Showing posts with label Firqa wariat. Show all posts
Showing posts with label Firqa wariat. Show all posts

Friday, 25 October 2013

تلاشِ حق



حافظ محمد شارق

 اسلام زندگی گزارنے کے اس طریقے اور طرزِ فکر کا نام ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام لائے۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کی تشریح و توضیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ میں کردی ہے۔ اب یہ دین ہر صورت میں مکمل ہے اور قرآن مجید کی رو سے ہماری فلاح و نجات کا ضامن بھی صرف یہی دین ہے۔الحمدللہ ہم میں سے کوئی اس بات کا انکار نہیں کرتا اور نہ ہی کسی صورت انکار  کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے لیے صرف اسلام ہی راہِ  نجات ہے۔ ہم دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی ہمارے لیے کامیابی ہے۔ ہم دین سے منحرف ہر شخص کے متعلق اپنے دل میں اس بات کی تمنا رکھتے ہیں کہ وہ دین کا صحیح طرح سمجھے ،علم حاصل کرے اور اسی راستے کو اپنائے جس کی دعوت پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔   لیکن کبھی ہم نے خود اپنے ضمیر سے بھی یہ سوال پوچھنے کی زحمت کی ہے کہ ہم  واقعی دین کی اُس صحیح صورت پر عمل پیرا ہیں جس کی دعوت قرآن دیتا ہے؟ دین کی جو فکر ہمیں اپنے والدین سے توارث (Heredity) سے ملی ہے ، اور بلا تحقیق ہم جس راستے پر برس ہا برس  سے چل رہے ہیں، کیا قرآن کا راستہ وہی ہے؟ یا ہم "نتبع ما ألفينا عليه آباءنا" (ہم تو اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا) کا مصداق خود کو حق سمجھ رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد اسی گروہ سےتعلق رکھتی ہے جس پر قرآن نے درج بالا تبصرہ کیا ہے ۔ہم میں سے اکثر افراد ایسے ہی ہوں گے جواپنے خاندان میں رائج دین کی صورت پر محض اس لیے عمل پیرا  ہیں کہ انھوں نے اپنے ماحول سے یہی کچھ حاصل کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سےکوئی واقعی اللہ سے اتنا مخلص بھی ہے کہ وہ اُس راستے پر تنقیدی نظر ڈالنے کی ہمت رکھتا ہو جو ہمیں آباء و اجداد سے ملا ہے؟ یہ معاملہ دراصل تلاشِ حق کا ہے۔اُن عقائد کی تلاش کا جس پر دین اسلام کی عظیم الشان عمارت قائم ہے، یہ تلاش اس امر کی ہے کہ اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بندے کے درمیان کس قسم کا خوبصورت رشتہ ہے۔ یہ تلاش دراصل اس بات کو دریافت کرلینےکا نام ہے کہ قرآن کوبندے کی کیسی شخصیت مطلوب ہے۔لیکن اس تلاش میں  ابلیس نے ایسی دیواریں اور رکاوٹیں بھی کھڑی کردیں ہیں جنھیں عبور کرنا ضروری ہے۔
 اللہ سے مخلصانہ محبت کرنے والے کے لیے تلاشِ حق میں بنیادی طور پر صرف دو ہی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ فکری جمود اور جہالت۔
فکری جمود کیا ہے؟قرآن مجید میں (سورۃالتوبہ آیت 31) میں اللہ تعالیٰ نے  نصاریٰ کےمتعلق یہ فرمایا ہے کہ انھوں نے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا، یعنی ان کے علماء انھیں جو کچھ کہتے ، وہ اسے مان لیتے تھے چاہے وہ اللہ کے نازل کردہ واضح احکامات  کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ان کا اصرار صرف اس بات پر تھا کہ وہ اپنے علماء کی اندھی تقلید نہیں چھوڑیں گے وہ ہمیں جس بات پر لگائیں ہم لگ جائیں گے اور جس بات سے روکیں ہم رک جائیں گے۔لیکن حقیقت میں یہی وہ رویہ یعنی جمود تھا جو قبولِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ذرا غور کیجیے کہ اگر قرآن اس جمود کی مخالفت نہ کرتا  تو کیا ہمارے آباء و  اجداد ، یا ہم خود باطل مذہبی رہنماؤں کی پیروی میں رہتے ہوئے دینِ حق تک پہنچ سکتے تھے؟قرآن مجید نے  انسانی فکر سےاسی  جاہلانہ جمود کو ختم کرنے کے لیے غور و فکر کی دعوت  دی اور لوگوں کے ذہنوں کو وسیع کیا۔ اس آیت کو دیکھیے کہ قرآن مجید کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا صرف بڑوں اور مذہبی پیشواؤں کے لیے  نہیں بلکہ ہر مومن پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں
وَلَقَدْ یسرنا القرآن للذکر فھل من مُدَّکِرْ
اور ہم بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
 اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کریں  کہ اس نے علماء اور آباء و اجداد کی اندھی پیروی کے بجائے خود قرآن کی دعوت کو سمجھنے کی تلقین کی ہے تاکہ ہم اس وسعت نظری تک پہنچ جائیں جو ہمیں حق کی راستہ دکھائےگی۔ آپ قرآن مجید کی ساری دعوت دیکھ لیجیے، ہرایک آیت بندے کے قلب و ذہن کو اس بات پر جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اعمال و عقائد کے متعلق فکر کرے اور غفلت کی زندگی نہ گزارے۔واضح رہے کہ یہاں یہ بیان کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے کہ ہم علماء کرام پر بھروسہ نہ کریں بلکہ بات صرف یہ ہے ہم وہ لوگ جو "علماء" کے لبادے میں ہمیں توہمات سکھاتے ہیں، ہمیں دین کی حقیقی صورت سے دور رکھتے ہیں ہم ان سے اپنے آپ کو آزاد کرکے علمائے حق کو تسلیم کریں۔ اُس توحیدِ خالص کی طرف آئیں جو ہر قسم کے شرک اور توہمات سے پاک ہے۔
قبول حق میں دوسری بڑی رکاوٹ جہالت ہوتی ہے۔ قرآن  جس دور میں نازل کیا گیا اس سے صدیوں پہلے سے اب تک دنیا کی بہت سی قوموں میں دین کا علم ایک مخصوص طبقے تک محدود رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے حق و باطل کی پہچان کرنا ناممکن تھا۔آج بھی علم دین صرف علماء کی میراث سمجھی جاتی ہے، اگر وہ علماء کو ہمیں ہمارے ماحول میں میسر ہوئے ہیں، وہ علماء اگرخدانخواستہ "علماء سو" میں سےہوئے توکیا ہم بھی ان کے گمراہی کےگڑھے میں ان کے ساتھ صرف اس بناءپر چلے جائیں گے کہ ہم نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی انھی علم دین کا عَلم بردار دیکھا ہے؟ اسی حقیقت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے علم کے دروزے بھی ہر ایک کے لیے کھول دیے، اس نے جس طرح قرآن کو سمجھنے کی دعوت ہر ایک کے لیے عام کی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ سے علم کی فرضیت  بھی ہر ایک کے لیے رکھ دی تاکہ صحیح علم کی بنیاد پر بندہ دین کے معاملے میں صحیح فیصلہ کرسکے ۔
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ (ابن ماجہ و بیہقی)
علم حاصل کرنے کی کوشش اور طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ دین کا صحیح فہم حاصل ہونے کے لیے علم ایک بنیادی ضرورت ہے۔یہ علم صرف نماز ، زکوٰۃ، حج ، روزہ اورظاہری عبادات کے متعلق نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔اسلام کے بنیادی عقائد،  اوامر و نہی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ باتوں کا علم ہونا ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے اور اس علم کا منبع قرآن ہے ۔
قرآن جوعلم پیش کرتا ہے وہ کیا ہے؟ دراصل جہالت کے زوال اور ہمارے ذہن میں موجود جمود کو توڑنے کا نام ہے۔یہ وہ مقدس مشعل  ہے جس کی روشنی میں انسان بد اعتقادی، تعصب اور تشکیک کی تنگ و تاریک گھاٹیوں سے نکل کر عقائد کی درستگی ، نفس کی پاکیزگی، روشن خیالی  اور  فہم و ادراک کے استحکام کی طرف جاتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنے کا حکم کم بیش بیس مرتبہ آیا ہے ۔ بات بالکل سادہ سی (لیکن اہم) ہے کہ اپنی شخصیت کی تعمیر  کے لیے قرآن مجید انتہائی آسان اور بہترین کتاب (Guide)ہے۔یاد رکھیے کہ اس زندگی کے بعد ابدی زندگی میں نجات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آپ میں حق و صداقت کی تلاش کی آرزو کتنی تھی ؟ آپ کو جو کچھ علم تھا، آپ کی شخصیت و کردار پر اس کا کتنا عکس رہا؟ الغرض یہ کہ آپ اپنے پروردگار سے کتنے مخلص ہیں۔

Sunday, 11 November 2012

اختلافی مسائل میں ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟




السلام و علیکم ورحمتہ اللہ!
میں کافی عرصے سے فیس بُک پراسلام اور فرقہ واریت کے متعلق آپ کی پوسٹس دیکھتا رہا ہوں، آپ کے بلاگ پر کچھ مضامین بھی دیکھے۔ مجھے بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ہمیں اپنے فرقے کے بجائے اسلام کی پیروی کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال ہے کہ دین کے بنیادی عقائد تک تو مسئلہ نہیں ہوتا لیکن وہ مسائل جن پر مختلف فرقوں کا باہم اختلاف ہے، ہمیں ان میں سے کسی ایک رائے کو لازماً ماننا ہی ہوگا، جب ہم ایسے اختلافی معاملے میں کسی ایک جماعت کی بات مان لیں تو کیا پھر ہم اس فرقے میں شامل نہیں ہوجاتے۔ نیز ہم اختلافی معاملات میں کیا رویہ اختیار کریں ؟

حماد یوسف، کراچی 

جواب:
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
آپ نے بہت ہی اچھا سوال پوچھا ہے، ہمارے ہاں اکثر لوگ اس مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ ایسی صورتحال میں کیا کریں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کسی فرقے کے بجائے خدا کے دین کے متعلق مخلص ہیں اللہ آپ کا یہ اخلاص یونہی قائم رکھے۔ (آمین)۔

آپ کے سوال کے برعکس میں پہلے اختلافی معاملات میں ہمارے رویے کے متعلق بات کروں گا۔ اس بارے میں میرا مشورہ ہے کہ دین کے متعلق  ایک اوسط (نورمل ) سطح کا علم رکھنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ دین کے بنیادی فرائض باقاعدگی سے اداکرے، اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان کے دیگر تمام حصوں پر پختہ یقین رکھے ۔ آپ یہ کیجیے کہ قرآن مجید کا کوئی سادہ سا ترجمہ لیں اور کسی قدیم مستند تفسیر کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کریں۔ قرآن مجید کے مطالعے سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ میں دین کے بنیادی اصولوں کی سمجھ پیدا ہوگی اور صحیح اور غلط سمجھنے کے لیے قرآنی اصول موجود ہیں گے۔اس کے ساتھ ہی کوشش کیجیے کہ کسی استاد یا کتاب کی مدد سے قرآنی عربی بھی سیکھیں تاکہ آپ قرآن مجید کا مطالعہ بہتر انداز سے کرسکیں۔ اس کے بعد اگر کوئی فقہی مسئلہ پیش آجائے تو کسی بھی قریبی عالم یا مفتی سے مسئلہ معلوم کرلیں۔


ان بنیادی امور اور عقائد کے بعد دیگر بحثوں اور فروعات میں نہ ہمیں نہیں لگنا چاہیے، البتہ وہ مسائل جن میں مختلف مکاتب فکر کا اختلاف ہے(مثلاً حاضر و ناظر، میلاد، علم غیب وغیرہ) اس میں اپنی رائے ہمیشہ معتدل رکھیں اور غیر جانبداری اور بناء کسی تعصب سے ہر ایک فریق کے دلائل کا مطالعہ معروضی طریقے پر کریں۔یعنی دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے پہلے سے کوئی چیز طے نہ کریں کہ آپ اس پر یقین کرنا چاہتے ہیں بلکہ قرآن و سنت سے ملنے والی روشنی سے فیصلہ کیجیے اور ہر قسم کے تعصب وبد دیانتی سے خود کو بچائیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہماری کمٹمنٹ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے نہ کہ کسی عالم یا کسی فرقے سے لہٰذا کوئی بات محض اس لئے نہ تسلیم کریں کہ بزرگوں نے اسے اسی طرح فرمایا تھا بلکہ اسے دلیل کی بنیاد پر دیکھیں ۔جو بات قرآن و سنت کے مطابق ہو، اور جس پر دل اور عقل مطمئن ہو اسے قبول کرلیجیے جو بات غلط ہو اسے رد کردیجیے اور خدا تعالیٰ سے اچھی امید رکھیں۔ساتھ ساتھ اپنے خیالات اور اعمال کا احتساب جاری رکھیں اور جب کبھی یہ واضح ہو کہ جس رائے پر پہلے تھے، وہ غلط تھی تو فوراً رجوع کر لیں۔

اس کے بعد یہ بات سمجھ لیجیے کہ جب ہم فرقہ پرستی سے بچنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آپ کسی بھی مکتب فکر کی کسی رائے سے متفق نہ ہوں، بلکہ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ حق صرف ایک ہی مکتب فکر میں محدود نہ سمجھیں۔فرقہ پرستی دراصل تب ہوتی ہے جب آپ کسی ایک ہی مکتب فکر کو مکمل طور پر حق سمجھ لیں۔ مکاتب فکر سے بیزاری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنی دنیوی زندگی (مذہبی معاملات) میں اس کی پوزیشن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مکتبِ فکر کی حیثیت اگر ایک رائے کی ہی رہے تو بہتر ہوتا ہے ۔ لیکن جب یہ گروہ بندی اور فرقہ واریت کی صورت اختیار کرلے ‘ اور ہمارا مسلک ہی ہمارے لیے سارا کا سارا دین بن جائے تو یہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔اگر آپ اسلامی تاریخ دیکھیں تو بے شمار مثالوں میں آپ کو ہمارے اسلاف کا یہی طریقہ کار نظر آئے گا کہ وہ فرقے کو نہیں مانتے تھے حق بات کو مانتے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حنفی علماء نے خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے اختلاف کیا لیکن انہیں اپنا استاد بھی مانا اور ان کے احترام میں کوئی کمی نہ کی ۔ اسی طرح دیگر علماء کا بھی معاملہ رہا۔امام ابوحنیفہ کے شاگر د امام محمد، امام مالک کے شاگرد بھی ہیں۔ یہ حضرات بعض معاملات میں کسی اور عالم دین کو ترجیح دیتے تھے اور بعض معاملات میں کسی اور کو۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ اور فرقہ واریت کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہمارا مسلک اور ہمارے مسلک کے علماء جو کچھ کہیں گے وہ حق ہی ہوگا اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی رویہ شخصیت پرستی اور فرقہ پرستی کہلاتی ہے۔دین کے متعلق اپنی تمام تر وفاداریاں حق کے ساتھ رکھیں نہ کے اپنے مکتبہ فکر سے ۔ کسی معاملے میں مکاتب فکر سے متفق ہوتے ہوئے شخصیت پرستی سے بچنا ہی دراصل مشکل کام ہے جس پر ہمارے اسلاف عمل کیا کرتے تھے۔ انہوں نے دینی معاملات میں بھی کسی بھی ایک شخص کو معیار نہیں بنایا بلکہ ہر ایک رائے پر احترام کے ساتھ تنقیدی نگاہ ڈال کر اس کا جائزہ لیا ۔ ذاتی الزامات پر مبنی کتابوں پر ہرگز توجہ نہ دیں، سبھی مکاتب فکر کی شخصیات کا احترام کریں ، ان کے علمی کام سے استفادہ کریں لیکن جہاں کہیں بات غلط معلوم ہو اختلاف بھی کیجیے، اور جہاں اپنی بات غلط معلوم ہو وہاں اپنی اصلاح میں کوئی شرم محسوس نہ کریں۔یہ آپ کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو دین اسلام کی مزید فہم سے نوازے۔ آمین۔ اگر جواب میں کوئی شک و شبہ رہ گیا ہو تو آپ بلا تکلف دوبارہ پوچھ سکتے ہیں۔ 
والسلام
حافظ محمد شارقؔ

اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں، ان کا ایک غیر جانبدارانہ (Impartial)مطالعہ کیا جائے اور ان کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ بھی لیا جائے۔

Saturday, 7 July 2012

فرقہ واریت; بہتر فرقوں والی حدیث


اتحاد امّت کانفرنس میں مجھ سے ایک صاحب نے فرقہ واریت سے متعلق ایک بہت اہم سوال کیا، ملاحظہ کریں:


’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ: بنی اسرائیل میں سے لوگ بہتر(72) فرقوں میں تقسیم ہوئے اور امت مسلمہ تہتر(73)فرقوں میں تقسیم ہو گی اِن میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنّت میں ، اور وہ ہے جماعت۔ ‘‘ کیا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی فرقے میں رہنا ضروری ہے ؟

الجواب:
(سائل علم حدیث اور اصول شریعت سے واقف نہیں ہے اس لیے جواب میں حدیث پر زیادہ فنی بحث نہیں کی گئی۔)
آپ نے جو حدیث بتائی وہ مکمل مشکوٰۃ شریف میں یوں ہے کہ :
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہوئی تھی اور میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی، تمام فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر ہوگا۔‘‘
سب سے پہلے تو اس بات کو سمجھ لیجیے کہ یہ حدیث جید محدثین نے قبول نہیں کی ہے   اور اسے ضعیف  قرار دیا ہے بالخصوص حدیث کا آخری حصہ کہ ایک میں اور باقی جہنم میں جائیں گے، اس پر محدثین نے خاصا کلام کیا ہے۔ یہ حدیث دراصل دوسرے تیسرے درجے کی کتابوں میں آئی ہے، یہ حدیث دوسرے انداز سے اور بھی کئی مجموعوں میں آئی ہے،لیکن سب کا حال یہی ہے۔  تاہم اس مضمون پر احادیث کی کثرت کی اور دوسرے طرق کی بناء پر یہ حسن کے درجے پر پہنچ جاتی ہے یعنی آپ اسے قابل قبول کہہ سکتے ہیں اور اس کے مضمون پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ بہت سے جید محدثین نے کیا ہے ۔
لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سے کسی مولانا صاحب نے بیان کیا ہے آپ کا سوال کہ اس حدیث سے فرقہ واریت کی تائید ہوتی ہے یا نہیں ، تو اس ضمن میں سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ آپ کی بیان کردہ حدیث مکمل کرنے کے لیے میں لفظ فرقہ استعمال کیا؛ لیکن آپ نے جو حوالہ دیا اس حدیث میں فرقے کا لفظ استعمال ہی نہیں ہوا، ’’ملت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔فرقہ اور ملت میں فرق ہوتا۔ کسی خاص سوچ و فکر کو اپنا دین بنا کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملت کہتے ہیں، مثلاً آپ حدیث کا انکار کرنے والوں کو ملت قرار دے سکتے ہیں۔ قادیانیوں کو ملت قرار دے سکتے ہیں، یعنی ایسے لوگ جو بنیاد سے ہی منحرف ہوجائیں ۔ اور فرقہ اسے کہتے ہیں جو دین اسلام میں ہی رہے لیکن کچھ معاملات میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے اپنا ایک الگ گروہ بنا لیں، کسی فروعی اختلاف کی بناء پر اپنی دو اینٹھ کی مسجد بنا لینا دراصل فرقہ واریت ہے۔ 
محض فقہی مسائل اور اْن میں بھی محض فروعی اختلافات کی بنا پر الگ الگ سوچ و فکر رکھنے والوں پر شرعی طور پر فرقہ ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ، البتہ اس مضمون کی بہت سی احادیث میں فرقے کا لفظ بھی آیا ہے مثلاً ابن ماجہ والی روایت میں لفظ فرقہ موجود ہے، لیکن ہم فرقہ بھی کہیں تو بھی اس سے فرقہ واریت کی دلیل نہیں بنتی ۔ کیونکہ اس میں فرقہ واریت کی پیشین گوئی ہے نہ کہ حکم۔۔ دین میں فرقہ واریت کی حرمت تو نص قطعی سے واضح ہے۔ اس حدیث کو قرآن مجید کی ہی روشنی میں سمجھنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ قرآن میں  بے شمار آیات فرقہ واریت کی مذمت کرتی ہیں۔

اور پھر ذرا یہ بھی سوچیں کہ جس جماعت کے جنتی ہونے کی بشارت آقا علیہ السلام نے دی ہے وہ کون ہے؟ خود اس کی وضاحت حدیث میں ہے کہ ما انا علیہ واصحابہ، یعنی جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر ہوگا۔ اس حدیث سے جو لوگ فرقہ پرستی کی دعوت دیتے ہیں میں انھیں کہتا ہوں کہ آپ ذرا یہ تو دیکھ لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا طرز کیا تھا؟ (وقت کم ہے اس لیے )میں آپ کو یہاں صرف صحابہ کرام کے متعلق بتاتا ہوں۔
صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے مابین بہت سے معاملات میں اختلاف تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے اختلافات تو ایک طرف میں آپ کو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہی تقریباً ۳۰ سے زائد مسائل میں اختلافات گنوا سکتا ہوں ان سب مسائل پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے بیٹھ کر گفتگو کی ، لیکن کیا کہیں سے کفر کے فتوے لگے؟ کیا کسی ایک صحابی نے اپنا علاحدہ فرقہ بنایا؟ کسی ایک صحابی نے (معاذ اللہ) یہ کہا کہ اختلافی مسائل میں میری ہی پیروی کرنا، ورنہ ایمان سے خارج ہوجاؤگے؟ جنت اور نجات صرف یہیں مل سکتی ہے۔ 
اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو خدارا میرے سامنے تاریخ سے کسی ایک صحابی کا صحیح قول پیش کردیں جنہوں نے کہا ہو کہ فلاں صحابی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا، فلاں کو کافر جاننا، فلاں کو سلام نہ کرنا، جیسا کہ ہم کہتے ہیں۔
سارے اختلافات کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین وہ تھے جو باہم محبت و اخوت سے رہتے تھے، آپس میں رشتے طے کرتے تھے، ایک دوسرے سے علمی و روحانی فیض حاصل کرتے تھے۔مگر افسوس کہ ہم اختلافات کرتے ہیں تو لڑتے بھی ہیں، فتوے بھی لگاتے ہیں؛ اور پھر انتہاء تو دیکھیں کہ اپنے ناپاک عمل کی دلیل نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بتاتے ہیں،ہمیں خدا کا کوئی خوف نہیں ہے، خدا کی قسم اگر وہ لوگ جن پر فتوے لگائے ہیں اگر ان میں سے ایک بھی اللہ کا ولی نکلا تو روز محشر ان تکفیری ملاؤں کی رسوائی ہی ہوگی۔ 

اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ (آمین)



حافظ محمد شارق