سامنے یہ بات واضح کرنا ممکن نہیں ہے کہ ان کے دین اور ہمارے دین میں آخر فرق کہاں اور کیا واقع ہے، کیوں اسلام کو دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل ہے اورکن امور پر ان کی کتب مقدسہ اور اسلام متفق ہیں۔
دعوت و تبلیغ کے لیے تو تقابل ادیان کے شعبے کو وجود قرآن مجید اور احادیث سے ملتا ہے۔ چند مثالیں دیکھیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ان سے توحید کے مشترکہ عقیدے پر بات کی جانے چاہیے۔اللہ فرماتے ہیں ”آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ جو کہ ہم تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ ہی اللہ تعالی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ “(سورہ آل عمران آیت ۴۶)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اہل کتاب سے مشترکہ نکات پر اتحاد کیا جائے اور ان سے بات کی جائے۔ یہ مشترکہ نکات کیا ہیں؟ اس کی وضاحت خود اس آیت میں توحیدہے۔اس حکم کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اہل کتاب کے مشترکہ امور معلوم کیے بغیر کس طرح ان سے بات کی جائے؟ معلوم کرنے کے دوع ہی ذرائع ہوں گے یا تو ان مذاہب کے ماننے والوں کی موجودہ صورت دیکھی جائے یا ان کی کتب مقدسہ کا مطالعہ کیا جائے۔ اگر ہم اہل کتاب کی موجودہ حالت دیکھیں تو یہی معلوم ہوگا کہ موجودہ عیسائیت میں توحید کا کوئی واضح عقیدہ موجود ہی نہیں ہے۔ لہٰذا تثلیث کے شرکیہ عقیدے کے ہوتے ہوئے یہ مشترکہ امور عیسائیوں کو دیکھ کر ہرگز معلوم نہیں کیے سکتے۔ یہ عقائد بلاشبہ ان کی کتب مقدسہ کے خلاف ہیں۔ یہ مشترکہ امور یقیناً ان کے دین اور ان کی کتابوں کے مطالعے سے ہی معلوم ہوں گے تاکہ ان سے بات کی جاسکے۔
قرآن مجید کا یہ دعویٰ ہے کہ توریت و انجیل محرف کتابیں ہیں ، یہ ہمارا مجمل ایمان ہے لیکن اس کی تفصیل اور یہ دعویٰ اسی وقت ثابت ہوگا جب ہمیں ان کتابوں کی تاریخی حیثیت کا علم ہو۔

دعوت و تبلیغ کے لیے اس کی اہمیت کا انکار کسی بھی طرح نہیں کیا سکتا۔ چنانچہ ہم دور نبوت میں دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خاص یہود کی زبان عبرانی سیکھنے کا حکم دیا تاکہ یہود کی دستاویزات پڑھ سکیں۔ بعد میں بہت سے صحابہ و تابعین نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور کعب الاحبار سے یہود کی روایات کا علم حاصل کیا۔حضرت شاہ ولی اللہ نے اصول تفسیر کی کتاب الفوز الکبیر میں قرآن مجید کے جو موضوعات گنوائے ہیں، تقابل ادیان بھی انھی میں سے ایک شاخ ہے۔امام غزالی، شیخ عبد القادر جیلانی غوث صمدانی نے بھی اپنی کتب میں فرقہ باطلہ کا رد کیا ہے، چنانچہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انھوں نے اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اہمیت دی ہے۔ کیونکہ یہ کام ہمارے صوفیاء، علماء اور سب سے بڑھ کر خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ امام رازی، ابو منصور عبد القاہر، امام غزالی،ابوالہذیل، ابو اسحاق ابراہیم بن سیار نظام، ہشام بن الحکم، ابن حزم، علامہ محمد عبد الکریم شہرستانی، ابن تیمہ، یعقوب کندی، جاحظ وغیرہ کے نام آشنا ہر شخص جانتا ہے۔ جدید مثالوں میں آپ شاہ ولی اللہ، حضرت مجدد الف ثاثی، شیخ احمد دیدات، پیر کرم علی شاہ ازہری، مولانا ثنااللہ امرتسری، مولانا قاسم نانوتوی، اور دیگر علما ہیں اور آپ جانتے ہوں گے کہ ان میں کون کون صوفیاء ہیں۔
 ان سب کے پیش نظر بلا شبہ یہ کہنا صحیح ہے کہ اپنے دین کی بنیادی تعلیم حاصل ہوجانے کے بعد بلا تردد کسی بھی مذہب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ۔بشرطیکہ کہ کسی استاد کی رہنمائی میں ہو، تاکہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔
والسلام
حافظ محمد شارقؔ